سیکورٹی...’’ہر چند کہیں کہ ہے ، نہیں ہے‘‘

Irfan Hussainجب بھی ائیر پورٹس پر مجھے جوتے اور بیلٹ اتارنے پڑتے ہیں تاکہ سیکورٹی حکام میری سخت تلاشی لے سکیں تو میں زیرِ لب اُسامہ بن لادن کو کوستا ہوں ، کیونکہ اس کی وجہ سے ہم پاکستانیوں کو یہ دن دیکھنے پڑے۔ میں اپنی بددعا میں رچرڈ ریڈ(Richard Reid) ، جو کہ برٹش شہری تھا اور مسلمان ہونے کے بعد بائیس دسمبر 2001 کو پیرس سے میامی جانے والی پرواز کو جوتوں میں چھپائے ہوئے دھماکہ خیز مواد سے تباہ کرنے کی کوشش کی،کو بھی شامل کرنا نہیں بھولتا ۔لگے ہاتھوں ، جبکہ مجھے ائیر پورٹس پر مختلف چیزیں اتارنے کو کہا جارہاہوتا ہے، میں اس قبیل کے تمام دھشت گرد گروہوں، جنھوں نے ہمارا فضائی سفر ایک کٹھن آزمائش میں بدل دیا ہے، کو نہایت خلوصِ نیت سے بددعا دیتا ہوں کہ خدا کرے وہ جہنم کے مہیب ترین عذاب کا مزہ چکھیں۔
ہماری آزمائش کا سفر صرف ائیرپورٹس پر ہی شروع نہیں ہوتا بلکہ جب مجھے پاکستانی سبز پاسپورٹ پر ویزہ لینا ہوتا ہے تو میں خود کو لوہے کے بدنما جنگلے میں مقید پاتا ہوں۔ چاہے ویت نام جانا ہو یا سپین، پاسپورٹ پرمطلوبہ مہرلگوانے کے لیے انتہائی تکلیف دہ ، بلکہ توہین آمیز ، عمل میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ میں اس بات کی فہم رکھتا ہوں کہ دوسرے ممالک پاکستانیوں سے اتنے خبردار کیوں رہتے ہیں... پوری دنیا ہمیں جہادی گروہ سمجھتی ہے جو دنیا کوتشدد سے زیرِ نگین کرنا چاہتا ہے...لیکن یہ تمام کاروائی اعصاب شکن ثابت ہوتی ہے۔یہ معاملہ ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا ہے۔ 9/11 کے بعد کی دنیا میں شکوک و شبہات کے نت نئے ناگ سر اٹھارہے ہیں۔ سنوڈن کی طرف سے راز وں کے افشا سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نیشنل سیکورٹی کے نام پر ناقابلِ تصور حد تک وسیع پیمانے پرافراد کی ذاتی زندگیوں میں جھانک رہے ہیں۔ ان کے اہداف غیر ملکی جاسوس نہیں بلکہ اسلامی دھشت گرد ہیں۔
خوف اور شکوک وشبہات کی اتنی گہری فضا دنیا میں امریکہ سے زیادہ اور کہیں نہیں ہے۔ کچھ سال پہلے جب میں اپنی کتاب کی تشہیر کے سلسلے میں بوسٹن ائیر پورٹ پر اترا تو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ قدم رکھتے ہی دھر لیا جاؤں گا۔ مجھے ایک خالی کونے میں لے جایا گیا جہاں یکے بعد دیگرے متعدد ہوم لینڈ سیکورٹی اور امیگریشن حکام نے مجھ سے ایک سوال ہی پوچھا...’’یہاں کیوں آئے ہو اور کتنا عرصہ ٹھہرو گے اور کن مقامات پر خطاب کروگے؟‘‘ان کے چہرے پر وہ خوش آمدید کی مسکراہٹ ، جو دیگر مسافروں اور تمام مہمانوں کے لیے ہوتی ہے، مفقود تھی۔ یہ ابتلا صرف ائیر پورٹ پر ہی نہ تھی بلکہ میں جہاں بھی گیا ، مجھ پر سیکورٹی حکام کی ’’نگاہِ کرم‘‘ جمی رہی۔نیویارک سے واشنگٹن کے درمیان چلنی والی امترک ٹرین (Amtrak train) میں سیاہ یونیفارم میں ملبوس افراد مسلسل چکرلگاتے رہے ۔ ان کے جرمن شیفرڈ ڈاگ اُن سے بھی زیادہ مستعدتھے۔ ہر آن خدشہ محسوس ہوتا تھا کہ ذرا سانس بھی برہم ہوگئی تو کتے کے کان کھڑے ہوجائیں گے۔ سیکورٹی حکام مسافروں کی فلم بناتے ہوئے بتارہے تھے کہ حفاظت کے پیشِ نظر ہمارے درمیان ’’سادہ کپڑوں والے‘‘ بھی موجود ہوسکتے ہیں۔ امریکہ میں خوف اور چوکنے پن کی فضا کو بی بی سی کے میٹ فریی(Matt Frei) نے اپنی کتاب ’’ Only in America‘‘ میں بہت عمدگی سے بیان کیا ہے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے اُس نے مشاہدہ کیا ...’’ ٹی ایس اے‘‘ (ٹرانسپورٹ سیکورٹی ایجنسی )ایسے افرادکو بھرتی کرتی ہے جوکم تنخواہ پر بھی کام کرنے کے لیے راضی ہوجاتے ہیں۔ اُنہیں یونیفارم پہنا کر بتایا جاتا ہے کہ وہ اس جنگ میں وطن کا ہراول دستہ ہیں اور اُنھوں نے ہر مسافر پر کڑی نگاہ رکھنی ہے۔ امریکہ حالتِ جنگ میں ہے۔ انکل سام خوفزدہ ، بلکہ سہما ہوا محسوس ہوتا ہے۔ جب طاقتور ممالک ڈر جاتے ہیں تو اُن سے عجیب وغریب حرکتیں سرزد ہوتی ہیں۔ واشنگٹن کا ائیر پورٹ، Dulles، جہاں بین الالقوامی پروازیں اترتی ہیں، ایک طرح کے قلعے میں تبدیل ہوچکا ہے۔ غیرملکیوں کو کئی گھنٹوں تک قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ اس وقت موبائل فون کا استعمال سختی سے منع ہے۔ لگتا ہے کہ ان سکیورٹی حکام کو خدشہ ہو کہ ان مسافروں ، جو تھکاوٹ اور نیند سے چور ہوتے ہیں، میں سے کوئی ہوائی حملے کا سگنل دینے والا ہے۔ یہاں امریکہ کی روایتی مہمان نوازی اور دوستانہ رویے کی جھلک بھی نہیں ملتی ہے۔‘‘ایک کسٹم افسر، جس کی گردن اُس کے چہرے سے موٹی تھی اور اس کا چہرہ آگ بجھانے والے انجن سے زیادہ سرخ تھا، سے نمٹنے کے بعد فریی لکھتا ہے...’’ائیر پورٹس پر روا رکھی جانے والی احتیاط اپنی جگہ پر لیکن کیا داخلی طور پر امریکیوں کو کہیں زیادہ خطرات کا سامنا نہیں ہے؟ کیا ٹریفک حادثات میں کم لوگ مارے جاتے ہیں؟ کیا ہر تین چار ماہ بعد کسی تعلیمی ادارے یا کسی شاپنگ مال میں ہونے والی اندھا دھند فائرنگ سے کم نقصان ہوتا ہے؟امریکہ میں گن خریدنا اور اس سے استعمال کرنا بہت آسان ہے...‘‘
اگرچہ برطانیہ میں خوف کی فضا اتنی گہری نہیں ہے لیکن پولیس اورسیکورٹی ادارے پوری کوشش میں ہوتے ہیں کہ کہیں وہ اپنے امریکی ’’ہم منصبوں ‘‘ سے مسابقت کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں۔ عام چیزیں، جیسا کہ ہیٹ یا چھڑیاں فروخت کرنے والی دوکانوں کے باہر بھی پولیس والے اس طرح ایستادہ ہوتے ہیں جیسے وہ شرلک ہومز فلم کے کردارہوں۔اکثر اوقات وہ سائرن بجاتی ہوئی گاڑیوں میں برق رفتاری سے ادھر اُدھرجاتے دکھائی دیتے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے جیسے بیرونی خلاسے کوئی پراسرار مخلوق حملہ کرنے والی ہے۔ میرا تجربہ یہ کہتا ہے کہ جب بھی آپ کسی عام شخص کو کسی قسم کی وردی پہنا دیتے ہیں تو آپ اس کی چال ڈھال اور برتاؤ میں غرور و تکبر کا عنصر داخل کردیتے ہیں۔ وہ خود کو ایسی اتھارٹی کاحامل سمجھنے لگتا ہے جو مافوق الفطرت طاقت کے زمرے میں آتی ہے۔ وہ یکایک سمجھنے لگتا ہے کہ ریاست اپنی پوری طاقت سے اُس کے پیچھے کھڑی ہے، چناچہ وہ کچھ بھی کرنے کے لیے آزاد ہے۔ چونکہ اُس نے اپنے اختیار کا عملی مظاہرہ دیکھنا ہوتا ہے، اس لیے عام لوگ اس سے فاصلہ برقرار رکھنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔
اگرچہ دیگر ممالک اپنے سیکورٹی بجٹ کو بڑھاتے اور اپنے قوانین میں ترامیم، جن کی موجودگی میں وہ جمہوریت سے زیادہ آمرانہ ریاستیں دکھائی دیتی ہیں، کرتے ہوئے انتہا پسندی کا سدِ باب کرنے کی کوشش میں ہیں، لیکن وہ واحد ملک جو کسی سے بھی زیادہ دھشت گردی کا نشانہ بنا ہے، بے حس وحرکت پڑا ہے۔ بے پناہ بم دھماکے اور بہنے والا خون بھی اس میں ارتعاش پید ا نہیں کرسکا ہے کہ عوام کی جان بچانے کے لیے کچھ تو کیا جانا چاہیے ۔ یہ ملک کوئی اور نہیں، پاکستان ہے۔ اس وقت ہمارے قوانین اور جج حضرات کے رویے سے ایسا لگتا ہے کہ ان کاتعلق کسی دوسری دنیا سے ہے۔ ان کی نظروں کے سامنے خون آلود ہاتھوں والے قاتل عدالت سے باعزت رخصت ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کے خلاف ’’شہادت ‘‘کافی نہیں ہوتی ہے۔ پولیس کی تربیت اور رسائی شہریوں کو تنگ کرنے تک ہی محدود ہے، وہ دھشت گردوں پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے ہیں۔ ان کے پاس ناکارہ سی بندوقیں ہوتی ہیں جن کے ساتھ جدید ترین اسلحے سے لیس دھشت گردوں کا مقابلہ ناممکن ہے۔ حال ہی میں خیبر پختونخواہ کے ایک سابقہ آئی جی اور کچھ سیاست دانوں کا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ وہ پولیس کے لیے ناکارہ ہتھیار خریدنے میں ملوث تھے۔ اس وقت پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کنفیوژن کا شکار ہے کہ دھشت گردی کے خطرے سے کیسے نمٹا جائے۔ اس مسلے پر دنیا کے کسی اور ملک میں دفاعی اور سول اداروں کے درمیان اتنی عدم مطابقت نہیں پائی جاتی ہے جس کا مظاہر ہ ہم اپنے ملک میں دیکھتے ہیں۔ دنیا میں کہیں بھی قاتلوں کے ساتھ مذاکرات، اور وہ بھی یک طرفہ، کی بات نہیں کی جاتی۔ دنیا میں بہت سے ممالک نے بڑی کامیابی سے دھشت گردی کا تدارک کیا ہے۔ ہمیں ان کے تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے ان قاتلوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کی بجائے انہیں کچل دینا چاہیے۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *