کوئی انقلاب نہیں آیا....

jngliریڈیو پاکستان ایف ایم سے تین سال جڑی رہی۔کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ہاں!موسیقی کی پہچان آ گئی ہے اور آوازوں کی بھی۔ لیکن آوازوں کی بنیاد پر میں اب بھی بندوں کو پہچاننے میں ناکام رہی ہوں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ میں انسانوں کو کبھی بھی سمجھ نہیں پائی۔ سب کو دو کان، ناک دو آنکھیں، ہونٹ ، گال،ہونٹوں سے بہتی رال، کہیں بنا صراحی کے تو کہیںصراحی دار گردن باکمال سبھی کچھ ملا ہے۔ کمی رہی تو دل کی۔ کسی کے پاس سائز میں چھوٹا ہے تو کسی کے پا س ہے ہی نہیں ۔ اور جس کے پاس بڑے سائز کا دل ہے بے کار ہے۔ کیونکہ اسے دل استعمال کرنا نہیں آیا۔ وجہ دماغ میں پائے جانے والے وہمی کیڑے۔
خدا ہو یا نہ ہو دماغی کیڑے ضرور پائے جاتے ہیں۔ ہر طرح کا دل اور ہر طرح کا دماغ رکھنے والے انسانوں میں۔ یہاں تک کہ ان انسانوں کے ذہن میں بھی کیڑے پائے جاتے ہیں جن کے ہاںدماغ کا سرے سے ہی وجود نہیں۔ البتہ دماغ کی جگہ بھوسہ ضرور کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ یہ تو مجھے غصہ آ رہا تھا ان تمام مردوں پر جو بچاری عورتوں کا چارہ بنا دیتے ہیں۔ عورتیں بھی کہاں بے چاری ہوتی ہیں۔ کس نے کہا ہے بے چاری بنیں۔ اپنے مردوں کو دیسی گھی کے پراٹھے ٹھسوائیں اور خود تازہ سوکھی روٹی اچاراور کچے دودھ کے ساتھ کھائیں ۔ ٹھیک ہے گاو¿ں میں عورتیں اب نہیں کھاتی ہوں گی لیکن میں تو شہر میں ہوتے ہوئے بھی تازہ روٹی پر دیسی گھی لگا کر، شکر ڈال کر ساتھ میں ہری مرچ کا اچار اور ڈبے والے دودھ کی لسی کے ساتھ ناشتہ کرتی ہوں ۔ سنا ہے گاو¿ں کی عورتیں اب ڈبل روٹی کھا رہی ہیں۔ گھر پر روٹی پکانا بند کر دی ہے۔جہلم میں تو ایسا ہی ہے۔ آگے پیچھے کا علم نہیں۔ اگر پنجاب کے کسی گاو¿ں میں اب بھی عورتیں روٹی پکاتی ہیں اور ڈبل روٹی ناشتے میں استعمال نہیں کر رہی تو بہت اچھے۔ میرا ڈبل سلیوٹ۔
لیکن سوکھی تازہ روٹی پر دیسی گھی خود لگا کر کھائیں تو بہتر ہے۔ ہاں کبھی کبھار گھر والے میرا مطلب ہے سرتاج جی کو گھی والی روٹی یا ڈالڈا گھی کے پراٹھے بنا دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن کبھی کبھار۔ کیا ہے کہ مرد دیسی گھی کھائیں یا ڈالڈا چڑھتی انہیں گرمی ہی ہے۔ جسے آپ پر نکالتے ہیں۔ نتیجہ کوئی گلی کے نکڑ پر کھڑا ٹلی پڑا اپ کی پڑوس کی دوشیزہ کو تاڑ رہا ہے اور اس کی سہیلی کو رات کسی سنسان میں لے جا کر رنگ رلیاں منا رہا ہے۔ لڑکے کا کچھ نقصان نہیں اسے کونسا کنوار پن گنوانا ہوتا ہے۔ لے دے کے شامت تو بچاری لڑکی کی آتی ہے۔ جنگ عظیم دوم سے زیادہ سنگین جنگ لڑی جاتی ہے۔ خون بہائے جاتے ہیں۔ اور ان سب میں بچاری کُڑی دا جو حشر ہو ،سو ہو ،ماں بھی پسی جاتی ہے۔ ہم بڑی آسانی سے یہ تو کہہ دیتے ہیں کہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہیں۔ لیکن مانتے نہیں۔ جب ساجھنے کی باری آتی ہے تو سب کھسک جاتے ہیں۔100میں سے 18باپ اپنی بیٹی کے سر پر دل سے ہاتھ رکھتے ہیں باقی دکھاوہ کرتے ہیں کہ کسی طرح یہ بوجھ اتر جائے۔
ہم 21ویں صدی میں ہیں۔ لیکن ترقی پسند ہونے اور آگے بڑھنے کی بجائے تنزل کا شکار ہیں۔ پچھلے دنوں مجھے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ چھوٹی بیمار ہے۔ اسپتال چیک اپ کرانے اور دوائیاں لینے کے بعد میں گھر آ رہی تھی راستے میں پیر سلیمان پارس کی طرف ایک نالہ ہے جہاں میں ایک ایسی عورت دیکھی جس کا چہرہ بری طرح سے جھلسا ہوا تھا۔ پاس ہی ایک شخص کاسہ لئے بیٹھا تھا۔ عورت کے چہرے پر آنکھیں نہیں تھی، ناک نہیں تھی البتہ ناک کے سوراخ موجود تھے۔ کانوں کی حالت بگڑی ہوئی تھی۔ پہلی منطقی بات یہی ذہن میںآئی کہ یہ زندہ کیسے ہے؟ جب کہ اس کا جسم کسی بھی فارم میں نہیں ہے۔ ہونٹ نہیں ہیں، کان اپنی اصل حالت کھو چکے ہیں، آنکھیں نہیں اس کا تو چہرہ ہی نہیں۔ سوا ل تو یہ ہے کہ اس عورت سے اس کی زندگی چھیننے کا حق کس نے چھینا۔میں بس اتنی ہی ہمت کر پائی کہ جا کر پوچھا :”اماں جی! یہ سب کیسے ہوا؟“ چہرہ پوری طرح سے خراب تھا۔ سوال کرنے پر معلوم ہرا وہ بول نہیں سکتی، پاس بیٹھے کاسہ اٹھائے آدمی نے جواب دیا:” ان کے بیٹے نے کیا ہے ۔ اب ہم دو جی گھر نہیں جاتے۔میں نے ان سے شادی کر لی تو بیٹے نے غصے میں آکر تیزاب پھینک دیا۔“ چونکہ میں ذرا کمزور دل واقع ہوئی ہوں لہٰذا ”کرم جلی“خاتون کو تاڑنے کے بعدمیری حالت غیر تھی، مجھے چھوٹی ہی سنبھال کر گھر لائی۔ وہ بے چہرہ عورت اب تک میرے دماغ کے تمام گوشوں میں ہے۔ میں ہستی ہوں ،روتی ہوں ،کھاتی پیتی ہوں،وقت اپنی رفتار سنبھالے چل رہا ہے، کوئی کام نہیں رکا، ہمارے پاس اتنا وقت کہاں کہ کچھ پل رکا جائے اور معلوم کیا جائے چہرے کو جھلسانے کی آخر کیا وجہ ہے وہ بھی ایک عورت کے چہرے کو جھلسانا۔ جو مرد ایسا کرتا ہے وہ حقیقتاً بزدل ہے۔ دنیا میں بڑے بڑے ڈرپوک مرددیکھے ہیںلیکن خدا ایسے حاسد ڈرپوکوں سے بچائے جو اپنے حسد اور ڈر کے لئے کوئی بھی انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں۔
پاکستان میں ایسڈ سے عورتوں کے چہرے جلانے کے واقعات آئے روز ہوتے ہیں۔ زلزلے تو ان واقعات کی دین ہیں، کہیں جہیز کے نام پرمٹی کا تیل پھینک کر آگ لگا دی جاتی ہے پھر چاہے آگ لگانے والا باپ ہو، سسر ساس ہو یا شوہر،خدا کا قہر اس آگ کی دین ہے، کہیں کوڑے لگائے جاتے ہیں تو کہیں پردے کے نام پر شٹل کاک اور مالم جبہ کی پہاڑیوں جیسے بڑے اور شاندار برقعے زبردستی پہنائے جاتے ہیں، زلزلے ان گھٹیا سوچوں کی دین ہیں، بچوں سے کیا دشمنی، وہ تو خدا کا روپ ہیں نا پھر بچوں میں بھی بچی بچہ کی جنس نکال امتیازی سلوک کر لیتے ہیں کہ کہیں کچھ بچ نہ جائے۔یہ خدا کا قہر ہے۔عورتوں کو ننگا کرو تم اور سزا بھگتیں عورتیں ، یہ خدا کا قہر ہے زلزلے تو آئیں گے۔ کیلاشی نورستانی ’کافر‘ ہیں تو کیا،خدا کی ناراضی کا سبب تو نہیں۔ میں نے آج تک کیلاشیوں کے بارے عورتوں کے ساتھ زیادتی اور غیر انسانی سلوک کی خبر نہیں پڑھی ہو سکتا ہے کہ میں غلط ہوں مگر میں صحیح بھی ہو سکتی ہوں۔
ہماراوزیر اعظم اگر ہندوو¿ں کے کسی تہوار میں شامل ہو بھی جاتا ہے اور رسوم کی ادائیگی کر بھی لیتا ہے تو کیا بات ہو گئی؟ کونسا قہر پبا ہو گیا؟ کوئی انقلاب تو نہیں آیا۔ وزیر اعظم نے شلوکیں تو نہیں یاد کر لی نا۔ اپنے کسی فرض کی ادائیگی میں تو کوتاہی نہیں کی ۔ (جو فرض اس نے کبھی اداکیا ہی نہیں، اس میں کوتاہی کیسی)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *