آرمی کی وارننگ

محمد شہزاد

muhammad Shahzadفوجی قیادت کے بیان کیساتھ ہی سیاستدانوں کے پیٹ میں پھر سے وہی پرانا مروڑ اٹھنا شروع ہو گیا۔۔فوج سویلین حکومت کے تابع ہے اور اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہی ہے!ارے بھائی یہ آپ کو ڈھائی سال بعد پتہ چلا؟ ڈھائی سال تک تو آپ لوگ اپنے پیروں پہ خود کلہاڑی مارتے رہے اور آج درد کی شکایت کرتے ہیں۔ اپنے ہاتھوں سے فوجی عدالتیں قائم کیں اور اپنی ناکامی کا اعتراف کیا۔ اس وقت تو یہ مروڑ نہیں اٹھا۔ کیا یہ ڈوب مرنے کا مقام نہیں کہ موجودہ حکومت اپنی آدھی معیاد پوری کرنے کو ہے مگر آج تک اسے کوئی ڈھنگ کا فارن منسٹر تک نہیں ملا۔ کیا یہ سویلین حکمرانوں کا نکما پن نہیں کہ دھشت گردی کیخلاف قائم اہم ادارہ NECTAچھ سالوں سے بنا باقاعدہ سٹاف کے چل رہا ہے اور ابھی تک اسکے سروس رولز بھی مرتب نہیں کیے گئے۔ کیا کبھی سنا کہ سول حکومت نے کوئی محرم کوئی الیکشن کوئی آسمانی آفت فوج کی مدد کے بغیر بھگتایا ہو۔ سوات میں فوجی آپریشن مکمل ہوئے کئی سال گذر چکے مگر آج تک سول حکومت انتظام دوبارہ ہاتھ میں لینے کے لئے تیار نہیں۔ فاٹا کے لوگوں کی اکثریت کے پی صوبے کے ساتھ الحاق چاہتی ہے مگر موجودہ حکومت عملی اقدامات کرنے کی بجائے کمیٹیوں پہ کمیٹییاں تشکیل دیے جا رہی ہے۔ جب تحریک طالبان ہمارے بچوں کو ان کے سکولوں میں گھس گھس کے قتل کر رہی تھی اس وقت سول حکمران دھشت گردوں کیساتھ کمیٹیوں کے ذریعے امن کی بھیک مانگ رہے تھے۔ سول حکمرانوں کی دھثت گردی سے نمٹنے کی صلاحیت کی معراج بس موٹر سائیکل پرڈبل سواری پر پابندی اور موبائل فون سروس معطل کرنے تک محدود ہیں۔ اور انکا بیک گراوئنڈ اٹھا کر دیکھا جائے تو فوراً پتہ چل جائے گا کہ یہ سیاستدان نہیں بلکہ فوجی ڈکٹیٹروں کے طفیلئے تھے ۔ فوجیوں کے تلوے چاٹنے کے نتیجے میں نوازے گئے اور آج ہمارے حکمران ہیں۔
فوج سویلین حکومت کی دھشت گردی سے لڑنے کی کارکردگی پر خوش نہیں۔ اس میں کیا غلط ہے۔ اس سوال پر عوامی سروے کروالیں۔ عوامی رائے فوجی بیان سے متفق ہو گی۔ فوج تو بہت پہلے سے دھشت گردوں کیخلاف آپریشن کرنا چاہ رہی تھی مگر شریف برادران امن امن کی رٹ لگا رہے تھے۔ یہ لوگ تو طالبان کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔ اگر موجودہ آرمی چیف نے شمالی وزیرِستان میں آپریشن شروع نہ کیاہوتا تو سویلین آج بھی طالبان سے مذاکرات کررہے ہوتے۔ سچ تو یہ ہے کہ سویلین حکمرانوں کے نزدیک دھشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج کا مسئلہ ہے۔ سویلین حکمرانوں کا مسئلہ تو میٹرو بس، اورنج لائن، انڈر پاس اور اسلام آباد ھائی وے کو سگنل فری بنانا ہے۔ کیوں نہ ہو۔ ان کاموں میںنہ صرف بھاری کمیشن ملتا ہے بلکہچمچے بھی نوازے جاتے ہیں۔
ہمارے سیاستدانوں کے نزدیک جمہوریت صرف ایک ہی سبق پر مشتمل ہے اور وہ ہے فوج کو اپنے تابع کرنا۔ سیاست کے اوربھی ابواب ہیں جنہیں یہ مانتے ہی نہیں۔ مثلاً جمہوریت میں موروثیت کا کوئی تصور نہیں۔ ہمارے سیاستدانوں نے سیاسی جماعتوں اور کارکنوں کو گھر کی لونڈی اور غلام بنا دیا ہے۔ حمزہ شریف عمر میں ایاز صادق کے بچوں جیسا ہے۔ مگر دیکھا کیسے اسنے ایاز صادق کا گال تھپتھپایا جب وہ پارلیمنٹ میں حلف اٹھانے آئے۔ ایسے جیسے کوئی اپنے نوکر کو شاباش دیتا ہے!
جمہوریت کا اصل سبق لوگوں کے حقوق کی پاسداری ہے۔ قانون کا احترام ہے۔ جمہوری اداروں کا احترام ہے۔ فوج میڈیااورعدالتِ عظمیٰ کو قابو کرنا ہمارے سیاستدانوں کا دیرینہ خواب ہے۔ اس خواب کو پایہ تکمیل تک پہچانے کیلئے وہ صرف حماقت کا سہارا ہی لیتے ہیں۔ بھٹو صاحب نے ایک انتہائی جونئیر جرنیل کو آرمی چیف لگایا کہ وہ ان کا وفادار رہے گا۔ اسی جونیئر نے نہ صرف بھٹو صاحب کا تختہ الٹا بلکہ انہیں پھانسی کے جھولے پہ لہرا دیا۔ یہی غلطی نواز شریف نے دھرائی۔ جونئیر مشرف کو آرمی چیف لگایا۔ پھر اسی کو ہٹانے کیلئے ضیاءالدین بٹ کو آرمی چیف اسوقت لگایا جب مشرف سری لنکا کے دورے پر تھے۔ مشرف کے جہاز کو پاکستانی ائر پورٹ پر اترنے نہ دینا کونسا جمہوری عمل تھا۔ نتیجتاً اقتدار پر پھر فوج قابض ہو گئی۔ کونسی جمہوریت یہ سکھاتی ہے کہ سپریم کورٹ کے ججوں کو نیچے لگانے کے لئے اس پر غنڈے چھوڑ دیے جایئں۔ کس جمہوریت میں یہ لکھا ہے کہ سیاستدان اپنی آمدورفت کے لئے گھنٹو ں عوام کا راستہ روک دیں۔ مریض ایمبولینس میں سسک سسک کے مر جائیں۔ حاملہ خواتین رکشوں میں بچوں کو جنم دیں۔ ہمارے سیاستدانوں کے قافلے دیکھئے۔ سینکڑوں گاڑیاں شور مچاتی آتی ہیں ۔عوام کو پرے دھکیل دیا جاتا ہے۔ ایسا تو ظلِ الہی کے زمانے میں بھی نہیں ہوتا تھا۔
سچ تو یہ ہے کہ سیاستدان جب اقتدار میں آتا ہے تو وہ فوجی آمر سے بڑھ کر آمر بننا چاہتا ہے۔ اور اس مقصد کے حصول کیلئے وہ کسی قانون کو خاطر میں نہیں لاتا۔ صرف تین ادارے اس کے قابو میں نہیں آتے: میڈیا، فوج اور عدلیہ۔ اور جب اسے اپنے مذموم ارادے ناکام ہوتے دکھائی دیتے ہیں تو وہ جمہوریت کا ڈھول پیٹنا شروع کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کی جب اسکا تختہ الٹا جاتا ہے تو نہ عوام اسکا ساتھ دیتے ہیں اور نہ ہی سیاسی کارکن۔ ایسا ہی بھٹو صاحب کیساتھ ہوا۔ ایسا نواز شریف کیساتھ دو بار ہوا ۔ عوام نے مٹھائیاں باٹیں اور سیاسی دوست مشرف کے تلوئے چاٹنے لگے۔ کیسی بدنصیبی ہے کہ آج وہی سیاسی دوست پھر سے نواز شریف صاحب کے تلوئے چاٹ رہے ہیں۔ کسی نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
دنیا فتح کرنے کیلئے کسی فرعونی طاقت کی ضرورت نہیں۔ انسانیت سے پیار ہی کافی ہے۔ فوج کو فتح کرنا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ دیانتداری اور ملک سے خلوص ہی کافی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *