اک پٹواری اور کچھ ننگے

wisi babaہم لوگوں کو ڈیرے پر سلانے کی کوشش ہو رہی تھی۔ حتمی کوشش کے طور پر دیسی چپل بھی اتار کر دکھا دی تھے ہمارے بزرگ نے ہمیں۔ ہم لوگ لیٹ بہر حال گئے تھے۔ اتنے میں تھوڑی دور بندھے سنڈے نے ایک بڑی سی باں کی۔ یہ باں بہت محنت سے حاصل کی گئی تھی۔ سنڈے کو سوئی چبھو کر جب سنڈے نے تعاون بھری باں فراہم کر دی تو ہمارا کزن بولا ابا سنڈے نوں گرمی لگ رئی یعنی ابا سنڈے کو گرمی لگ رہی ہے۔ ابے نے جواب میں سنڈے کو عیاشی بلکہ گرمی دور کرنے کے لئے جو پیشکش کی تھی اس کے جواب میں کزن بولا ابا میں گھر دس دینا ای یعنی میں نے گھر بتا دینا ہے ساتھ ہی التجا کی کہ ابا ہم سنڈے کو نہر پر لے جائیں نہلانے کے لئے۔ ابا ایک ہی جملے میں موجود دھمکی اور سوال سب سمجھ گیا بولا چلے جاو¿ لیکن کوئی حرامدہ کم نہ کرنا۔ نہیں تو وڈے ابے کے منہ میں پھر کتا بھونکنے لگ پڑتا ہے۔ کزن نے کہا ابا میں دادے کو ضرور بتاو¿ں گا کہ اس کو کیا کہہ رہے تھے۔
ان مختصر مذاکرات کے بعد ہم لوگوں کو اجازت مل گئی اور ہم نے سنڈا کھولا۔ اردگرد کے ڈیروں سے کزنوں کو آواز دی اور نہانے کے لئے نہر کی جانب روانہ ہو گئے۔ کزن نے راستے میں سنڈا ایک انتہائی آرزو مند بھینس اور اس کے مالک کسان کو تھوڑی دیر کے لئے فراہم کر کے کافی سارے پھیکے خربوزوں کا بندوبست بھی کر لیا تھا جن پر ڈالنے کے لئے گھر سے چھپائی ہوئیشکر ہمارے پاس بہت تھی ۔
نہر پر پہنچے تو پتہ لگا کہ پندرہ عدد شیر جوانوں کے پاس نہانے کے لئے لنگوٹیاں نیکر وغیرہ کل ملا کر پانچ چھ ہی ہیں اگر اپنی شلواروں میں نہاتے تو ان میں پھنسی ریت دیکھ کر گھر میں ہماری لتریشن ہماری ماو¿ں پرفرض ہو جانی تھی ۔ میں ایک درخت کی اوٹ میں کپڑے بدلنے کی تگ و دو کر رہا تھا کپڑے اتار کر بس نیکر ہی پہننی تھی کہ میرا گونگا کزن میرے کپڑے سمیت میری نیکر کے اٹھا کر بھاگ گیا۔
میرے شور مچانے پر سارا لوفر ٹولا میرے نزدیک پہنچا مجھے دیکھ کر شدید صدمہ ہوا کہ سارے ہی ننگے تھے۔ ہمارے ہیڈ لوفر جو ہمارا راہنما تھا نے کہا ۔ ویرے کچھے پورے نہیں تھے اس لئے میں نے سب کو بولا کہ ایک دوسرے میں کیا فرق قائم کرنا ہے ۔ سب ہی ننگے نہاتے ہیں۔ سنڈا بھی تو ہمارا بھائی ہے نہر میں ننگا خوش و خرم بیٹھا ہے۔ آ جا نہاتے ہیں۔
میں نے صاف انکار کیا جسے سن کر مجھے کہا گیا کہ.... بیٹھا رہ پھر۔ بارہ چودہ ننگوں نے دوڑ دوڑ کر جب نہر میں چھلانگیں لگائیں تو کیا نظارے بنے کہ دیکھی جاو¿ شرمائی جاو¿۔ مجھے بہت شوق رہا ہے ایک عدد کلہاڑی ساتھ رکھنے کاجب بھی باغ جانا یا کھیتوں میں ۔ سندھ کے دیہات میں بھی میں نے لوگوں کو کلہاڑی ساتھ رکھتے دیکھا ہے شاید اس کا کوئی تعلق وہاں سے تھا۔
خیر میں ٹاہلی (شیشم) کے درخت پر چڑھ کر بیٹھ گیا کچھ ستر پوشی سی ہو گئی۔ وہاں سے ساتھیوں کو نہاتا نہر سے باہر نکل کر نہر میں چھلانگیں لگاتا دیکھتا رہا۔ پھر اپنی کاروباری طبعیت کے تحت تھوک کے حساب سے مسواکیں کاٹنی شروع کر دیں۔ انکو بہت ترتیب سے بڑے پیار سے گھڑ رہا تھا صورتحال سے مکمل بے خبر تھا۔ پتہ ہی نہیں لگا کہ کب محکمہ انہار کا ہیڈ پٹواری اپنی دلہن اور ماں کو موٹرسائکل پر بٹھائے ہمارے سر پر پہنچ گیا۔ اس نے درخت کے نیچے سائکل روک کر اوئے ننگے اتر نیچے کا نعرہ لگایا۔ میں ڈر گیا۔ پٹواری صاھب شیر ہو گئے۔
ہمارا بعد میں یہ مشترکہ خیال تھا کہ وہ اپنی بیگم کو سسرال سے پہلا چکر لگوا کر لا رہا تھا اسے مکلاوا کہتے ہیں۔ اس کو اپنی افسری بلکہ آج کے حالات میں گڈ گورننس دکھانے کا شوق ہوا۔ دس گیارہ سال کے ایک ننگے لڑکے پر رعب ڈال کر ایسا کر کے شاید وہ اپنی منکوحہ کو زیر کرنا چاہتا ہوگا عمر بھر کے لئے۔ میں نیچے اتر آیا کہ نہر کے اندر سے ہمارے راہنما نے پٹواری کو آواز دی کہ کون ہو تم لڑکے کو کیوں بلایا ہے۔
نہر میں نہانا جانور لے کر گھسنا جرم ہوتا۔ پٹواری صاھب جو ایک ننگے لڑکے پر رعب ڈال کر ہی منکوحہ کو مستقل رام کرنا چاہتے تھے پندرہ عدد لڑکوں کے جتھے سے نمٹنے کے لئے ہر گز تیار نہ تھے اب بہادری دکھانی تھی کہ صرف منکوحہ ہی نہیں بلکہ ماں بھی ساتھ تھی اس لئے اپنا جی کڑا کر کے بولے باہر نکلو تسی سارے۔ وہ سب جب ننگ دھڑنگ باہر نکل کر ذاتی اسلحے کی نمائش کرتے پٹواری صاحب کی جانب آنے لگے تو پٹواری کی ماں اس سے بولی در فٹے منہ کنجرا تیرا۔ اپنی رن نوں ایہی دکھانا سی۔ بولا تو اس نے کچھ اور تھا آپ یہی سمجھیں کہ ماں نے کہا کہ اتنے ننگے دکھانے تھے۔
پٹواری صاھب نے پھر التجا کی کہ کوئی شرم کرو ۔نہر وچ وڑ جاو¿ ۔اس التجا میں اتنی طاقت تھی کہ میں بھی شرمانا ترک کر کے الف حال نہر میں جا کودا۔
بہت بچپن میں ہی یہ سبق سیکھ لیا تھا کہ طاقت کا مظاہرہ ایسے ہی کیا جائے تو سامنا ننگے حقائق سے بھی ایسے ہو سکتا کہ پھر ساری زندگی ضرورت کے وقت بھی یہ مظاہرہ کرنے کا یارا نہ رہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *