شام کا مسئلہ اور دہشت گردی

zeeshan hashimفرانس ایک بار پھر حملوں کا شکار ہوا ہے ، 128 سے زائد لوگ ہلاک ہوئے ، اور تقریبا اسی سے زائد زخمیوں کی حالت انتہائی نازک بتائی جا رہی ہے - فرانسیسی میڈیا کے مطابق گزشتہ دو ماہ میں فرانسیسی انٹیلی جنس ذرائع نے تین ایسے منصوبوں کا وقت سے پہلے پتا لگایا جن میں عوامی تفریحی مقامات اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا ،منصوبہ ساز پکڑے گئے ،اسی سبب سیکورٹی ہائی الرٹ تھی ، مگر حالیہ حملوں کی کوئی پیشگی انٹیلی جنس معلومات نہیں پائی جاتی تھیں۔ فرانسیسی میڈیا حکومت پر تنقید کر رہا ہے کہ جب گزشتہ دو ماہ میں تین حملوں کے منصوبے ناکام بنائے گئے تو سیکورٹی کو مزید سخت کیوں نہ بنایا گیا ؟ جبکہ حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے لوگوں کی آزادی متاثر ہوتی جس کے سبب حکومت پر تنقید بڑھ جانے کا خطرہ تھا ۔
یہ حملے جن مقامات پر ہوئے ہیں وہ مسلم اکثریتی علاقے ہیں ،اسی لئے یہ گماں کیا جا رہا ہے کہ جب ہلاک شدگان کی لسٹ فراہم کی جائے گی تو اس میں ایک بڑی تعداد مسلمانوں پر بھی مشتمل ہو گی - یاد رہے کہ فرانس میں مسلمان وہاں کی دوسری بڑی اکثریت ہیں ، اور پورے یورپ میں مسلمان سب سے زیادہ اس ملک میں پائے جاتے ہیں -
فرانسیسی سربراہ کا کہنا ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے ۔ سات دنوں کے لئے کسی بھی عوامی اجتماع پر پابندی ہے ،اسی سبب یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ عوام کا ردعمل ان واقعات کے بعد کیا ہونا ہے ۔ یاد رہے کہ گزشتہ چارلی ہیبڈو حملوں کے بعد عوام نے پینتیس لاکھ کی تعداد میں سڑکوں پر مارچ کر کے دہشت گردی سے نفرت اور اس کے مقابلہ میں ثابت قدمی کا اظہار کیا تھا - ان سات دنوں میں پیرس کی عوام ہلاک شدگان کی یاد میں اپنی کھڑکیوں میں موم بتی جلائیں گے جیسا کہ گزشتہ شب کیا گیا -
موجودہ فرانسیسی حکومت کا تعلق سینٹر لیفٹ سے ہے ، جبکہ مدمقابل اپوزیشن سنٹر رائٹ کی ہے جس میں "سرکوزی" گزشتہ حکومت کے سربراہ تھے ، مگر وہ سیاسی جماعتیں یا گروپ جن کا تعلق شدت پسند دائیں بازو سے ہے ،جو امیگریشن پالیسیز کی انتہائی مخالف ہیں - اندازہ یہی لگایا جا رہا ہے کہ ان واقعات سے ان شدت پسند دائیں بازو کی طاقتوں کو زیادہ توانائی ملے گی ، اور مسلمانوں و یہودیوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو گا -
اہم سوال جو فرانسیسی حلقوں میں اٹھایا جا رہا ہے وہ سیکورٹی کا مسئلہ ہے - فرانسیسی دانشورانہ مکالمہ اس سوال پر سوچ رہا ہے کہ اگر سیکورٹی مزید سخت کی جاتی ہے خاص طور پر سائبر سیکورٹی تو اس سے ایک طرف لوگوں کی خلوت متاثر ہو گی تو دوسری طرف فرانسیسی معاشرہ کی تنوع پسندی پر ضرب پڑے گی - خاص طور پر اقلیتیں ان کو امتیازی سلوک کے طور پر محسوس کریں گی یوں مسلم نوجوانوں میں احساس کمتری میں اضافہ ہو گا جس کے سبب ان میں ’شناخت کا بحران‘ پیدا ہو گا جو انہیں شدت پسندی کی طرف راغب کر سکتا ہے - جیسا کہ باقی مغربی ممالک میں ایسا دیکھنے میں آیا کہ سخت سیکورٹی اقدامات میں مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ صرف انہیں شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے -
یہ تو طے ہے کہ شام اور داعش کے مسئلہ کے حل میں یکسوئی بڑھے گی اور امریکہ و روس کی قیادت میں دیرپا اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ شام کا مسئلہ انتہائی گھمبیر ہو چکا ہے جسے حل کئے بغیر داعش کا مسئلہ حل نہیں ہو گا - روس ،ترکی اور ایران اسد کی حمایت میں یکسو ہیں تو امریکہ سعودیہ و اتحادی اسد مخالف قبائل و باغیوں کی حمایت میں جڑے ہوئے ہیں ، روس نے داعش سے زیادہ بمباری کردوں اور اسد مخالف قبائل و باغیوں پر کی ہے ۔ اس سیاسی اختلاف کا سب سے زیادہ فائدہ داعش اٹھا رہی ہے - اگر یہ مسئلہ حل ہوتا ہے تو دوسرا مسئلہ ’زمینی فوج‘ کا ہے ۔ امریکہ نے سب سے پہلے کوشش کی کہ ترکی کو اتارا جائے ۔ ترکی کہتا ہے کہ داعش کے مقابلہ میں وہ سوویت یونین والا پاکستان نہیں بننا چاہتا ۔ ایران صرف شیعہ عراقی علاقوں کے دفاع سے آگے نہیں بڑھنا چاہتا ، روس و امریکہ فضائی بمباری سے آگے نہیں بڑھنا چاہتے کیونکہ زمینی دستوں میں ہلاکت کے زیادہ امکان کے سبب کوئی بھی اپنے ملک میں عوامی مقبولیت نہیں کھونا چاہتا - روس چاہتا ہے کہ اسد کی فوج کو زیادہ سے زیادہ طاقتور بنا کر آگے لایا جائے ، جبکہ امریکہ چاہتا ہے کہ کردوں ،اور باغی قبائل کو طاقتور بنا کر آگے لایا جائے- ..
روسی و امریکی فضائی بمباری سے زیادہ نقصان عام افراد کا ہوا ہے کیونکہ داعش عام لوگوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے ، دوسری طرف باوجود بھرپور روسی بمباری کے داعش کمزور نہیں ہو سکی -فضائی بمباری کا فائدہ صرف اس وقت ہے جب زمینی فوج ساتھ ساتھ پیش قدمی جاری رکھے - یاد رہے کہ روسی حملوں کے باوجود بھی داعش نے شام کی طرف گزشتہ ہفتے پیش قدمی کی ہے ، دوسری طرف اسد کی فوج نے بھی نئے علاقوں پر قبضہ کیا ہے - محسوس یہ ہوتا ہے کہ روسی بمباری نے شام میں اسد مخالف دھڑوں کو زیادہ نقصانات پہنچایا ہے جس کے سبب ان کی داعش اور اسد کی حمایتی فوج کے خلاف مزاحمت میں کمی آئی ہے -
ایک اور بحث جو بین الاقوامی میڈیا میں دوبارہ سے شروع ہو گئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر داعش و القاعدہ کی بین الاقوامی دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے تو ان کو مدد فراہم کرنے والی دیگر جہادی تنظیموں کے خلاف بھی کارروائی کرنی ہو گی جیسے الشباب بوکوحرام وغیرہ - حیران کن طور پر اس میں جماعت الدعوہ کا بھی نام لیا جا رہا ہے کہ اس کے لندن جیسے شہروں میں سلفی اسلام کے سلیپنگ سیلز ہیں - تو امکان یہ ہے کہ پاکستان پر بھی دباو¿ میں بہت زیادہ اضافہ ہو گا کہ شدت پسند گروہوں بالخصوص جماعت الدعوہ کے خلاف کاروائیوں میں مزید سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے -
امریکہ میں ریپبلکن حکومت (بش دور ) کی پالیسیاں بہت زیادہ جارحانہ تھیں جبکہ ڈیموکرٹس (اوباما ) دور کی پالیسیز نرم رہی ہیں ، اس دوران جنگ کا نیا محاز بھی نہیں کھولا گیا ہے اور نہ ہی زمینی دستے کسی نئی جگہ اتارے گئے ہیں ، داعش کے خلاف بھی یہی کہا جا رہا ہے جیسا کہ فارن افیئر جیسے سنجیدہ میگزین نے لکھا ہے کہ شام و عراق کا بحران اور اس سے داعش کا جنم دراصل اوباما کی نرم مزاج پالیسیز کا نتیجہ ہے اور یہی بات ریپبلکن بھی دہرا رہے ہیں کہ اگر عراق سے امریکی فوجیں نہ نکالی جاتیں تو عراق میں بحران نہ پیدا ہوتا ، یہی سبب ہے کہ افغانستان سے اتحادی فوج نکالنے کا منصوبہ ملتوی کر دیا گیا ہے - اگر اگلی حکومت امریکہ میں ریپبلکن کی بنتی ہے تو خارجہ پالیسی میں ہمیں دوبارہ جارحانہ رویہ ملے گا۔ ڈیموکریٹس کی حکومت بنی تو اوباما کی خارجہ پالیسیز کو تسلسل تو ملے گا مگر اس میں بھی جارحانہ پن بہرحال بڑھے گا -
شامی مہاجرین کو یورپ میں خوش آمدید کہنے کے سرکاری و عوامی رویہ میں کمی آئے گی اور اس کا حل وہی متوقع ہے جو کہ ترکی و انجیلا مرکل نے تجویز کیا ہے ، مہاجرین کو ترکی میں ہی روکا جائے ،اور ان کے تمام اخراجات اگر یورپ ادا کرے تو ترکی ان کی کفالت بھی کرے گا اور انہیں یورپ میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے ہرممکن اقدامات بھی کرے گا - کیونکہ ان آٹھ حملہ آوروں میں جن تین کی فی الوقت شناخت ہو چکی ہے ان میں ایک فرانس میں ہی جنم لینے والا مسلمان باشندہ ، دوسرا مصری ، اور تیسرا شامی ہے جس کے بارے میں جو شواہد سامنے آئے ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ اس نے بطور مہاجر یونان سے سرحد پار کیا-
ایک بات جس کا امکان زیادہ لگ رہا ہے کہ مغرب ان حملوں کے بعد پہلا جیسا نہیں رہے گا کیونکہ امریکہ و یورپ کے باقی شہروں میں بھی دہشت گردی کا خطرہ بہت زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے ، یوں اقدامات ناگزیر ہیں ،اور ان کے دوررس اثرات ہوں گے -

شام کا مسئلہ اور دہشت گردی” پر ایک تبصرہ

  • نومبر 16, 2015 at 6:43 AM
    Permalink

    بہت شانداراور معلومات سے بھرپور تجزیہ ہے. صرف ایک چھوٹی سی غلطی کی نشاندہی کرنے کی جسارت کروں گا. ترکی شام کے صدر بشار اسد کا حمایتی نہیں، مخالف ہے. داعش کے منظرعام پر آنے اور شام و عراق کے ایک بڑے حصے پر اس کے قبضے کے بعد صدر اباما شام کا مسئلہ حل کرنے کے لئے ایک درمیانی راستہ اختیار کرنے پر مائل ہوتے نظر آتے تھے. یعنی وہ صدر اسد کو اقتدار سے ہٹانے کے مطالبے سے دستبردار ہونے کو تیار تھے. مگر ترکی کے طیب اردوگان اور سعودی عرب کے شاہ بشار اسد کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے پر آمادہ نہ ہوئے. ان کا اصرار تھا کہ اسد کو ہر قیمت پر اقتدار سے ہٹایا جائے.
    ایران داعش کے خلاف نہ صرف عراقی حکومت کی مدد کر رہا ہے بلکہ شام کے بشار اسد کی بھی. حال ہی میں پاسداران انقلاب کا ایک اہم ایرانی جنرل شام میں داعش کے ساتھ ایک معرکے میں ہلاک ہو گیا. ایران کے پاسداران کی طرح لبنان کی حزب الله کے جنگجو بھی بشار اسد کی حمایت میں لڑ رہے ہیں. اگر اسد کو روس، ایران، اور حزب الله کی حمایت حاصل نہ ہوتی تو اس کی حکومت کب کی ختم ہو چکی ہوتی. باغی شام کے دارالحکومت دمشق پہنچ چکے تھے.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *