امریکی جنگوں میں دھنسا ہوا برطانیہ

 Seumas Milneشاید آپ کا خیال ہو کہ امریکہ کی جانب سے آغاز کئے جانے کے بارہ برس بعد،اس قدر ہلاکت خیز نتائج کے ساتھ، دہشتگردی کے خلاف جنگ بلآخر ختم ہونے والی ہے۔اس سال کے شروع میں صدر اوبامہ نے یقیناً یہ تاثر بھی دیا تھا ، جب انہوں نے اعلان کیا تھا کہ’’تمام جنگوں کی طرح اس جنگ کو بھی ختم ہونا چاہئے۔‘‘
درحقیقت نوبل امن انعام جیتنے والا صرف اس کی ازسرنوع تعریف کر رہا تھا۔’’دہشتگردی کے خلاف مزید کوئی بے کنار عالمی جنگ نہیں ہو گی‘‘ انہوں نے وعدہ کیا۔جس سے ان کا مطلب تھا کہ زمینی جنگیں اور قبضے اب مزید نہیں کئے جائیں گے، لیکن اس کے باوجودابھی تک امریکہ اگلے برس کے اختتام کے بعدافغانستان میں دستے رکھنے کے لئے مذاکرات کر رہا ہے۔
لیکن دہشتگردی کے خلاف جنگ اپنے زاویے بدل، پھل پھول اور پھیل رہی ہے۔اوبامہ انتظامیہ کی سرکردگی میں ڈرون حملے پاکستان سے شمالی افریقہ تک پھیل چکے ہیں، اور وہ جنگ کے اس نئے مرحلے کا کلیدی جزو ہیں۔ اور جیسا کہ ڈرٹی وارز۔۔۔۔جو کہ ایک امریکی صحافی جرمی سکاہل کی جانب سے بنائی گئی ایک زبردست نئی فلم ہے۔۔۔واضح کرتی ہے کہ ، اس طرح خفیہ سپیشل امریکی فورسزکی جانب سے کئی ممالک میں زمین پرمخالف سردارانِ جنگ اور نجی لشکروں کو موت کے گھا ٹ اتارا جارہا ہے۔
سکاہل کی فلم، اپنی پیش رو کلاسیکی فلم ’نائر‘سے منسوب ، مایوسانہ اور ہلاکت خیز طرز کی تحقیقات سے شروع ہوتی ہے۔ اس کے آغاز میں گردیز، افغانستان میں امریکہ کے ایک مشترکہ سپیشل آپریشنز کمانڈ کے ایک خفیہ یونٹ کی طرف سے ایک پولیس کمانڈر کے خاندان کا قتلِ عام دکھایاجاتا ہے (جس کے متعلق ابتدائی طور پر امریکی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ قتلِ عام مقامی افراد نے غیرت کے نام پر کیا ہے)۔اس کے بعد یہ فلم یمن کے قصبے مجلہ میں ایک قاتل کروز میزائل کے حملے کی طرف مڑ جاتی ہے، جس نے21بچوں سمیت46شہریوں کو ہلاک کیا تھا، اس کے بعد اہم امریکی پادری انور الاولاکی اور اس کے16سالہ بیٹے کی ڈرون کے ذریعے ہلاکت ،اور پھرصومالیہ میں جے ایس او سی اور سی آئی اے کے ایماء پرمقامی جنگجوسرداروں کی طرف سے کئے گئے اغواؤں اور قتلوں کو اس فلم میں شامل کیا جاتا ہے۔
اس فلم میں دونوں صورتوں میں جو باتیں سامنے آتی ہیں، وہ ہیں ، امریکی سپیشل فورسز کی جانب سے کی جانے والی خفیہ ہلاکتوں کا پیمانہ ۔ ۔ افغانستان میں ایک رات میں ایک ہی مقام پر مارے جارہے، 20، 20 چھاپے ۔۔ اور یہ ناقابلِ خطاحقیقت کہ یہ خفیہ یونٹ موت بانٹنے والے دستوں کے طور پر کام کر رہے ہیں، جن کے بہائے ہوئے خون کوادھر امریکہ میں مقیم ایک شکرگزار قوم کے مفاد میں دہشتگردوں اورباغیوں کی ’’ہدف وارہلاکتوں ‘‘ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔
جب ایک یمنی صحافی عبداللہ حیدر شائی نے وضاحت کی کہ دراصل عملاً یہ ہلاکتیں کس حد تک ٹارگٹڈہوتی ہیں۔۔۔اور یوں مجلہ میں امریکی قتلِ عام کا پردہ چاک کیا ۔۔۔۔ تو اس کو یمن میں القاعدہ کا ایک معاون قرار دیا گیا اور جیل میں بند کر دیا گیاتھا، اور ابتدائی طور پر اس کی رہائی خود اوبامہ کی مداخلت پر روکی گئی تھی۔بلا شبہ امریکہ اور اس کے دوست کئی سالوں سے خفیہ ہلاکتوں اورکرائے کے موت پھیلانے والے دستے رکھنے میں ملوث ہیں۔لیکن انہی ہلاکتوں اور کسی دوسرے نام سے کئے جانے والے قتلِ عام کوایک بار امریکہ نے اسرائیل کی بدقسمت عادت کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا تھا، اور آج یہ امریکی حکمتِ عملی کا ایک مرکزی جزو ہیں ۔۔ اور میدانِ جنگ ساری دنیا تک پھیل چکا ہے۔40 سے 120ممالک میں امریکی سپیشل آپریشنز کمانڈکام کر رہی ہے۔
اور برطانیہ راستے کے ہر قدم پر ان کے ساتھ ہے۔ برطانوی عہدے داران سی آئی اے اور جے ایس او سی کے آپریشنز کے ساتھ ایک اخلاقی معاہدے کے طور پر افغانستان میں اپنے ذاتی ڈرون آپریشنز کی پیشکش کرنا چاہ رہے ہیں۔حقیقی زندگی میں اس سے زیادہ قریبی تعاون بمشکل ہی ہو سکتا ہے۔
نور خان جس کا باپ پاکستان میں امریکہ کے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے دیگر چالیس افراد میں سے ایک تھا، اس ہفتے لندن کی عدالت میں درخواست گزار ہوا ہے اور برطانوی حکومت سے مطالبہ کر رہا ہے کہ ایسے جنگی جرائم کے لئے جی سی ایچ کیوکی مدد کی حدواضح کرے۔
حکومت ’’قومی سلامتی‘‘ اور خصوصی تعلقات کی اوٹ میں چُھپ رہی ہے۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا کہ جی سی ایچ کیو کی انٹیلی جنس ڈرون حملوں کے لئے استعمال ہوتی ہے ۔۔ بالکل اسی طرح جیسے خُفیہ برطانوی فوجی دستے صومالیہ، مالی، لیبیا، عراق اور افغانستان میں امریکی سپیشل فورسزکے ساتھ شانہ بشانہ کا م کرتے رہے ہیں۔
جیسا کہ داخلی امور کی وزیرتھریسیا مے برطانوی مسلمانوں کو ، ان کے عین امریکی سپیشل فورسز کی طرف سے ہلاک یا اغواکئے جانے کے وقت ، ان کی صومالی شہریت کے سبب انہیں صومالیہ میں الشباب کے لئے لڑنے میں ملوث ہونے کا الزام دیتی رہی ہیں، ثبوت سامنے آچکا ہے کہ خصوصی برطانوی افواج نے خودگزشتہ برس طفیل احمدنامی ایک نئے بھرتی ہونیوالے برطانوی سپاہی کو ہلاک کیا ہے۔
بلاشبہ برطانیہ ان بدنما جنگوں کا بہت سا ذاتی تجربہ بھی رکھتا ہے۔ ’بی بی سی کا منظر‘ نامی پروگرام نے گزشتہ مہینے شمالی آئر لینڈمیں ایک سابقہ خفیہ فوجی دستے (جس کے افسران میں سے متعدد نے نوآبادیاتی مہم میں حصہ لیا تھا)کے ارکان سے انٹر ویو نشر کئے جو 1970ء کی دہائی میں بیلفاسٹ میں نہتے شہریوں کو اندھا دھند گولیاں ما رنے کے ایک سلسلے سے متعلق تھے۔ ’’ہم وہاں ایک دہشتگرد گروپ کی طرح کام کر رہے تھے،‘‘ایک تجربہ کار سپاہی نے وضاحت کی۔
ہوبہو، گردیز میں خصوصی امریکی افواج کی طرح، وہ عمومی آبادیوں پر چڑھ دوڑتے اور کوشش کرتے کہ لوگ تسلیم کر لیں کہ ان کو مارنے والے ’’دہشتگر‘‘ نہیں ہیں۔
یہ مفروضہ کہ وہ برے لڑکوں کو باہر نکال رہے تھے، خواہ وہ مسلح تھے یا غیر مسلح، صاف طور پر جنگ کے قوانین کو مسلط کرتا تھا۔ یہی کچھ ایک زیادہ بڑے پر دہشتگردی کے خلاف میں جاری ہے۔ڈرون حملے شفاف نپے تلے ، تیر بہ ہدف حملوں کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں۔ مگر یہ سچ نہیں ہے۔ در حقیقت، نہ صرف یہ کہ حملہ آورافواج کومخالفین کی سرزمین استعمال نہیں کرنی پڑتی بلکہ خطرے سے مکمل آزادی بھی مل جاتی ہے۔
لیکن ان کے ہدف انٹیلی جنس پر منحصرہوتے ہیں جو بالعموم مایوس کن حد تک غلط ظاہر ہورہی ہے۔
کئی حملوں میں کسی مخصوص فرد واحدکو ہدف بنانے سے بہت دور، یہ معصوم شہریوں پرحملے ہوتے ہیں، شاید ایک مخصوص علاقے میں فوج میں جانے کی عمر کے تمام مردوں کے خلاف، یا ایک طویل فہرست میں سے مطلوبہ فطرت یا رجحان کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں، اس فہرست پر ہر منگل کو ’’موت کی فہرست‘‘نامی اجلاسوں میں وائٹ ہاؤس میں اوبامہ دستخط کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف پاکستان میں ڈرون حملوں میں ایک اندازے کے مطابق 951شہری مارے جا چکے ہیں، اورمرنے والوں میں سے صرف دو فیصد اہم ٹارگٹس تھے۔
سچ یہ ہے کہ ڈرون حملوں اور سپیشل فورسز کی کارروائیوں میں ماورائے عدالت ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔یہ بلاجواز اور مجرمانہ قتل عام ہے۔اس کا امریکی حکومت کو یہ فائدہ تو پہنچ رہا ہے کہ اس سے ساری دنیا میں امریکی اجارہ داری کا مظاہرہ بھی ہو رہا ہے اور امریکیوں کو زمین پر اترنا اور جانیں گنوانا بھی نہیں پڑ رہی ہیں ۔لیکن یہ حملے افغانستان اور عراق کے محاذ پر امریکی کمزوری کی عکاسی کر رہے ہیں اور امریکہ کو سٹریٹجک برتری دلانے میں بھی ناکام رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *