میرے فرنچ دوست

wisi babaمیں نے پیرس نہیں دیکھا۔ کبھی فرانس بھی نہیں گیا لیکن ایک تعلق ہے اس شہر سے۔ اس کا آغاز تب ہوا جب اپنے ایک کزن کے پیچھے لگ کر میں نے فرنچ پڑھنی شروع کی۔ میرا کزن افسر تھا لیکن اسے پاکستان سے جانا تھا تو اپنی منزل پر پہنچنے سے پہلے وہ فرانس کے پاکستانی سفارتخانے میں جھاڑو دیتا رہا۔ پھر وہیں وڈا افسر از قسم کلرک وغیرہ لگ گیا۔
فرنچ پڑھنے گیا تو جارج سے ملاقات ہوئی۔ جارج کی سردار مارکہ مونچھیں تھیں اس کے نام کا باقی حصہ ایسا تھا کہ ہم بول نہ پاتے تو جارج لوفر کہا کرتے اپنے استاد کو۔ اسے اس کا مطلب بتایا تو اس نے ہمیں ایک فرنچ لفظ کے دو مطلب بتائے۔ لہجے کے ذرا سے فرق کے ساتھ جیسے ہم بولا کرتے۔ اس کا مطلب حرامدہ تھا۔ دو لفظوں کے اس تعلق نے بہت گہرے تعلق کی بنیاد رکھی۔
فرنچ بھول گیا ہوں لیکن میں نے سمسٹر ٹاپ کیا تھا ۔ اس کی وجہ جارج تھا جو کہا کرتا کہ تم لوگ گپ لگاو¿۔ میں پڑھاتا ہوں۔ ہم کم ہی توجہ دیتے ۔ درمیان میں چائے بھی آ جاتی لیکن پہلا ٹیسٹ ہوا تو سب کے بڑے اچھے نمبر آئے ہمیں حیرت ہونے لگی کہ ہم کیسے سیکھنے لگ گئے۔ پھر جارج کا احترام بھی کرنے لگے۔ دل یہ بھی چاہنے لگا کہ ہمارے استاد بھی ایسے پڑھاتے کہ ہم کچھ سیکھ جاتے۔
ہم لوگ ڈنڈے کے یار تھے سر میسی نے سکول میں ہمیں ڈنڈے سے ہی پڑھایا۔ انہوں نے جو پڑھایا ہمیں یاد رہا۔ خیر پیرس میں بھیڈو رہتا ہے میرا ہم نام۔ ہم اکٹھے قیمتی پتھروں کی فرم میں نوکری کرتے تھے۔ اسے بھی پاکستان سے جانا تھا کہ وہ صرف بھیڈو ہی نہیں سرٹیفائڈ قسم کا بھونڈ بھی ہے۔ اس کے جانے کے کئی سال بعد اسے فون کیا کہ بھیڈو یار علی آ رہا ہے تو اس نے کہا بھیج دے۔ پھر ایک میزبانی کی اس نے جس کا شکریہ مجھے علی نےکہا ۔
پیرس میں وہ حور بھی رہتی ہے جس کے لئے کئی نیوز اسائنمنٹ میں نے مفت کیں صرف اس سے تعلق رکھنے کے چکر میں۔ پھر یہ تعلق بن بھی گیا لیکن وہی دیسی کہانیاں ہم دیسیوں کی ایک ولن ہوتا ہے جو اس کہانی میں حور کی ماں تھی۔ تعلق برقرار ہے، رابطہ نہیں رہا۔ جب بھی بات ہو تو دل ناچتا ہے ہم دونوں کا۔
اسی شہر میں حور کا بھائی رہتا ہے۔ اب بڑا ہو گیا ہو گا۔ اس کو پاکستانی بڑا کیا اس کے گھر والوں نے۔ پھر اس کا نفسیاتی علاج ہوتا تھا۔ اسے پاکستان فون پر بات کرایا کرتے تھے۔ یہی اس کا علاج تھا اس سے کئی ہفتے میں نے باتیں کی ہیں۔ سب بھول گیا ہوں بس یہ یاد ہے کہ وہ کہتا تھا کہ بھائی میں گھر جو بات کرتا ہوں نہ وہ سب سمجھتے ہیں۔ میرے سکول میں کوئی اردو نہیں بولتا۔ میری مس بہت اچھی ہے۔ مجھے گلے لگاتی ہے لیکن اردو نہیں بولتی۔ میری ڈاکٹر بھی بہت اچھی ہے۔ گھر میں پاکستانی بنا کر اسے پیرس میں جھونک دیا گیا تھا۔ اسے وطن آنا تھا کہ وہ سات آٹھ سال کا بچہ تھا لیکن پیرس پوری طرح اس کو اپنا رہا تھا ہر طرح کہ کسی طرح وہ اک ہاں کرے اور وہیں رہے۔
اس شہر میں آئیس بھی رہتی ہے۔ اس نے بڑی محنت سے مجھے عقل سکھائی۔ کراچی سے وہ پیرس یوں گئی کہ اس نے قربانی دی جب اس کو شادی سے انکار ہوا تو پھر وہ کمرہ بند ہو گئی پھر سب چھوڑا پیرس پہنچ گئی اپنی دنیا آپ بنائی۔ نیٹ کا ابتدائی دور تھا جب ہمارا تعلق بنا ہم دو دوستوں کی اس سے دوستی ہوئی۔ میرا دوست اس کو سس یعنی بہن کہتا تھا جب اسے دیکھا تو جیسے زبان نکال کر سوہنی سس کہا کرتا تو اس نے ہنستے ہوئے بتایا کہ ہمارے برصغیر میں ہی بہن بھائی بنانے کو راکھی بندھتی ہے یہیں بہن کی گالی سب سے زیادہ عام ہے۔
دوست گالیاں سن سن کر بھاگ گیا تھا میری اور آئس کی دوستی رہی بہت سے کرکٹر کھلاڑیوں کے قصے اس نے سنائے جو اس نے دیکھے تھے جو کبھی اس کے پیچھے پھرے تھے۔ آئیس نے شادی نہیں کی۔ ایک سہیلی کی بیٹی کو ہی اپنی بیٹی مان کر اس کا پھر خیال رکھا ایک بھائی بھی بنایا جو فرنچ تھا۔ وہ روزہ بھی رکھتی تھی ڈانس پر بھی جاتی تھی۔ میں اس کو کہتا کہ یہاں یہ سب کر کے دکھاتی تو اب تک شہید ہو چکی ہوتی اس کا کہنا تھا کہ وہاں یہ سب ہونے دو۔ لوگوں کی مرضی مطابق ورنہ سب برباد ہو گا۔
اسی شہر سے مجھے ایک نمونہ دوست بھی ملا مراکش کا بربر راشد۔ وہ گے ہے یعنی ہم جنس پرست ۔ مجھ سے ملنے آنے کو تیار رہا۔ بڑا یقین دلایا کرتا تھا کہ میں انسانوں کی بلکہ مردوں کی طرح رہ سکتا ہوں۔ چل پھر سکتا ہوں لیکن جب غرارہ پہن کر مجھ سے باتیں کرتا تو مجھے کدھر یقین آتا۔ جب پشاور میں روز دھماکے ہوتے تھے اس کا فون آیا کرتا تھا، خیریت پوچھنے۔ اس نے پاکستان میں ہی ایک بچہ گود لیا جس کے تعلیمی اخراجات برداشت کر رہا۔ ایک دن اس نے مجھے کہا کہ بڑی عید پر وہ قربانی میں مدد کرنے بھی چلا جاتا ہے اپنے کزن کے ہاں۔
یہ سب دوست اپنے ملک میں مس فٹ تھے انہیں پیرس نے گلے لگایا۔ یہ سب ٹھیک ہیں۔ خیریت سے ہیں لیکن سب کا کہنا ہے کہ ’ہم کیا ہیں‘ کی بجائے ہمیں ڈر ہے کہ اب ہمیں ’ہم کون ہیں؟‘ اور ’کہاں کے ہیں؟‘ کی بنیاد پر دیکھا جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *