الحمدللہ !ہم نے ان کا مہمان مارا ہے....

jamil khanپیرس حملے کے بعد سے پاکستان میں عجیب و غریب سی ایک مہم جاری ہے۔ ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو مغربی اقوام خصوصاً فرانس کی جانب سے کیے گئے ظلم و جبر کی داستانیں بیان کررہا ہے، گڑے مردے اکھاڑے جارہے ہیں۔ فرانسیسی فوجیوں کے سچے جھوٹے ظلم و جبر کی تصاویر نجانے کہاں کہاں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالی جارہی ہیں، اور جہاں تک ہمیں سمجھ میں آیا ہے کہ اس شور شرابے سے پیرس میں حملہ آوروں کے مقاصد کی تائید اور ان حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں کو جائز ثابت کرنے کی دانستہ یا نادانستہ کوشش ہورہی ہے۔
ماضی میں کبھی اگر فرانسیسی فوجوں نے کسی خونریز اقدام میں حصہ لیا تھا، تو آج فرانسیسی شہریوں کو ہلاک کرکے اس اقدام کا بدلہ لیا جائے گا....؟
پ±رانا لطیفہ ہے، لیکن معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ اس وقت ہمارے ملک کے متقی اور پرہیزگار بھائی بہنوں کی سوچ کی عکاسی اسی لطیفے ہی سے ہوسکتی ہے۔
ایک صاحب وزیرستان کے قبائلی علاقے گئے، وہاں ان کی بہت خاطر تواضع کی گئی، جو وہاں کی دیرینہ روایت بھی ہے۔ ان کے میزبانوں نے انہیں وادی کی سیر بھی کرائی، ایک جگہ سے گزرتے ہوئے ان کے میزبان نے کہا کہ یہاں گاڑی میں سر جھکا کر بیٹھو، یہاں ہماری دشمنی ہے!
ان صاحب نے کہا کہ کیوں بھائی؟ آپ کی دشمنی ہے، میری تو نہیں!
میزبان نے کہا ....الحمدللہ! ہم نے ان کا مہمان مارا ہے، اب وہ بھی ہمارا مہمان ماریں گے!
یہ رویے نئے نہیں ہیں، ہمیں یاد ہے کہ ملالہ پر طالبان دہشت گردوں کے حملے اور ان کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے اقراری بیان جاری ہوجانے کے باوجود تمام سائنسی اور غیرسائنسی حربے اختیار کرکے اس حملے کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی تھی۔ پھر اس کے بعد کہا جاتا رہا کہ ملالہ کے سر میں گولی لگی تھی، چنانچہ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ زندہ بچ گئی؟ کئی زاویوں سے لی گئی تصاویر طبی اصطلاحات کے ساتھ سوشل میڈیا پر شیئر کی جاتی رہیں.... پھر جب ان سب کے باوجود بھی دنیا ملالہ کی اس حقیقت کی جانب متوجہ نہ ہوسکی، جس کا وہ انکشاف کرتے رہے تھے، ان کی تمام تر سرتوڑ کوششوں کے باوجود دنیا نے عافیہ صدیقی کی عظمت کا اعتراف نہیں کیا، اور ملالہ یوسف زئی کو اقوامِ متحدہ کے عالمی پلیٹ فارم پر خطاب کرنے کا اعزاز بھی مل گیا تو پھر کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق سوشل میڈیا پر متحرک شاہینوں اور عقابی نگاہ رکھنے والے بزرگوں نے حد ہی کردی، انہوں نے ملالہ یوسف زئی کے طالبان کی گولی سے زخمی ہونے والے متاثرہ چہرے کا انتہائی بیہودگی کے ساتھ مذاق ا±ڑانا شروع کردیا۔ یہ انسانیت سے گری ہوئی تصاویر اب بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں، عندالطلب کو حوالے کے لیے پیش کی جاسکتی ہیں۔
فوجی اشرافیہ کی تخم ریزی سے وجود میں آنے والی مذہبی و نیم مذہبی جماعتوں کے جغادری جس طرح اس وقت برہم تھے کہ میڈیا نے ملالہ ملالہ کرکے ڈاکٹر عافیہ کی شمع گل کر دی تھی، اسی طرح آج بھی ان کی آنکھوں میں اس بات پر خون اترتا دکھائی دے رہا ہے کہ عالمی اور ملکی میڈیا نے پیرس کے واقعہ کو بلاوجہ اس قدر اہمیت دے دی ہے، جس کی وجہ سے فلسطین، برما، شام، عراق، یمن اور فلاں فلاں مسلمان ملکوں کے سنگین مسائل پس پردہ چلے گئے ہیں، دنیا نے جس طرح پیرس کے معاملے پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے، اسی طرح کا مظاہرہ ان ملکوں کے سانحات پر کیوں نہیں کیا....؟
ٹھیک ہے، مان لیتے ہیں کہ کسی چیز پر زیادہ توجہ مرکوز کردی جائے تو دیگر کئی چیزیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ان مسلمان ملکوں میں کئی عشروں سے جاری سانحات کے سلسلے کو روکنے کے لیے خود مسلمان ملکوں نے کس قدر یکجہتی کا مظاہرہ پیش کیا ہے....؟
ہم مسلمانوں کی اپنی حالت تو یہ ہے کہ گلی محلے کے معاملات پر تو آپس میں اتفاق پیدا نہیں کرپاتے، اور سینہ چوڑا کرکے دنیا کو طعنے دینے سے بھی باز نہیں آتے۔ظاہر ہے اس حوالے سے مذہبی طبقے کے لوگ سب سے آگے آگے ہوتے ہیں، جن کی آپس میں یکجہتی کا یہ عالم ہے کہ ایک مسلک کے لوگ دوسرے مسلک کی مسجد میں نماز نہیں پڑھتے، آمین بالجہر کہنے والے نہ کہنے والوں کو مطعون سمجھتے ہیں، ہاتھ کھول کر نماز پڑھنے والے باندھ کر پڑھنے والوں کو جہنمی خیال کرتے ہیں....!
بظاہر بات سیاق و سباق سے ہٹتی ہوئی محسوس ہوگی، لیکن ہم اس رویے کے مجموعی اثرات نتائج بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا کچھ پس منظرواضح کرنے کے لیے یہاں عرض کرنا چاہیں گے کہ ان بزرگوں کا خیال ہے کہ ڈاکٹر عافیہ قوم کی بیٹی ہے، جبکہ خود ان کا طے کردہ مذہب کی تفہیم جسے وہ بالجبر ہم سب پر نافذ کرنے کے خواہشمند بھی ہیں کے خلاف جاتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ بغیر کسی محرم اور شرعی پردے کے دنیا بھر کے ممالک میں دہشت گردوں کی مدد کے لیے بھاگ دوڑ کرتی پھرتی تھیں۔ انہوں نے تو اسکول بم سے ا±ڑانے والوں کی مدد کی، جبکہ ملالہ اسکولوں کو آباد دیکھنا چاہتی ہے۔
جہاں تک ہم سمجھ سکے ہیں کہ عقابی نگاہ رکھنے والے بزرگوں اور شاہین بچوں کے نزدیک قوم کی عظیم بیٹی بننے کے لیے ضروری ہے کہ حجاب پہنا جائے، جہادی تنظیموں کے لیے چندہ بھی جمع کیا جائے، ان کے خفیہ نیٹ ورکنگ کے لیے فنڈنگ کا بندو بست بھی کچھ اس طرح کر لیا جائے کہ شوہر کو اور گھر والوں کو اس کی ذرا بھی سن گن نہ لگے۔ پھر شوہر سے علیحدگی ہو جانے کے بعد القاعدہ کے کسی دہشت گرد رکن سے شادی بھی کر لی جائے اور نامعلوم مقام پر تربیت کے ذریعے ایسا حوصلہ اور ہمت بھی پیدا کر لی جائے کہ کسی بھی قسم کے تشدد کو باآسانی برداشت کیا جاسکے۔
بس یہی غلطی ہوگئی تھی ملالہ سے.... اسی لیے وہ ان بزرگانِ دین شرع متین کی نظروں میں قوم کی بیٹی نہ بن سکی....!
اسی رویے کے تحت آج بھی ان بزرگانِ دین کے مطابق دنیا میں کہیں بھی خودکش حملے ہوں، مسلمان مارے جائیں یا غیر مسلم.... پہلا ردّعمل یہی آنا چاہیے کہ ایسا عمل کوئی مسلمان تو کر ہی نہیں سکتا ....یہ یہودیوں اور نصرانیوں کی سازش ہے.... امریکا مسلمانوں کو بدنام کررہا ہے.... وغیرہ وغیرہ!
ہمارے یہاں اس گروہ کے لوگوں کی یہ ابتدا ہی سے روش رہی ہے کہ وہ ان لوگوں سے مکالمے پر اصرار کرتے ہیں جن کا ایجنڈا ہی وسیع المشربی کا خاتمہ ہے۔ ابھی کچھ برس پہلے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے یہاں جو بھی انتہا پسندی ہے، دہشت گردی ہے، اس کی وجہ صرف اور صرف امریکی ڈرون حملے ہیں، آج ڈرون حملے بند ہوجائیں تو کل ہر طرف امن ہوجائے گا۔ لیکن جب ڈرون حملے بند ہوگئے تھے، تو پھر پاکستان میں دہشت گرد حملے کیوں جاری ہیں....؟
پیرس حملوں کے اسی طرح دور رس اثرات مرتب ہوں گے، جس طرح کہ نائن الیون کے اثرات سامنے آئے تھے، اس حوالے سے اگلی نشست میں بات کریں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *