یورپ ہمارا احسان کیوں نہیں مانتا؟

Rashad picہمارے ایک بہت پیارے دوست بہت پیاری شاعری کرتے ہیں۔ ایک بار ان کی نظموں میں کچھ وقفہ آیا تو ہم نے موقع غنیمت جان کر اپنا ایک افسانہ ان کے سامنے رکھ دیا۔ چونکہ محبت اور عقیدت اندھی ہوتی ہے اس لیے جناب نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور ہمارے ماتھے پر بوسہ دے کر بولے، واللہ میں آپ کو منٹو سے بڑا افسانہ نگار مانتا ہوں۔ آپ بھی یقینامجھے گلزار سے اچھا شاعر سمجھتے ہوں گے۔ ان کے اس التفات پر تھوڑی دیر کے لیے مجھے سمجھ نہ آئی کہ ان کی بات سے صرف اتفاق کیا جائے یا کلی اتفاق کیا جائے۔ میرے پاس اس کے علاوہ بظاہر کوئی آپشن نہ تھا کیونکہ ان کی بات سے عدم اتفاق کر کے خود کو علم و ادب سے بے بہرہ قرار پانے کا رسک نہیں لیا جا سکتا تھا۔ بات ذرا طول پکڑ گئی، مدعا صرف اتنا تھا کہ بسا اوقات زمانے کی بے قدری بھی انسان کو خبط عظمت میں مبتلا کر سکتی ہے۔ اب یہی دیکھیے کہ عمران خان صاحب کا خبط عظمت قابل فہم ہے کہ ساری زندگی ان کے چاہنے والوں نے انہیں یقین دلائے رکھا کہ ان سا کوئی نہیں۔ اب وہ اتنے لوگوں کی بات پر یقین نہ کریں تو کیا کریں؟ لیکن انہیں یہ کون سمجھائے کہ جناب آپ جیسا یقینا کوئی نہیں بالکل اسی طرح جیسے کسی بھی شخص جیسا کوئی دوسرا نہیں۔ کوئی افسانہ نگار منٹو نہیں بن سکتا، نہ ہی کوئی اور شاعر گلزار ہو سکتا ہے۔ منٹو اور گلزار اپنی اوریجنلٹی سے منٹو اور گلزار بنے ہیں۔ اور یہی اصل کلیہ ہے۔ اپنی انفرادیت کا اظہار ہی انسان کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ نہ کہ دوسروں جیسا بننے کی خواہش۔
مسلمانوں میں بتدریج دو طرح کے رویے نمایاں ہوتے نظر آتے ہیں۔ ایک رویہ خبط عظمت کا ہے اور دوسرا مسلسل بڑھتی ہوئی مظلومیت کے احساس کا ہے۔ بظاہر یہ دونوں رویے ایک دوسرے کی ضد ہیں لیکن درحقیقت دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ فرانس میں حالیہ دہشت گردی پر مسلمانوں کی طرف سے اظہار ہمدردی ہمارے بعض اپنے ہی ساتھیوں کی طرف سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اصل مظلوم تو ہم ہیں! اصل دہشت گردی تو ہمارے ہاں ہو رہی ہے! اصل لاشیں تو ہم اٹھا رہے ہیں۔ دنیا ہمارے ساتھ ایسے ہمدردی کیوں نہیں کرتی؟ کبھی تو ہمارے شہیدوں کو بھی یاد کریں؟ کچھ تو ہماری عظمت رفتہ کا پاس کریں جب ہم نے عرب سے اندلس تک اور ایشیا سے افریقہ تک حکمرانی کی تھی۔ کچھ تو ہمارے علمی احسانات کی لاج رکھیں جب دراصل ہم نے یونانی علوم اور فلسفے کو ترجمے کے ذریعے ان کے لیے قابل فہم بنایا تھا اور ان کے لیے سائنسی ترقی کے در وا کیے تھے۔ اگر آپ تحقیق کریں تو شاید یورپ کی علمی تحریکوں، نشاة ثانیہ اور انقلاب فرانس میں آپ کو ہمارے ابن رشد اور ہمارے غزالی، ہمارے ماتریدی اور ہمارے معتزلہ اور ہمارے فلاں، فلاں، فلاں، نابغوں کے درمیان ہونے والی علمی بحثوں کے اثرات بھی نظر آجائیں (یہ الگ بات کہ ہمارے اپنے ہاں اس طرح کا انقلاب نہیں آ سکا اور جو سلوک ہم نے اپنے نابغوں کے ساتھ اکثر روا رکھا، یہ داستان بھی پھر سہی۔)
الزام ہے کہ فرانس کے جھنڈے لہرا کر اظہار یکجہتی کرنے والے (لبرل!) مسلمانوں کو اس وقت بیروت، شام، عراق، افغانستان اور پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی یاد نہیں آئی، کیا اس وقت ان یورپیوں اور استعمار کے نمائندوں نے ہمارے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا تھا؟ جب انہوں نے ہمارے جھنڈے نہیں لہرائے تو ہم کیوں لہرائیں؟ اور بعض کا کہنا تو یہ ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کی طرح پیرس میں ہونے والے یہ حملے بھی خود ان کی اپنی کارگزاری ہے۔ حد تو یہ کہ کل میں نے ایک صحافی کو نجی محفل میں ان حملوں پر باقاعدہ خوشی کا اظہار کرتے دیکھا۔ اگرچہ یہ بات درست نہیں کہ یورپ کے لوگوں نے کبھی مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور یک جہتی کا اظہار نہیں کیا۔ ایسی بے شمار مثالیں ہیں جیسے جب امریکی مسیحی، یہودی اور لامذہب خواتین مسلمان خواتین سے اظہار یک جہتی کے لیے خود اسکارف پہن کر نیویارک کی شاہراہوں اور مین ہٹن کے سامنے کھڑی ہوئیں اور جب عراق پر حملوں کے خلاف یورپ میں ملین مارچ کیا گیا اور بہت سے امریکی اور یورپی مصنفین نے علمی سطح پر مسلمانوں کا مقدمہ لڑا.... غرض جمع کی جائیں تو بہت سی مثالیں مل جائیں گی۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آخر ہم ایسی باتیں اور حرکتیں کیوں کرتے ہیں جس سے ساری دنیا ہمیں بے حس، ظالم اور خود غرض سمجھ لے؟ کیا یہ سادہ سی بات سمجھنا مشکل ہے کہ کسی مظلوم سے ہمدردی کرنے سے پہلے اس کی ذات، نسل، مذہب کے بارے میں نہیں پوچھا جاتا۔ اور اگر خاص طور پر مسلمان یورپ میں ہونے والی دہشت گردی پر خاموش رہیں گے تو ان ظالموں کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے جو ہمارے مذہب کا نام لے کر اور ہمارا نعرہ لگا کر قتل عام کا آغاز کرتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *