میں نے اپنی ڈی پی کیوں تبدیل کی ؟

amir Khakwaniمیں نے دانستہ اپنی ڈی پی تبدیل کی۔ دو باتیں اس کے پیچھے ہیں۔ ایک تو چونکہ آج کل ”ڈی پی جنگ“ چھڑی ہے، تو میں اس میں ایک واضح پوزیشن لے رہا ہوں۔  میں اپنے نقطہ نظر اور استدلال کو اس کے بغیر پوری وضاحت کے ساتھ بیان نہیں کر سکتا۔ ویسے بھی اپنے آج کے کالم میں قارئین کو مشورہ دیا کہ احتجاجاً فرانس کے رنگوں والی ڈی پی لگا لینے میں کوئی حرج نہیں، اصول یہ کہتا ہے کہ مجھے خود بھی اپنے مشورے کی تقلید کرنی چاہیے، سو میں نے ایسا کر ڈالا۔ منافقت سے مجھے اللہ کے فضل وکرم سے چڑ ہے، پاپولر رائٹنگ سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔ جسے درست سمجھتا ہوں،کہتا اور لکھتا ہوں۔ کسی کو پسند آئے تو شکریہ، پسند نہ آئے تو ٹھیک ہے ، ہر ایک کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے۔
اس موقع پر ڈی پی لگانا کسی قوم سے مشابہت کا معاملہ نہیں، یہ ایک سیاسی احتجاج ہے، ایک بیانیہ ہے۔ ہر بڑے واقعے کے بعد آپ کی اس حوالے سے ایک خاص رائے اور نقطہ نظر تشکیل پا جاتا ہے، اسے بیانیہ سمجھ لیں۔ نائن الیون کے بارے میں بہت سے لوگوں کی مختلف آرا ہیں، میری بھی ایک رائے ، ایک بیانیہ ہے، جس کا میں نے اپنے آج کے کالم میں بھی اظہار کیا۔
پاکستان میں جاری تحریک طالبان کی دہشت گردی، درندگی کے حوالے سے میرا ایک خاص بیانیہ ہے، نقطہ نظر ہے ، جس کا میں اپنے کالموں اور اپنی وال پر درجنوں بار اظہار کر چکا ہوں۔ مصر میں اخوان پر مصری فوج نے جو قیامت کا کریک ڈاﺅن کیا اور اس کی جس طرح بعض عرب ممالک نے افسوسناک طریقے سے حمایت کی اور بعض مغربی ممالک نے اس پر کمال بے حسی سے چشم پوشی کا مظاہرہ کیا، اس پر میرا ایک بیانیہ ہے ، جس کا میں اظہار کرتا رہا ہوں۔ اخوان پرمین سٹریم میڈیا میں سب سے زیادہ لکھنے والوں میں سے ایک میں بھی ہوں۔ یہی صورتحال غزہ کے مصیبت زدہ مسلمانوں کی ہے، جو اسرائیل کی درندگی، ظلم اور سنگدلی کا سامنا کر رہے ہیں، غزہ کے ناپرساں مسلمانوں کی مغربی دنیا میں جس طرح پرجوش انداز سے حمایت نہیں کی جاتی رہی، اس کا میں سخت ناقد ہوںاور اپنا یہ نقطہ نظر بیان کرتا رہا ہوں۔ کینیا، صومالیہ، میں الشباب، نائیجریا میں بوکو حرام جیسے شدت پسند سفاک گروہوں نے اسلام کے نام پر جو ظلم اور وحشت کا بازار گرم کیا، نہتے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔ اس کا میں ناقد ہوں، اپنے نقطہ نظر کو بیان کرتا رہا ہوں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے جو ظلم وستم کئے، کشمیریوں کی پوری نسلیں اجاڑ کر رکھ دیں، اس کی مذمت میں میرا ایک بیانیہ ہے، درد دل رکھنے والے ہر انسان اور مسلمان کی طرح میں اس کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ افغانستان میں امریکی چڑھائی، یہاں نیٹو افواج نے جوتباہی پھیلائی، اس کا میں شدید ترین مخالف اور ناقد ہوں۔ اس حوالے سے غیر ملکی افواج کی مذمت اور افغان طالبان کی حمایت میں میرے درجنوں کالم اور بیسیوں تحریریں موجود ہیں۔ میرا بیانیہ اس حوالے سے جانا پہچانا اور واضح ہے۔
جہاں کہیں کوئی گروہ نہتے عام شہریوں کو نشانہ بنائے گا، سفاکی سے ان کا قتل عام کرے گا، خواہ وہ غزہ ہو، کشمیر ہو، نائیجریا ہو، افغانستان ہو، پشاور ہو، لبنان ہو، شام ہویا پھر چاہے نیویارک ، لندن یا پیرس ہو.... میں اس کی شدید مذمت کروں گا، اس کے خلاف اپنی بساط، استطاعت کے مطابق بولوں اور لکھوں گا۔ میرے نزدیک یہی اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے، یہی اخلاقیات کا درس ہے اور یہی وہ طرز عمل ہے جو ہر عقل ہوش رکھنے والے شخص کو اپنانا چاہیے۔
پیرس میں جو خون کی ہولی کھیلی گئی، داعش جیسی سفاک تنظیم نے جس طرح اس کی ذمہ داری قبول کی، اس کے درندوں نے جس طرح نہتے، معصوم شہریوں پر حملہ کیا، انہیں قتل کیا، وہ صریحاً ظلم ہے۔ میرے نزدیک ہر اس شخص کو جو اللہ اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر کاربند ہے، اسے اس ظلم کی مذمت کرنی چاہیے، قاتلوں سے اپنے آپ کو دور کر کے مظلوم کے ساتھ اخلاقی ہمدردری کرنی چاہیے۔
اہل فرانس نے ، اہل مغرب نے بہت سے غلط کام کئے، کئی ظلم ان کی حکومتوں سے ہوئے، مگر یہ کسی حکومت کا معاملہ نہیں، یہ افغانستان میں موجود فرانسیسی فوج پر حملہ نہیں ، دنیا کے کسی اور حصے میں موجود فرانسیسی فوجی دستوں کے خلاف کارروائی نہیں۔ یہ عام آدمیوں، عورتوں، بچوں?پر اندھادھند فائرنگ اور ان کو بلا امتیاز قتل کرنے کی بھیانک کارروائی ہے۔ اس کی کون سا مسلمان، انسان حمایت کر سکتا ہے؟
مجھے نہیں معلوم کہ لبرل کیمپ کون سا ہے؟میں نہیں مانتا کہ اپنی ڈی پی کے ذریعے احتجاج کرنا لبرل کیمپ کا کام اور ان کی اجارہ داری ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ رائٹسٹوں کو اس احتجاج میں زیادہ آگے آنا چاہیے کیونکہ وہ اعلیٰ اخلاقی اصولوں کے علمبردار اور رسول عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی ہیں۔
کیمپ دو ہی ہیں۔ ایک ظالموں ،قاتلوں کا کیمپ ، دوسرا مظلوموں اور ان سے اخلاقی ہمدردری رکھنے والوں کا کیمپ۔ میں نے اپنا کیمپ چن لیا ، آپ اپنی مرضی کا کیمپ چن لیں۔ ہر ایک کو اپنی رائے رکھنے کا حق ہے۔ اللہ ہمیں غلط اور درست میں تمیز کرنے کی حس اور دانش عطا فرمائے آمین۔

میں نے اپنی ڈی پی کیوں تبدیل کی ؟” پر بصرے

  • نومبر 17, 2015 at 9:34 AM
    Permalink

    عالمی برادری داعش اور دیگر دہشتگرد گروہوں کے خلاف جیسے چاہے اقدامات اٹھائے یہ دہشت گردی کا شکار ممالک کا حق ہے کہ وہ اپنے عوام کی جان و مال اور اپنی املاک کے تحفظ کو یقینی بنائے لیکن اس بات کا خیال رکھنا ان ممالک پر لازم ہے کہ جس ملک کے خلاف بھی عالمی برادری یا اتحاد ایکشن کرے تو اسکے لیے ان کے پاس جواز کا ہونا ضروری ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ٹونی بلیئر کے اعتراف کے مطابق کہ’’ عراق پر حملے کے لیے ہمارے پاس خفیہ اطلاعات درست نہیں تھیں اور وہ معافی کے طلبگار ہیں‘‘ انہیں بھی بعد میں ایسے ہی سوری کہنا پڑے اور شرمندگی اٹھانی پڑے۔سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے اعترافی بیان مین بہت سا سبق موجود ہے پہلا سبق یہ کہ عالمی اتحاد کو کسی ملک ،گروہ کے خلاف کارروائی عمل میں لانے سے پہلے دستیاب معلومات اوراطلاعات کی مکمل چھابین کرلینی چاہیے اور اس بات کا طمینان قلب ہونا ضروری ہے کہ جو اطلاعات انکے پاس ہیں کیا وہ حقائق پر مبنی ہیں یا محض سنی سنائی یا پھر گھڑی گھڑائی باتوں اور قصے کہانیوں پر مشتمل ہیں کیونکہ بعد میں سوائے پچھتاوے کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

    Reply
  • نومبر 17, 2015 at 6:07 PM
    Permalink

    بہت خوب. سب سے پہلے تو میں خاکوانی صاحب کو اس جرات رندانہ اور سلاست راے پر سلام پیش کرتا ہوں جو ان کے خود اختیار کردہ فکری قبیلے میں کم کم ہی پائی جاتی ہے. آخرمیں البتہ اس مستور اشارے پر ذرا ماتھا ٹھنکا کہ گویا طالبان نے افغانستان میں سویلین آبادی پر کوئی ظلم نہیں ڈھایا. صاحب، سنی سنائی پر شک ہو سکتا ہے، آنکھوں دیکھی کو کیسے جھٹلاؤں؟؟

    Reply
    • نومبر 17, 2015 at 6:26 PM
      Permalink

      شکریہ قاضی صاحب. طالبان والی طویل بحث ہے، پھر کبھی سہی، میں ان کی غلطیوں کا دفاع نہیں کرتا، صرف یہ کہتا ہوں کہ ان کی لڑائی کا ایک منطقی اور اخلاقی جواز موجود ہے، داعش ، ٹی ٹی پی، بوکو حرام وغیرہ کا نہیں. بہرحال افغان طالبان پر کبھی سہی، سردست تو فوکس پیرس والے معاملے پر رہنا چاہیے، اس پر پوری لڑائی لڑنی پڑ رہی ہے، مجھے اپنی فیس بک وال پر.

      Reply
  • نومبر 18, 2015 at 7:38 PM
    Permalink

    نوازش جناب اور بجا فرمایا کہ اس وقت تمام توجہ پیرس کے سانحہ پر ہونی چاہیے جو بد قسمتی سے عذر گناہ بد تر از گناہ کی مثال بنا ہوا ہے.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *