ہاں! یہ جنگ ہے

syed Mujahid Aliفرانس کے صدر فرانسس ہولانڈے نے جمعہ کی رات پیرس میں دہشت گرد حملوں کے بعد اعلان کیا ہے کہ یہ جنگ ہے۔ ہم پر حملہ کیا گیا۔ اس کا انتقام لیا جائے گا۔ کل رات شام میں دولت اسلامیہ کے مرکز رقہ پر حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ داعش کے ٹھکانوں پر ہونے والے حملوں میں شدید ترین تھا۔ اس طرح اس دہشت گرد گروہ کے ان منصوبہ سازوں کو یہ جواب تو مل گیا ہو گا کہ یہ ان کی خام خیالی ہے کہ وہ یورپ جا کر حملے کریں گے اور یورپین لیڈر گھبرا کر بمباری بند کر دیں گے۔ جس طرح پیرس پر بے نام مجرموں کی طرح حملے کرنے والوں کے ہاتھوں معصوم اور بے گناہ انسانوں کا لہو بہا ہے ، اسی طرح فرانس یا دوسرے کسی بھی ملک کی بمباری سے بھی انسان ہی مرتے ہیں۔ ان میں بعض مجرمانہ شدت پسند ذہنیت کے حامل لوگ بھی ہوں گے لیکن یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ ان حملوں میں بے گناہ شہری نشانہ نہیں بنتے۔ دولت اسلامیہ کے زیر نگیں علاقوں کے شہری دوہری مشکل کا شکار ہیں۔ وہ ایک شدت پسند، دہشت ناک ، مجرمانہ اور سفاکانہ ذہنیت کے حامل گروہ کے ہاتھوں اپنے ہی وطن اور گھروں میں یرغمال بنے ہوئے ہیں اور اس ذہنیت سے لڑنے والے جب حملہ کرتے ہیں تب بھی ان معصوم شہریوں کو ہی نشانہ بننا پڑتا ہے۔
اسی لئے جنگ کو برا کہا جاتا ہے۔ صدیوں کے تجربے کے بعد انسان اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ ہر مسئلہ کو باہمی بات چیت سے طے کیا جا سکتا ہے۔ اگر بعض معاملات پر اتفاق رائے نہ بھی ہو سکے تو بھی جنگ سے گریز ہی میں فائدہ ہے۔ جنگ کا سب سے ہولناک پہلو یہ ہے کہ یہ انسانی جان کے لئے اندیشہ بنتی ہے۔ اس میں وہ لوگ بھی نشانہ بنتے ہیں جن کا اس جنگ یا اس کے عوامل سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ جس طرح پیرس میں مرنے والے 129 لوگوں میں سے کتنے ہوں گے جو شام کی خانہ جنگی میں کسی فریق کی حمایت کرتے ہوں گے یا حکومت کی طرف سے بیرون ملک جنگجوئی کے فیصلہ کی تائید کرتے ہوں گے۔ ان میں سے بیشتر تو ان سیاسی پیچیدگیوں سے قطعی بے بہرہ ہوں گے، جن کے سبب انسان ہی انسانوں کا خون بہانے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ وہ تو موسیقی کے دلدادہ، رنگ و نور کے عاشق، امن کے متوالے تھے۔ لیکن ان کو نشانہ بنا کر، مزید خون بہانے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔ اسی طرح کون جانتا ہے کہ شام اور عراق میں دولت اسلامیہ پر ہونے والے حملوں میں مرنے والے کون لوگ ہیں۔ داعش کا پروپیگنڈا سیل کہتا ہے کہ ان میں بچے ، عورتیں اور شہری شامل ہیں۔ اس پروپیگنڈے کو مسترد کرنے یا تسلیم کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ داعش نے اپنے علاقوں سے معلومات کے تمام راستے بند کر کے دنیا کو اس کی اپنی فراہم کردہ معلومات کو ہی تسلیم کرنے پر مجبور کیا ہے۔ البتہ اس پروپیگنڈے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے بھی اس بات سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اتحادی طیاروں کی بمباری سے شہری بھی مرتے ہوں گے۔
سوال یہ ہے کہ کیا دولت اسلامیہ واقعی اپنے زیر نگیں علاقوں میں شہریوں کے جانی نقصان پر سیخ پا ہو کر بدلہ لینے کے لئے ان ملکوں میں حملے کر رہی ہے جو حملہ کرنے والے اتحاد میں شامل ہیں۔ عام عقل کا آدمی بھی آنکھیں بند کر کے یہ بتا سکتا ہے کہ یہ دعویٰ جھوٹا اور گمراہ کن ہے۔ لیکن اس کے باوجود مسلمان ملکوں میں آباد انسانوں کی بڑی تعداد اس جھوٹ سے متاثر ہو رہی ہے۔ ان میں مختلف گروہوں کی اپنی اپنی شکایات ہیں۔ ان شکایتوں کا تعلق نو آبادیاتی نطام کے عواقب، سرمایہ دار اور امیر ملکوں کے استحصال اور عالمی اداروں میں انصاف کی عدم دستیابی کے معاملات سے ہو سکتا ہے۔ اس قسم کی سب شکایتیں اپنے طور پر درست بھی ہو سکتی ہیں۔ اسی لئے ان کمزور گروہوں اور محروم لوگوں کو دہشت گرد گروہ اپنے پروپیگنڈا کے زور پر دھوکہ دینے اور جھوٹ کو سچ سمجھنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ جس طرح پیرس حملوں کے بارے میں اس بات کو عام کیا جا رہا ہے کہ یہ بے گناہ مسلمانوں کے خون کا انتقام لینے کے لئے کئے گئے ہیں۔ بہت لوگ اس جھوٹ کو سچ مان رہے ہیں۔ کیونکہ اس جھوٹ کو پھیلانے والوں نے سیاسی استحصال اور مذہبی جذبات کے آمیزے سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔ اس جال میں عالم مسلمان ہی نہیں وہ لوگ بھی پھنس چکے ہیں جو بزعم خویش دین کا علم اور تاریخ کا ادراک رکھتے ہیں۔
یہ بات اصرار سے دہرانے کی ضرورت ہے کہ داعش یا اسلام کے نام پر دنیا کے مختلف ملکوں میں کھڑی کی جانے والی متعدد دہشت گرد تنظیمیں نہ تو عقیدہ کی جنگ لڑ رہی ہیں اور نہ ہی وہ لوگوں کے وسیع تر گروہوں کے لئے خیر خواہی اور بھلائی کا جذبہ رکھتی ہیں۔ یہ گروہ ایک ایسی ذہنیت سے جنم لیتے ہیں جو صرف خوں ریزی اور قتل و غارتگری کو مسئلہ کا حل سمجھتی ہے۔ یہ لوگ مارنے اور مرنے پر تیار ہوتے ہیں کیونکہ انہیں اس فریب میں مبتلا کر دیا گیا ہے کہ لڑنے کے بعد جنت کے پرتعیش لوازمات اور حوریں بے صبری سے ان کا انتظار کر رہی ہیں۔ ان نوجوانوں کو مارنے پر آمادہ کرنے والے عناصر خود اپنے لئے اسی دنیا میں جنت کا سماں پیدا کر لیتے ہیں۔ اسی لئے یہ جنگ خطرناک اور ناگزیر ہے۔ یہ جنگ زندگی اور موت کے درمیان کشمکش ہے۔ یہ لڑائی اس ذہنیت کے ساتھ ہے جو زندگی کو ختم کر کے اپنی سرفرازی کا سامان بہم پہنچانا چاہتی ہے۔ اسی لئے یہ جنگ ہر اس انسان کی جنگ ہے جو زندگی کو نعمت سمجھ کر اس کی قدر کرتا ہے۔ ہر اس شخص پر اس جنگ میں شرکت لازم ہو گئی ہے جو اپنے رب کے اس حکم کو مانتا ہے کہ: ” میں زندگی دینے والا ہوں۔ تمہیں میرے حکم کے بغیر اسے لینے کا حق نہیں ہے “۔
زندگی پر پروردگار کے اس استحقاق کو مسترد کرنے والے ایسے گمراہ ہیں جن کا مقابلہ کئے بغیر اس دنیا میں امن قائم کرنا ممکن نہیں ہے۔ ان لوگوں نے نہ صرف ڈائیلاگ اور افہام و تفہیم کے اصول کو مسترد کیا ہے بلکہ یہ خدائی احکامات میں تحریف کے بھی مرتکب ہو رہے ہیں۔ ان لوگوں نے عقیدے کے نام پر گمرہی پھیلا کر موت عام کرنے والے لوگ تیار کئے ہیں اور اس طرح خود اپنے لئے طاقت ، اقتدار اور کامیابی کا راستہ تراشنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی لئے یہ لوگ گمراہ ہیں ، خطرناک ہیں، فاسد ہیں اور شرپسند ہیں۔ یہ اپنی بقا اور ہوس اقتدار کے لئے انسانوں کی زندگی کو ارزاں کر رہے ہیں۔ ان کا ہاتھ روکنا کرہ ارض پر آباد ہر اس انسان کا فرض اور خواہش ہے جو یہ مانتا ہے کہ زندگی بنیاد ہے۔ اسی پر اتفاق یا اختلاف کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔ جو لوگ ان بنیادوں کو ہلا کر ایک نیا جہان آباد کرنے کی باتیں کرتے ہیں وہ دراصل قانون فطرت اور حکم الٰہی کے باغی ہیں۔ کوئی سیاسی نظریہ یا دینی حکم باغیوں سے مفاہمت کی اجازت نہیں دیتا۔ کوئی نظام انہیں معاف نہیں کر سکتا۔
فرانس کا اعلان جنگ شرف آدمیت کی بحالی کے لئے ضروری ہے۔ اس جنگ کے طریقوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ اس تصادم سے نمٹنے کے لئے مختلف حکمت عملی پر بحث ہو سکتی ہے۔ لیکن اس اصول سے اختلاف ممکن نہیں ہے کہ انسان اور انسانیت کے دشمن گروہوں کے خلاف جنگ ہی بھلائی اور خیر کا راستہ ہے۔
پیرس حملوں کے بارے میں متعدد نظرئیے پیش کئے جا رہے ہیں۔ کوئی اسے داعش کی قوت سے تعبیر کر رہا ہے اور کوئی یہ دلیل دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ دراصل یہ گروہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ اور انتشار کا شکار ہے اور اب اندرونی لڑائی کو دوسرے ملکوں پر مسلط کر کے یہ خود حیات نو حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک ٹھوس رائے یہ بھی ہے کہ یورپ کو نشانہ بنا کر انتشار ، بدامنی اور افتراق پیدا کرنا اس گروہ کا مقصود ہے۔ اس طرح پرامن معاشروں کے مختلف گروہوں کو آپس میں لڑانے کا سامان بہم پہنچایا جا سکتا ہے۔ پیرس کے دہشت گرد حملوں کے بعد مسلمانوں اور تارکین وطن کے خلاف مختلف مقامات پر سامنے آنے والا ردعمل اس سماجی انتشار کی نشاندہی بھی کر رہا ہے۔ وہ سارے عناصر جو ان حملوں کے بعد انسانوں کے ایک گروہ کو انسانوں کے دوسرے گروہ کا دشمن قرار دے کر خود اپنے لئے جگہ بنانے کی کوشش کریں گے .... وہ دراصل اسی مائنڈ سیٹ کا روپ ہوں گے جو اپنی بدترین صورت میں انسانوں کو ہلاک کرتا، بموں سے اڑاتا یا خودکش جیکٹ پہن کر خود کو دھماکے سے ختم کر لیتا ہے۔ اس جنگ میں ہمیں اپنی صفوں میں ایسے انتشار پسند اور شیطان صفت عناصر سے بھی چوکنا رہنا ہے۔
یہ رائے سامنے آ رہی ہے کہ دیگر دہشت گرد گروہوں کی طرح دولت اسلامیہ یا داعش بھی اب اپنی زندگی کے آخری مرحلہ میں داخل ہو رہی ہے۔ اب اس نے خوں ریزی کا دائرہ عرب ملکوں کے بعد یورپ تک بڑھایا ہے۔ اب دنیا کی بڑی طاقتیں اس کے وجود کو برداشت نہیں کریں گی۔ ہو سکتا ہے یہ اندازے درست ہوں لیکن فی الوقت وزیراعظم فرانس نے یہ دہشت ناک خبر دی ہے کہ آئندہ دنوں ، ہفتوں یا مہینوں میں مزید دہشتگرد حملے ہو سکتے ہیں۔ پیرس حملہ کے مجرموں کا سراغ لگاتے ہوئے اسلحہ کے ٹھکانوں اور ایسے گروہوں کا پتہ لگایا جا رہا ہے جو مسلسل تباہی و بربادی پھیلانے پر آمادہ و تیار ہیں۔ اس لئے اس خطرناک گروہ کے ارادوں اور ہتھکنڈوں سے ہوشیار و چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔
اس جد وجہد میں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اسلحہ کے زور پر چند لوگوں یا گروہوں کو ختم کیا جا سکتا ہے، کسی خاص علاقے پر قبضہ ختم کروایا جا سکتا ہے لیکن موت اور تباہی کا یہ پیغام جذباتی اور نظریاتی صورت میں کسی نہ کسی جگہ موجود رہے گا۔ اسے ختم کرنے کے لئے بارود اور فوج کی نہیں، محبت ، افہام و تفہیم اور احترام پر مبنی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ یہ حکمت عملی تیار کرنا اور اسے عام کرنا بھی شرپسندی کے خلاف جنگ کا اہم حصہ ہے۔ زندگی اور انسانیت کے لئے لڑنے والے سب لوگوں کو اس جدوجہد میں اپنے اپنے طور پر حصہ ڈالنا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *