فیصل آباد لٹریری فیسٹیول

asghar nadeemادھر سردی نے ہلکی دھوپ کی چادر اوڑھی اور ادھر ادبی تہواروں نے انگڑائی لی۔ فیصل آباد لٹریری فیسٹیول سے پورے ملک میں ان فیسٹیولز کا آغاز ہو گیا۔ یوں سمجھیں جو بستر بندھا ہے تو یہ کہیں مارچ میں جا کے کھلے گا۔ اب ہم ان ادبی میلوں کے مسافر ہو چکے ہیں۔ فیصل آباد گزشتہ سال بڑے شہروں کی صف میں شامل ہوا ہے۔ جب یہ شہر لائل پور تھا تو اپنی ٹیکسٹائل اور مشاعروں کی وجہ سے مشہور تھا۔ یہاں کون نہیں آیا؟ جوش، جگر، جذبی، فراق، فیض، جالب، زہرہ نگاہ، عدم اور عدم آباد کو پہنچے بے شمار شاعر ان مشاعروں کی زینت ہوا کرتے تھے۔ پھر ایک زمانہ گزر گیا تو چار خواتین سارا حیات، توشیبا سرور، نازیہ نوید اور شیبا عالم نے سوچا جب شہر میں تعلیم بھی ہے اور ہنر بھی ہے تو یہاں لٹریری فیسٹیول کی روایت شروع ہونی چاہیے۔ یہ چاروں کبھی کنیئرڈ کالج میں پڑھ رہی تھیںاور ہاسٹل میں رہتی تھیں۔ اب اپنے اپنے شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ بس جب انہوں نے پرانے زمانے یاد کئے تو ان کے ناسٹلجیا نے فیصل آباد لٹریری فیسٹیول کو جنم دیا۔ ناسٹلجیا ایک سطح پر انسان کو طاقت دیتا ہے اور مستقبل کی طرف لے جاتا ہے۔ فیسٹیول کے افتتاحی اجلاس میں بھی ناسٹلجیا نے رونق لگائی۔ بھلا کیسے۔ موضوع تھا ’آج کے تناظر میں، ادب ، آرٹ اور کلچر‘۔ صدارت پر انتظار حسین اور افضل احسن رندھاوا براجمان تھے اور دو کلیدی خطبے جاوید جبار اور زہرہ نگاہ نے دیے۔ جاوید جبار گھاٹ گھاٹ کا پانی پی کر ایسے سکالر بن چکے ہیں جو تہذیبی اور ثقافتی رشتوں سے نکل کر آج کی دنیا کے سفاک کاروباری اور گلوبلائزیشن کے پنجوں کی گرفت کو روح پر محسوس کر رہے ہیں۔ بس یہی ان کا خطاب تھا۔ اور اپنی زہرہ نگاہ نے تو ہماری کلاسیکی شاعری سے ایسے اشعار کا پتہ لگایا جو آرمی پبلک سکول کے بچوں پر ہونے والے ظلم، صفورا کے سانحہ کے شہدا اور مساجد میں ہونے والے دھماکوں کے شہدا سے متعلق ہمیں بہت پہلے دو سو سال کے لگ بھگ آگہی دے دی تھی۔ اب یہ کیا ہے کہ کلاسیکی شاعری اور ہماری داستانیں آج اپنا مفہوم دے رہی ہیں اور انتظار حسین نے تو پاکستان میں موجود انتہا پسندی اور دہشت گردی کے اثرات کو فنون لطیفہ اور ادب پر نہ صرف محسوس کیا بلکہ اس کی گواہی ادب سے لے کر آئے۔ ایسے میں فیصل آباد لٹریری فیسٹیول کی افتتاحی تقریب جس میں ایک ہزار کے قریب لوگ آڈیٹوریم میں بیٹھے ہوئے تھے اور باہر بڑی سکرین پر پروگرام دیکھ رہے تھے۔ وہ سب کے سب ان باتوں کو نہ صرف محسوس کر رہے تھے بلکہ دردمندی کے ساتھ پرجوش انداز میں اپنے ادب کے معماروں کی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے ساتھ دے رہے تھے اور صحیح مقام پر تالیاں بجا رہے تھے۔اگرچہ ہندوستان میں میر باقر علی داستان گو کی روایت نے دہلی ہی سے جنم لیا۔ اب یہ روایت فیصل آباد میں آگئی ۔ جب فواد خان اور نذر الحسن نے داستان امیر حمزہ فیصل آباد لٹریری فیسٹیول میں سنائی۔ ایک نیا زمانہ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں جنم لے رہا تھا۔ داستان سننے کے لیے سب ہمہ تن گوش تھے اور ہمارے نوجوان فنکاروں نے میلہ لوٹ لیا۔ میر باقر علی کے آخری ایام چھالیہ بیچتے ہوئے بسر ہوئے مگر چھالیہ بھی ایسے بیچتے تھے کہ لوگوں کو گلوری کلے میں رکھنے کی تہذیب سکھاتے تھے۔ داستان پہلی بار فیصل آباد میں سنائی گئی تو ایسے لگا جیسے آج کی سیاست کے عمروعیار بھی یہیں کہیں موجود ہیں۔ عطاالحق قاسمی نے اپنی نثر کا سماں باندھا۔ اگلے روز جو پروگراموں کی جھڑی لگی تو سمجھو رات ہو گئی۔ سننے والوں کا جی نہیں بھرتا تھا۔ پاکستا ن بھر سے کیسے کیسے ستارے امڈ پڑے تھے۔ کشور ناہید سے آصف فرخی گفتگو کر رہے تھے۔ ایک واقعہ نور جہاں کا سنایا کہ جب منیر احمد شیخ ملکہ ترنم سے ملنے گئے تو میڈم کو بتایا کہ اس کا بھی دو سال ہوئے دل کا آپریشن ہوا تھا۔ میڈم نے پوچھا ڈاکٹر نے کیا احتیاط بتائی تھی۔ منیر احمد شیخ بھی بڑا بذلہ سنج تھا۔ بولا۔ ڈاکٹر نے آکھیا”گھٹ کے جپھی نہ پانا“۔ میڈم نے فوراً کہا۔ ”فیر ملن دا کی فیدہ“۔ یہ واقعہ انہوں نے اپنی کتاب ”مٹھی بھر یادیں“ سے سنایا۔
پنجابی کے ناول نگار اور شاعر جو لائل پور کی سیاست کے بہت شناور رہے ہیں افضل حسین رندھاوا۔ ان سے صغریٰ صدف گفتگو کر رہی تھیں۔ کہنے لگے پنجابی اس لیے بولتا ہوں کہ میری غلطیاں کوئی نہیں پکڑ سکتا۔ پھر کہنے لگے میرے سوا میرے خاندان کے ہر آدمی پر قتل کا پرچہ ہو چکا ہے کیونکہ ہم مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ مستنصر حسین تارڑ کے ساتھ کشور ناہید نے ان کی ’پندرہ کہانیوں‘ پر بات کی۔ دل کو چھونے والی کہانیوں پر مستنصر ماضی میں چلا گیا۔ اس کے پڑھنے والوں نے دل کھول کر داد دی۔ مجھے یاد ہے کہ جب ہم دونوں آگرہ میں تاج محل دیکھنے گئے تو ایک پرندہ ایک گنبد سے اڑ کر دوسرے گنبد پر آکر بیٹھ گیا تو مستنصر حسین تارڑ نے کہا ’شاہ جی یہ جو پرندے کی مٹھی بھر اڑان ہے یہ میرے سفرنامے کے بیس صفحے ہیں۔ اس سے اندازہ لگائیں کیا کیا کچھ ان کے اندر موجود ہے۔
نوید شہزاد انگریزی کی استاد، فلم تھیٹر اور ٹی وی کے شعبے کی سربراہ رہیں۔ فیشن ڈیزائننگ کے ادارے کو سنبھالا۔ والد ایس اے رحمن نے لاہور آرٹس کونسل کی بنیاد رکھی۔ ”سچ گپ“ سے سیریل ”غلام گردش“ تک ٹیلی ویژن میں فنکاری کے جوہر دکھائے۔ اس فیسٹیول میں ان سے مہر تارڑ نے پاکستانی انگریزی فکشن پر بات کی تب معلوم ہوا بڑی گہری نظر ہر ناول پر ہے۔ سوال اٹھایا کہ پاکستانی انگریزی فکشن کیا ہے؟ جسے امریکہ اور یورپ میں رہنے والے پاکستانی لکھ رہے ہیں یا وہ ہے جس کا تعلق پاکستان کے مسائل سے ہے۔ اس کے علاوہ تھیٹر، فلم اور میڈیا پر بہت کھل کے بات کی اور ایسے فیسٹیولز کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ سنجیدہ علمی اور فکری مباحث سے سننے والوں کی تربیت کی جائے۔ ’سچ گپ‘ کی نوید شہزاد آج بھی اسی طرح اپنے ڈیڈی اور ممی کے اونچے طبقے پر بھولی صورت بنائے طنز کر رہی تھی۔ آج کی نوجوان نسل کو نہیں پتہ ہمارا ٹیلی ویژن کن تخلیقی بنیادوں پر قائم ہوا تھا۔ اسی حوالے سے ایک سیشن کمال احمد رضوی کے ساتھ بھی تھا جس میں نوید شہزاد اور عثمان پیرزداہ ہمارے تھیٹر کی صورت حال اور ماضی کو یاد کر رہے تھے۔ کمال احمد رضوی ایک زمانے سے منقار زیر پر تھے، گھر میں بیٹھے تھے۔ یہ خواتین انہیں کراچی سے لے آئیں۔ کمال احمد رضوی نے لاہور میں اپنا مشکل وقت بھی گزارا اور آسودہ وقت بھی دیکھا۔ جب عثمان پیرزادہ نے پوچھا کہ آپ تھیٹر کی طرف کیسے آئے تو برجستہ کہا ’فاقوں سے مجبور ہو کر اس طرف آیا۔ کبھی کبھی تو آرٹس کونسل کی میز پر سو جاتا تھا کبھی کبھی فٹ پاتھ پر بھی سویا۔ مگر من میں تھا کہ کرنا تھیٹر ہے۔ پھر لکھا۔ اردو بازار میں ترجمے کی مزدوری بھی کی اور پھر ٹیلی ویژن آیا تو کئی طرح کے کام کیے۔لاہور آرٹس کونسل میں ہر طرح کا تھیٹر کیا۔ آخر الف نون پروگرام سے شہرت مل گئی ۔ اس سیشن میں بھی تھیٹر کے مسائل سامنے آئے۔
خورشید محمود قصوری کی کتاب ”نہ فاختہ نہ عقاب“ تو انڈیا کی یاترا سے سرخرو ہو کر آئی۔ ایک نئی سمت میں انڈیا کا سفر جاری ہوا۔ قصوری صاحب وہاں شیوسینا سے نہیں ڈرے اور اپنا مو¿قف بیان کر کے آئے۔ یہاں اس ادبی میلے میں سیاسی، سماجی اور تہذیبی تجزیہ نگار خالد احمد ان سے بات کر رہے تھے۔ خالد احمد کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ انہوں نے اپنے سکول کا رول نمبر بھی بتا دیا اور اپنے محلے کو بھی یاد کیا۔ یہ ڈائیلاگ بہت گرماگرم ثابت ہوا۔ قصوری صاحب نے انڈیا کی رہنمائی کی کہ نفرت کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔ انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر ماضی میں ہونے والے مختلف فارمولوں کا تفصیل سے ذکر کیا اور بتایا کہ سمجھوتہ ہونے والا تھا صرف واجپائی کے دستخط ہونا باقی تھے کہ پھر وہی ہوا جو ایسے موقعوں پر ہوتا ہے۔
ایک سیشن زہرہ نگاہ کے ساتھ تھا جس میں انہوں نے پاکستان میں ہونے والی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے واقعات پر نظمیں سنائیں۔ یہ نظمیں تو اب لوگوں کو زبانی یاد ہو چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لوگ مجھے فاطمہ ثریا بجیا اور زبیدہ طارق سمجھ کر بہت تعریف کرتے ہیں۔ میں اب اس کی عادی ہو چکی ہوں۔ میں خوب داد سمیٹتی ہوں ۔ مجھے کیا پڑی ہے کہ کہوں کہ میں زہرہ نگاہ ہوں۔ جب کوئی پوچھتا ہے ان کی ایک تیسری بہن بھی تھی تو کہتی ہوں وہ مر گئی ہے اور ان دو بہنوں میں زندہ ہے۔ فیض کے نام جو سیشن تھا اس میں منیزہ ہاشمی ، عدیل ہاشمی اور عارفہ سید نے خوب رنگ جمایا۔ منیزہ ہاشمی نے بچپن کی ایک بات بتائی کہ ابا جب جیل میں تھے تو ایک عجیب سی خوشی تھی۔ جب لڑکیاں پوچھتیں تمہارے ابا کہاں ہوتے ہیں تو میں کہتی میرے ابا جیل میں ہیں۔ تمہارے ابا کہاں ہیں۔ آخری سیشن راحت کاظمی اور ساحرہ کاظمی کے ساتھ تھا۔ ان سے میں نے گفتگو کرتے ہوئے ان کے سفر کے کئی پڑاﺅ جھانکے۔ راحت کاظمی کے ’دھوپ کنارے‘ اور ’تیسرا کنارہ‘ پر باتیں ہوئیں۔ راحت کو جو خواتین آج ملتی ہیں تو اپنے جوان بچوں سے کہتی ہیں جوانی میں ہمیں ان پر کرش تھا۔ راحت غریب اپنی عمر چھپانا بھی چاہے تو نہیں چھپا سکتا۔ ساحرہ کاظمی نے اپنے تجربے بیان کیے اور آج کے ڈراموں کی خوب خبر لی۔ فیسٹیول ختم ہوا تو مجھے چندی گڑھ کا شمشیر سنگھ یاد آیا جو مجھے ملنے آیا تھا اور رو رو کر اپنے لائل پور کو یاد کر رہا تھا۔ اچانک اس نے رونا بند کیا اور کہنے لگا۔ لائل پور کے گھنٹہ گھر کی چابی میرے پاس ہے۔ وہ چابی لے جاﺅ اور جب بارہ بجیں تو گھنٹہ گھر چوک میں مجھے یاد کر لینا۔

فیصل آباد لٹریری فیسٹیول” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *