فرانسسیسی پرچم کی ڈی پی لگانے والے کون ہیں ؟

waqar ahmad malikکچھ لوگوں نے فرانسیسی جھنڈے کی ڈی پی لگائی اور اس سے زیادہ تعداد میں لوگوں نے ان ڈی پیز پر کمنٹس کی شکل میں ان کی کِٹ لگائی۔ فرانس سمیت پوری دنیا کہیں اور ارتکاز کیے ہوئے ہیں اور ہم ہمیشہ کی طرح کسی اور ہی بکھیڑے میں الجھے ہیں۔ میں نے بہت سے کمنٹس پڑھے ہیں اوریہی محسوس ہوا کہ واقعات کو بطور دلیل پیش کرنے کی روایت مزید مضبوط ہوئی ہے جس کاکوئی انت یا انتہا ہو ہی نہیں سکتی ۔
غالبا یہ وہی فرانس ہے جو فلسطین کی آزادی کی تحریک کی حمایت کرنے والے یورپی ممالک کا رہنما ملک ہے ۔
Availability Aeuristic سائیکالوجی کا ایک بہت بڑ اموضوع ہے ‘ آسان الفاظ میں اس کی تشریح یو ں ہو سکتی ہے کہ انسان فیصلہ کرتے وقت کوئی بہت پیچیدہ الگورتھم یا حساب کتاب نہیں کرتا بلکہ یاداشت میں آسانی سے میسر واقعات کو بنیاد بنا کر فیصلہ کر لیتا ہے ۔ اس دریافت کے بعد انسان کی ’عقلی صلاحیت‘ پر بہت سے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے، بہت مباحثے ہوئے ۔
اور اس کی بہت سی مثالیں دی جا سکتیں ہیں ‘ میڈیا ‘ سیاست ‘ کاروبار کے شعبے مثالوں سے بھرے پڑے ہیں ۔ اگر آپ سے پوچھا جائے کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ کی موت کی وجہ سانس کے نظام میں انفیکشن ہو گی یا دل کا دورہ، اور انہی دو وجوہات میں سے ایک کو چننا ہے تو اکثریت دل کے دورے کو چنے گی ۔ اس کی وجہ یاداشت میں دل کے دورے کے حوالے سے خبروں کا بہت گہری اور زیادہ جگہ کا گھیرنا ہے ۔ دل کا دورہ اچانک ہوتا ہے، میڈیا پر بہت زیادہ خبریں دل کے دورے کے حوالے سے ہوتیں ہیں ، کوئی بھی اچانک ہونے والا وقوعہ ہمیں حیرت میں ڈالتا ہے اور ہر حیران کن چیز ہماری یاداشت کا مستقل حصہ بن جاتی ہے ۔ جبکہ اگر تیسری دنیا کی شماریات دیکھیں تو سانس کے انفیکشن سے مرنے والوں کی تعداد 11.3% ہے جبکہ دل کے دورہ سے مرنے والوں کی تعداد 4.9% ہے ۔
تیسری دنیا میں اکثریت کی یاداشت کی تشکیل طاقتور کا عمومی بیانیہ طے کرتا ہے ۔ وہ بیانیہ زیادہ بکتا ہے جو سازشی نظریات لیے ہو کیونکہ سازشی نظریات ہمیں اچھے لگتے ہیں۔ یہ ایک بہت کمال کا نفسیاتی موضوع ہے کہ دماغ سازشی نظریات کو قبول کرنے میں کیوں آسانی محسوس کرتا ہے۔
تیسری دنیا میں طاقتور مذہبی ،سیاسی، میڈیائی یا فوجی گروہ ہوتے ہیں ۔ ان کے سازشی نظریات سے مزین بیانیے رائے عامہ کی تشکیل کرتے ہیں ۔
ہم دنیا میں گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ گروہی نفسیات میں ایک بڑی دلچسپ چیز پائی جاتی ہے ۔ ہر گروہ اپنے اندر بہت زیادہ تنوع اور دوسرے گروہوں کو ایک اکائی کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ یعنی ہم اپنے آپ کو سنی شیعہ دیوبندی بریلوی میں بٹا ہو ا دیکھتے ہیں لیکن یہودی یا عیسائی ہمیں ایک اکائی یا بغیر کسی تنوع کے ایک مضبوط گروہ کی شکل میں نظر آتے ہیں اور اس کے لیے ایک بڑی بھلی سی اصطلاح ہے نفسیات کیOutgroup homogeneity ۔ بالکل اسی طرح ایک عیسائی یا یہودی.... مسلمان کو ایک اکائی کی نظر میں دیکھتے ہیں ۔۔اسی لیے یہ دعویٰ زیادہ عرصہ چلنے والا نہیں ہے کہ دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ ابھی تک یہ فقط اس لیے چل رہا ہے کیونکہ مغرب نسبتاً عقلی تعصبات پر قابو پانے میں باقی دنیا سے بہتر ہے جس کی وجہ تعلیم ہے ۔ بلکہ آپ ایک اور دلچسپ بات Group attribution error کے حوالے سے دیکھئے ۔ نفسیات کا علم کہتا ہے کہ دوسرے گروپ کے کسی ایک شخص کے رویے کو پورے گروپ کے مائنڈ سیٹ کی عکاسی خیال کیا جاتا ہے چاہے حقیقت بالکل ہی مختلف کیوں نہ ہو۔ اور یہ غنیمت ہے کہ اب بھی عام فرانسیسی شہریوں سے اس طرح کے بیانات سامنے آرہے ہیں کہ تمام مسلمانوں یا اسلام کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں.... یہ غنیمت ہے۔
سائیکولوجی کے نزدیک وہ تمام لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں جو گروہی تعصبات سے بالاتر سوچ رکھتے ہیں۔ وہ فرانسیسی خاتون جو کہ رہی ہے کہ یہ شرپسندی بحیثیت مجموعی مسلمانوں کی عکاس نہیں ہے یا وہ پاکستانی جو فرانسیسی جھنڈے کے ساتھ انسیت ظاہر کر رہا ہے ۔
یہاں پر ایک اعتراض پیدا ہو ا کہ اہل مغرب نے پاکستان میں یا دوسرے اسلامی ممالک میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف اس طرح کی یکجہتی نہیں دکھائی ۔
مجھے بتدریج کم ہوتی حساسیت (desensitization) کو یہاں انگریزی میں ہی نقل کرنے کی اجازت دیجئے
Diminished emotional responsiveness to a negative or aversive stimulus after repeated exposure to it.
آپ یادکیجئے پرانے وقتوں کو جب گاﺅں یا محلے میں کسی کو اچانک ہارٹ اٹیک ہو جاتا تھا تو برسوں اس واقعہ کو یا د رکھا جاتا کیونکہ آبادی کم اور اس طرح کے واقعات کی فریکوئنسی بھی کم ہوتی تھی ۔ لیکن کسی واقعہ کو بار بار دہرانے سے جذباتی رد عمل کم ہوتا چلا جاتا ہے ۔ اگر ایک ملک میں جس کانام چاند ہو دہشت گردی کا واقعہ ہو جائے تو رد عمل شدید ہو گا۔ آنکھیں نم ہوں گی ‘ تعزیت کا تانتا ہو گا لیکن اسی ’چاند‘ پہ سیکڑوں واقعات ہونے لگیں تو سائنسی حوالے سے میں جذبات کی شدت ظاہر نہیں کر پاﺅں گا ۔
آپ نے دیکھا کہ فرانس میں واقعہ ہوا تو رد عمل کس قدر شدید تھا ۔ یقین جانئے، اللہ ہر کسی کو محفوظ رکھے، لیکن ایسے بیس واقعات کے بعد اس ردعمل میں کمی آتی چلی جائے گی ۔
جب ہر دہشت گردی میں آلہ کار مسلمان نکلیں، ایک دوسرے کو مارنے میں عالمی شہرت کے حامل ہو جائیں ، دوسرے فرقے کا کوئی مر جائے تو احساس نام کی کوئی چیز نہ ہو، ہزارہ قبیلہ اپنے جنازے یخ سردی میں باہر رکھے بیٹھا ہو اور میڈیا اس احتجاج کو دکھا رہا ہو ۔ اس احتجاج میں معصوم بچے سردی میں ٹھٹھر رہے ہوں اور سارے شہروں میں احتجاج فقط متاثرہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے کر رہے ہوں ۔ میڈیا اس یخ بستہ سردی میں ٹھٹھرتے بچوں کو دکھانے کے ساتھ ساتھ اس شہر میں ہمدردی کو گئے وزیر اعظم کو دکھائے جو انگیٹھی کے پاس بیٹھا آگ سینک رہا ہو تو آہستہ آہستہ دوسرے ممالک بھیe desensitiz ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ یہ کوئی ایسا پیچیدہ ریاضیاتی عمل نہیں ۔
میں یہی فقرے لکھنے کے دوران سوچ رہا ہوں کہ ایک پورا آرٹیکل اس موضوع پر لکھا جا سکتا ہے جس کا عنوان ہو ”انسانی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ۔۔۔لفظ لیکن“
سائیکالوجی کو چھوڑیے فلسفہ کی جانب آئیے ۔اب تک کی انسانی عقلی ترقی کے لیے سب سے بڑے اور موثر ہتھیار استخراجی اور استقرائی استدلال (Inductive and Deductive Reasoning)رہے ہیں ۔ ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے کی کچھ حدود ہیں ۔
تمام انسان فانی ہیں
زید ایک انسان ہے
زید فانی ہے
اس ہتھیار کو استعمال کر کہ انسان کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ جو قومیں آپ کو تنزلی کا شکار نظر آتی ہیں ان کو غور سے دیکھئے ۔ ان میں اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جو پہلے بیان یا فقرے کہ ساتھ ”لیکن یا اگر“ لگاتی ہے ۔تمام انسان فانی ہیں لیکن.... تمام انسان فانی ہیں اگر.... فرانس پر حملہ غیر انسانی فعل ہے لیکن.... طالبان اور القاعدہ کے اقدام درست نہیں ہیں لیکن ....
تمام گروہوں سے بالاتر ہو کر عالمی سچائی یہ ہے کہ بے گناہ انسانوں کا قتل غلط قدم ہے.... فل سٹاپ!
کیوں نہ ہم اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ اپنے گروہ کو زیادہ سے زیادہ طاقتور اور اثرورسوخ حاصل کرنے کے لیے کچھ سیاسی ، مذہبی اور فوجیوں نے مسلح جتھے پالے ہوئے ہیں جو انسان کو تباہی کے گڑھے کی جانب دھکیل رہے ہیں ۔ اب آپ کا تعلق کسی گروپ یا گروہ سے ہے تو اپنے گروہ کے مفادات کو مقدم جانئیے اور اگر ایسا نہیں ہے تو فرانسیی جھنڈے کے ساتھ ڈی پی لگانے میں کوئی حرج نہیں۔

فرانسسیسی پرچم کی ڈی پی لگانے والے کون ہیں ؟” پر بصرے

  • نومبر 18, 2015 at 2:52 AM
    Permalink

    میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

    Reply
  • نومبر 20, 2015 at 2:15 PM
    Permalink

    جناب وقار احمد ملک صاحب بات صرف ڈپی لگانے کی نہیں ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ صرف مغرب والوں کے ساتھ کچھ ہو جائے تو اس طرح رد عمل کیوں ہوتا ہے میرئے سمیت دنیا کی بہت بڑی اکثریت کو فرانس والوں سے ہمداری ہے اور انسان ہونے کے ناطے سے ہہیں ہمداری ضرور کرنے چاہیے۔ تاہم عرق پر حملے کے حوالے ٹونی بیلیر کی معافی پر کوئی ڈی پی کیوں سامنے آیا ؟ ابھی بھارت کے کسی عہدار کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ 9/11 کے حملے کرنے والوں کی مالی معاونت میں بھارت بھی ملوث تھا اس پے آپ کیا فرماتے ہیں۔

    Reply
  • نومبر 20, 2015 at 3:41 PM
    Permalink

    jnab paris waloon ka kia qasoor tha hum tu kai saal nam nahad jahdeeo ki mehman nawazi kart ry . aur us ka natija samnay hy ab bhi waqt hy hum hosh kay nakhan lain aur pakistan ko as laanat sy pak kar kay taeqi ki tarf aagya barddy aap log lafzoon mn mat uljhain sirf roshni ka rasta dekhain aur lekhty howay umeed ka daman nahi chrrna chahey.kio aysa masla nahi jis ka hal na ho. mshkal nahi hy kuch bhi aagar thaan lejeay.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *