کیاچار گواہ ضروری ہیں؟

Yasir Pirzadaایک عام تاثر یہ ہے کہ اگر عورت ریپ کا شکار ہو جائے اور اس عمل کی گواہی دینے کیلئے چار گواہ،جو تزکیہ الشہود کی شرائط پر پورے اترتے ہوں، میسر نہ ہوں تو پھر اس ریپ کو عدالت میں ثابت نہیں کیا جا سکتا اور نتیجے میں ملزمان کا عدم ثبوت کی بنا پر رہا ہونا شریعت اور قانون کے عین مطابق ہے ۔زنا کے مقدمے میں چار گواہوں کی شرط کچھ اس طرح سے لازم و ملزوم ہے کہ اس ضمن میں کسی قسم کی تحقیق کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی جاتی، ایک عام آدمی کی بات چھوڑئیے ،اچھے خاصے عالم بھی یہی بتاتے ہیں کہ عورت کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی زیادتی کے ثبوت کے طور پر چار گواہ لانے کی پابند ہے۔ ہم مسلمان قرآن کو سونے کے غلاف میں لپیٹ کر گھر میں کسی اونچی جگہ رکھ دیتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ ہم نے قرآن کی محبت کا حق ادا کردیا ،ہم اس کی تلاوت ضرور کرتے ہیں مگر زیادہ تر قلوں یا چالیسویں کے موقع پر اور وہ بھی بغیر ترجمے کے،حالانکہ اللہ کی کتاب سے رہنمائی لینے کا حکم تو خود اللہ کے رسول ﷺ نے دیا ہے ،توذرا دیکھئے خود اللہ نے قرآن میں اس بابت کیا فرمایا ہے: زنا کے متعلق ابتدائی حکم سورۃ النساء کی آیت نمبر 15اور 16میں آیا تھا ’’تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کی مرتکب ہوں ان پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو ،اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آ جائے ،یا اللہ ان کے لئے کوئی راستہ نکال دے ۔اور تم میں سے جو اس فعل کا ارتکاب کریں ان دونوں کو تکلیف دو، پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کر لیں تو انہیں چھوڑ دوکہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے‘‘۔اس کے بعد زنا کے بارے میں دو ٹوک احکامات سورۃ نور میں نازل کئے گئے ،آیت نمبر 2میں حکم آیا ’’زانیہ عورت اور زانی مرد ،دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو‘‘۔ اس کے بعد آیت نمبر 5میں خدا فرماتا ہے ’’اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں ،پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں ،ان کو اسّی کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو اور وہ خود ہی فاسق ہیں ،سوائے ان لوگوں کے جو اس حرکت کے بعد تائب ہو جائیں اور اصلاح کر لیں کہ اللہ ضرور (ان کے حق میں) غفور و رحیم ہے‘‘۔ اس کے بعد تیسری سچویشن اسی سورۃ کی آیت نمبر 9میں بیان کی گئی ہے ’’اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے اپنے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو ان میں سے ایک شخص کی شہادت (یہ ہے کہ وہ)چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ (اپنے الزام میں) سچا ہے اور پانچویں بار کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ (اپنے الزام) میں جھوٹا ہو اور عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر شہادت دے کہ یہ شخص (اپنے الزام میں)جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس بندی پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر وہ (اپنے الزام میں) سچا ہو‘‘۔
ان آیات سے پانچ باتیں ثابت ہوتی ہیں : پہلی،زنا بالرضا،جسے انگریزی میں adulteryکہتے ہیں، کی سزا قرآن نے سو کوڑے مقرر کی ہے اور یہ سزا چونکہ خود قرآن میں دی گئی ہے اس لئے اسے حد کہیں گے۔ دوسری ،جو شخص کسی پاکدامن عورت پر الزام لگائے اور چار گواہ پیش نہ کر سکے اس کی حد اسّی کوڑے مقرر کی گئی ہے ،تیسری،شوہر اگر اپنی بیوی پر الزام لگائے تو اسے قسم کا کھا کر ثابت کر سکتا ہے مگر بیوی بھی جواب میں اللہ کی قسم کا کھا کر اس کا الزام رد کر سکتی ہے ،اس صورت میں کوئی سزا نہیں ،چوتھی ،عورت کے ساتھ زیادتی یعنی ریپ کی صورت میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ اسے ثابت کرنے کے لئے عورت کو چار گواہ پیش کرنے ہوں گے اور پانچویں بات یہ کہ رجم جسے انگریزی میں stone to deathکہتے ہیں ،کی سزا کا بیان قرآن میں کہیں نہیں ۔بہت سارے علماء بشمول مولانا مودودی کا یہ کہنا ہے کہ شادی شدہ افراد کے لئے رجم کی سزا اجماع امت سے ثابت ہے مگر اس ضمن میں سورۃ النساء کی آیت نمبر25یہ کہتی ہے کہ ’’پھر جب وہ حصار نکاح میں محفوظ ہو جائیں اور اس کے بعد کسی بد چلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر اس سزا کی بہ نسبت آدھی سزا ہے جو خاندانی عورتوں (محصنات) کے لئے مقرر ہے‘‘۔ اب اگر شادی شدہ عورت کے لئے رجم کی سزا ہوتی تو اس صورت میں اس کی آدھی سزا کیسے دی جا سکتی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں رجم کی سزا کا دو ٹوک ذکر کہیں نہیں البتہ اسلام کے ابتدائی دور کے کچھ واقعات میں اس کا تذکرہ ملتا ہے۔
موضوع بحث فقط یہ ہے کہ کیا ریپ کیس میں عورت کے لئے چار گواہ پیش کرنا قرآن کی رو سے ثابت ہے؟ زنا سے متعلق آیات پڑھنے کے بعد کہیں سے بھی یہ تاثر نہیں ملتا کہ ایک عورت کے ساتھ اگر ریپ ہو جاتا ہے تو اسے ثابت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ چار گواہ پیش کرے وگرنہ گھر بیٹھ رہے الٹا چار گواہوں کی شرط مردوں کے لئے ہے کہ اگر وہ کسی عورت پر بدچلنی کا الزام لگائیں تو چار گواہوں سے ثابت کریں ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریپ کے شکار عورت کی داد رسی کیسے کی جائے؟ تو اس ضمن میں علامہ جاوید غامدی اور دیگر جید علماء کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ ریاست کے قوانین اس کی داد رسی کریں گے اور جرم ثابت ہونے پر تعزیر لاگو ہو گی یعنی مظلوم عورت مدعی بن کر مقدمہ درج کرائے گی،قاضی ملزمان کو صفائی کا موقع دے گا اور واقعاتی شہادتوں، ڈی این اے ٹیسٹ اورجسمانی معائنہ اور دیگر قرائن اور ثبوت کی روشنی میں فیصلہ صادر کرے گا ،اگر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو ریاست کے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی جو تعزیر کہلائے گی، چونکہ اس جرم کی حد مقرر نہیں کی گئی لہٰذا یہ سزا جرم کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ،عمر قید یا سزائے موت بھی ہو سکتی ہے ۔دراصل یہ ساری کنفیوژن حدود آرڈیننس کی پھیلائی ہوئی ہے ،اس کے سیکشن 8میں لکھا تھا کہ زنا کا ثبوت ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ملزم یا تو اپنے جرم کا اقرار کرے یا پھر اس عمل کو چار گواہوں نے،جو سچے اور راست باز مسلمان ہوں، اپنی آنکھوں سے ہوتے دیکھا ہو ۔نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ جو عورت ریپ کا الزام لگاتی وہ حدود آرڈیننس کی رو سے زنا کی ’’مرتکب‘‘ تو ٹھہرتی مگر جس پر الزام لگایا جاتا وہ چھاتی ٹھوک کر کہتا کہ چار گواہ موجود نہیں لہٰذا باعزت بری! واضح رہے کہ یہ آرڈیننس اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم بعد ازاں اس میں وومن پروٹیکشن ایکٹ 2006ء کے تحت ترمیم کردی گئی ،اس ترمیم پر بھی کونسل کو اعتراض ہے۔ جس ملک میں اسلامی نظریاتی کونسل کا سربراہ ریپ کے بارے میں کہے کہ یہ تو انگریزی کا لفظ ہے، میں اس کو نہیں جانتا،اس ملک میں ریپ کا شکار ہونے والی عورتوں کی دادرسی کیسے ہوگی…کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *