اشتیاق احمد اور ہماری نسل

aasemہماری نسل نے ابن صفی اور مظہر کلیم کی عمران سیریز اشتیاق احمد کے بعد پڑھنی شروع کی۔ دو چار مغربی مصنفین کے علاوہ اشتیاق احمد اور اے حمید ہی تھے جنہوں نے تعلیم و تربیت، نونہال اور بچوں کی دنیا جیسے رسالوں سے اوپر اٹھ کر ہمیں ناولوں کے درجے پر اس تیزی سے پہنچایا کہ مطالعے کے لئے درکار سالوں کی تربیت دنوں مہینوں ہی میں ہو گئی۔ ابن صفی، سسپنس ڈائجسٹ اور ریڈرز ڈائجسٹ نے ہمیں یقیناً یہ سکھایا کہ کس وقت اشتیاق احمد کو خیرباد کہہ کر آگے بڑھ جانا چاہئے لیکن بہرحال پہلا عشق اپنے اندر ایک ایسا ناسٹیلجیا رکھتا ہے جس کی شدت عجیب و غریب ہوتی ہے۔
اشتیاق احمد کو خیرباد کہے کافی عرصہ گزر چکا تھا اور اب ہم ہیرلڈ رابنز، جیفری آرچر، دیوتا اور چھلاوا جیسی دنیاو¿ں میں اس طرح قدم رکھ چکے تھے کہ پیچھے مڑنے کی خواہش ہی نہ تھی، جب معلوم ہوا کہ فرحت اور فرزانہ نے پردہ کرنا شروع کر دیا ہے اور انسپکٹر جمشید، کامران مرزا اور شوکی برادران وغیرہ اب کسی طالبانی ریاست میں شفٹ ہو گئے ہیں تو شدید افسردگی کا سا احساس تھا۔ اس احساس کو ذرا مزید کریدنے پر معلوم ہوا کہ ہمارا بایاں بازو واضح طور پر دائیں بازو سے کافی لمبا ہو چکا ہے اور ہمیں طلسماتی طور پر مرکز سے ہٹا چکا ہے۔
ابھی لڑکپن بمشکل ہی گزرا تھا اور نوجوانی کی اس اولین منزل پر ہم اس حقیقت سے آشنا نہ تھے کہ یہ بازو¿وں کا کھیل ان گنت وجوہات کی بنا پر کچھ ناقابلِ فہم، ماورائے بیان مقامات پر ایستادہ انسان کی محض اپنے سفر اور پڑاو¿ کی مختلف منزلوں کو ملفوظ کرنے، انہیں ایک علامتی قبا پہنانے کی خواہش ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ سب ہمارے ساتھ اسی اونچے مقام پر کھڑے حقیقت کا نظارہ کریں جو اوجِ فہم کی جانب ہمارے سفر کا انجام، ہمارے تلاش کے اس کٹھن سفر کا صلہ ہے۔ آج اپنے آپ کو ٹٹولا تو محسوس ہوا کہ ہم میں سے کئی اشتیاق احمد سے بلاوجہ نالاں تھے جیسے انہوں نے اپنے اولین قارئین سے بغاوت کی ہو۔ ہماری پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا ہو۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ احساس اپنے اندر کچھ ایسا ہی بچگانہ پن لئے تھا جیسے آسکر وائلڈ، پراو¿سٹ یا فاسٹر کا ہم جیسا محبوب قاری ان سے صرف اس لئے نالاں ہو کہ وہ ہم جنس پرست کیوں تھے۔
تاہم بایاں بازو اب کافی لمبا ہو چکا تھا لہٰذا اس وقت ہم اتنی فکری غیرجانبداری کا مظاہرہ نہ کر سکے کہ اشتیاق احمد کو کہانی اور کرداروں کی طاقت کے ذریعے کچے ذہنوں پر اپنے نظریات ثبت کرنے کا پورا اختیار تھا اور ہمیں انہیں نظر انداز کر دینے کی پوری آزادی۔
khalidاب ان سے معافی تو نہیں مانگی جا سکتی مگر یاد پڑتا ہے کہ کہیں دل ہی دل میں اور کبھی نوجوانی کی محفلوں میں ان کے اس نئے اسلوبِ تحریر کا خوب مذاق بھی اڑایا۔ اگر وہ سن لیتے تو شاید ہمارے بائیں بازو کے اعتقادات میں انہیں کسی حد تک اپنے ’سلاٹر‘ یا ’جیرال‘ جیسے قدرے لبرل ’ولنز‘ کی استعاراتی تجسیم ہوتی نظر آتی۔
جب کل ہی اتفاقاً معلوم ہوا کہ اٹلانٹس پبلیکیشنز والوں نے (جو وقتاً فوقتاً اشتیاق احمد کے تمام ناول دوبارہ شائع کر رہے ہیں) ’عمران کی واپسی‘ شائع کیا ہے تو اپنے اندر کم و بیش بچپن جیسی امنگ ہی جاگتی محسوس کی کہ کاش کسی طرح فوراً ہاتھ لگ جائے۔ لیکن اس دفعہ اس بچگانہ خواہش کی تہہ میں صرف یہ ’بزرگانہ‘ فکری و تحقیقی سسپنس تھا کہ دیکھیں آیا یہ نیا عمران کہیں اشتیاق احمد کے ہاتھوں اس نئی دنیا میں واپسی پر کسی فرقہ وارانہ تحریک کا ایک رکن تو نہیں بن گیا۔
ابھی ابھی معلوم ہوا کہ اشتیاق احمد اب اس دنیا میں نہیں رہے تو یوں لگا جیسے ایک عہد ختم ہو گیا۔ کسی ایسی محبوب چیز کے گم جانے کا احساس ہے جس سے قرب کی واحد وجہ وہ خود نہ ہو بلکہ اس سے جڑے کئی دوسرے واقعات و احساسات اور ان گنت خوبصورت لمحے ہوں۔
ذہنی کیفیت کم و بیش اسی طرح ہے جب 1990ءکی گرمیوں میں ایک دن کالج سے گھر پہنچنے پر معلوم ہوا کہ امی نے اشتیاق احمد سمیت بچپن کی تمام کتابوں کے تین چار بڑے بڑے صندوق ایک اسکول کی لائبریری کو ہدیہ کر دئیے ہیں۔ بہت سٹپٹائے کہ کسی طرح واپس مل جائیں مگر ایک نہ چلی۔ امی کا کہنا تھا کہ اب بڑے ہو چکے ہو اور دوسرے بچوں کو ان دنیاو¿ں کی سیر کرنے دو۔
نہ جانے اشتیاق احمد اب کس مشن پر ہیں اور کن حیرت انگیز دنیاو¿ں کی سیاحت کر رہے ہیں۔ اللہ سے یہی دعا ہے کہ ان کے لئے اس سفر میں آسانیاں ہوں۔
انا للہ و انا الیہ راجعون۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *