دولتِ اسلامیہ پر فضائی حملوں میں اضافہ

russian_sukhoi_suروس اور فرانس نے شام میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف فضائی حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ منگل کو روس نے سمندر سے اور طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے بمبار طیاروں سے دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو کروز میزائل سے نشانہ بنایا۔ دوسری جانب فرانس نے بھی شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگی جہازوں سے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ روس کی جانب سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جاری فضائی کارروائیوں میں شدت اس وقت آئی ہے جب ملک سکیورٹی چیف نے تصدیق کی ہے کہ مصر کے علاقے سینا میں تباہ ہونے والے روسی مسافر طیارے کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ 48 دنوں میں اس کی ایئر فورس نے شام میں 23 سو فضائی کارروائیاں کی ہیں۔

Typhoon_jet_russian_bear EpAاس کے علاوہ پیرس میں جمعے کو ہونے والے حملوں کے بعد روسی صدر ولادی میر پوتن نے بحری فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ بحیرۂ روم میں موجود فرانسیسی بحری جہازوں سے اتحادی کی طرح تعاون کریں۔ روس کے صدر ولادی میر پوتن نے پیر کی رات سکیورٹی اجلاس میں کہا ہے کہ ان کے ملک کی شام میں جاری کارروائیوں میں شدت لائی جانی چاہیے۔ ’ شام میں ہماری فضائی کارروائیاں نہ صرف جاری رہنی چاہییں بلکہ ان کو زیادہ تیز کیا جانا چاہیے تاکہ مجرموں کو اندازہ ہو کہ انتقام ناگزیر ہو چکا ہے۔‘ منگل کو روس نے دوسری بار سمندر سے شام میں کروز میزائل داغے۔ روس کی وزارتِ دفاع کے مطابق بحیرۂ روم میں موجود آبدوز سے یہ میزائل دولتِ اسلامیہ کے مضبوط گڑھ رقہ میں تنظیم کے تربیتی مراکز اور شہر کے قریب اسلحہ کے ڈپو پر داغے گئے۔

اس کے علاوہ روس نے طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے بمبار طیاروں کو بھی شام میں استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان طیاروں سے کروز میزائل فائر کیے گئے۔ پیر کو فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پیرس پر حملوں کے بعد فرانس دولت اسلامیہ کو تباہ کرنے کے لیے پر عزم ہے اور دولت اسلامیہ کے خلاف جاری فرانس کی فوجی کارروائیوں میں بھی مزید شدت لائی جائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *