مشرق وسطیٰ کا اصل مسئلہ کیا ہے؟

zeeshan hashimشرق وسطیٰ لہو رنگ ہے- عراق پر امریکی حملے، ناکام عرب سپرنگ ، اور شامی بحران نے اس کے دکھوں کو مزید بڑھاوا دیا ہے - عرب دنیا کا تاریخی مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب بھی کوئی آمر رخصت ہوتا ہے تو اپنے پیچھے تباہ حال ادارے چھوڑ جاتا ہے ،جن کے سبب سیاسی ،سماجی و معاشی استحکام ممکن نہیں رہتا اور یوں خانہ جنگی سے استحکام کا سفر کٹھن ، صبر آزما ، اور جان لیوا ہوتا ہے -
آج سے پندرہ بیس برس قبل اگر کسی ملک میں عدم استحکام پایا جاتا تو دنیا اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتی تاوقتیہ کہ وہ ملک دوبارہ سے استحکام حاصل کر لیتا - مگر آج دنیا بدل چکی ہے ، جس طرح سیاست معیشت اور سماج گلوبلائزڈ ہو گئے ہیں اسی طرح عدم استحکام اور دہشت گردی بھی گلوبلائزڈ ہو گئی ہے - آج ایک ملک میں عدم استحکام پہلے اس کے پڑوسیوں ،پھر پوری دنیا پر اثر انداز ہوتا ہے - اسی طرح دہشت گردوں نے بھی گلوبل نیٹ ورکس کا خوب فائدہ اٹھایا ہے ، انٹرنیٹ سے ٹیلی کمیونیکشن ، زیر زمین کی مارکیٹ میں اسلحہ و تیل کی تجارت ، اور بغیر قانونی سفری دستاویزات سے کسی بھی ملک کا سفر آسان ہو گیا ہے -
افریقہ نو آبادیاتی عہد کے خاتمہ سے اب تک خانہ جنگی کا شکار ہے ،مگر سوائے نائجیریا کے (بوکوحرام کے اسلامی دہشت گرد گروپوں سے تعلقات کی وجہ سے ) وہاں سے عالمی دہشت گردی کا خطرہ سامنے نہیں آیا - لاطینی امریکہ کے سیاسی و انتظامی حالات بھی مثالی نہیں ،مگر وہاں سے بھی عالمی دہشت گردی کا خطرہ نہیں پیدا ہوا جس کی ایک وجہ عالمی نیٹ ورکس سے جڑا نہ ہونا ہے تو دوسری وجہ عالمی ایجنڈے کی عدم موجودگی ہے ۔ مگر مشرق وسطیٰ جو صدیوں سے یورپ و ایشیا (یوریشیا) کے درمیان خیالات ،تجارت ،اور افراد کے درمیان نقل و حمل کی گزرگاہ رہی ہے ، میں کوئی بھی عدم استحکام اب پورے ایشیا و یورپ کو متاثر کر سکتا ہے -
عرب دنیا کا مطالعہ کرنے والے سنجیدہ ذہنوں میں دو سوال متواتر زیر غور رہتے ہیں - ایک یہ کہ عرب دنیا میں النہدی جیسی تحریکوں کو پذیرائی کیوں نہ مل سکی یا عرب سپرنگ کامیاب کیوں نہ ہو سکی جب کہ یہ خطہ سید قطب و اخوان کے مذہبی رجعت پسند افکار کے لئے موزوں رہا ہے ، اس کا سبب کیا ہے ؟دوم ، یہاں آمریت کا متبادل سیاسی عدم استحکام ہی کیوں ہے ؟ ان سوالات کا جواب تاریخ کے نہاں خانہ سے اگر حاصل کیا جائے تو نہ صرف پورا منظر سمجھنے میں آسانی ہو گی ،بلکہ حالات حاضرہ پر بھی صحیح گرفت قائم کی جا سکتی ہے - مشرق وسطیٰ کی ثقافت کی تعمیر درج ذیل اسباب کی بدولت ہے -
. قبائلی معاشرہ اور کالونیل عہد کی میراث ... عرب معاشرہ صدیوں سے قبائلی تمدن میں رہنا پسند کرتا آیا ہے ، قبائلی تمدن دراصل وسائل کی خاطر خانہ جنگی کا دوسرا نام ہے ،جس میں تصادم نسل درنسل چلتا ہے- جب تک یہاں عثمانی خلفا کی حکومت رہی اس تمدن کو قائم رکھا گیا- نو آبادیاتی عہد نے اس کی سیاسی تنظیم نو کی جو اس وقت تک کامیاب رہی جب تک ان کی حکومت رہی ۔ نو آبادیاتی عہد اس سلسلے میں تین بڑی میراث چھوڑ گیا ہے -
- سیکورٹی ادارے یعنی فوج کو سول سوسائٹی پر بالادستی ملی جس نے بعد از نو آبادیاتی عہد میں آمریت قائم کی -
- امراءکا ایسا طبقہ پیدا کیا گیا جس نے نو آبادیاتی طاقتوں کو مدد فراہم کی - اس عہد کے خاتمہ کے بعد بھی یہ طبقہ معاشرہ پر بالادست رہا -
- سرحدوں کی تشکیل نو .. نو آبادیاتی عہد کے دوران اور اس کے خاتمہ پر، ان قوتوں نے اپنی مرضی سے قبائلی و تاریخی حقائق کا ادراک کئے بغیر سرحدوں کی حد بندی کی جو ابھی تک کہیں قائم ہیں تو کہیں متنازعہ ہیں -
- قبائلی تنظیم سے قومی ریاست کی طرف سفر فطری نہ تھا ، جسے قبائلی تمدن جذب نہ کر سکا - یہ سمجھنا عرب سماج کے لئے آسان نہ تھا کہ اب قبیلہ یا خاندان پر قومی ریاست کو برتری حاصل ہے اور قانون پورے ملک میں وہی لاگو ہو گا جسے قومی ریاست سند قبولیت عطا کرے گی -
. آمریت اور تیل کی دولت .... تیل کی معیشت کے سبب ریاست کو شہریوں کے ٹیکسز ، انسانی وسائل پر مبنی سرمایہ کاری ، اور شہریت کو جوابدہ اداروں کی ضرورت نہ رہی یوں شہریوں کی قابلیت اور ذہنی ترقی پر توجہ دینے کے بجائے انہیں لاعلم و آوارہ رکھا گیا - جس کے سبب نہ سول سوسائٹی پیدا ہوئی اور نہ علم و فکر اور سائنسی تمدن پیدا ہو سکا - تیل کی پیداوار نے تیل کی رسد کی معیشت کو تو جنم دیا مگر صنعتی پیداوار اور اقدار نہ پنپ سکیں یوں معاشرہ ہنوز روایتی قدیم قبائلی تمدن میں جی رہا ہے ،جس میں روایتی رجعت پسند خیالات کو زیادہ پذیرائی ہے ، اسی سبب جمہوریت ، انسانی حقوق ، شہریت کی مساوات جیسے خیالات کو یہاں فروغ نہیں مل سکا -ہر آمر کے لئے یہ صورتحال زیادہ سازگار رہی ہے جس میں وہ مزید بڑھاوا دیتا آیا ہے ۔
. کولڈ وار کی وراثتیں ... یہ علاقہ کلاس وار کے لئے انتہائی سازگار رہا ہے - ایک طرف امراءو شہنشاہ تیل کی دولت سے مالامال ہر آسائش سے لطف اندوز ہو رہے ہوں اور دوسری طرف نوجوانوں کی اکثریت بے روزگار اور بے بس ہو تو بعث پارٹی (اسلامی سوشلزم ) کو فروغ ملنا آسان تر تھا - امریکہ و مغربی دنیا کی معیشتوں کے لئے تیل کی رسد بھی یہیں سے جاری تھی ، اسی لئے سوویت نواز حکومتوں کا قیام ان ممالک کے لئے انتہائی تشویشناک بات تھی - لینن نے کہا تھا ”اگر عالمی استعمار کو شکست دینی ہے تو عرب سلاطین کو شکست دینا لازم ہے....“ یوں دونوں سپر پاورز نے اپنے اپنے مفادات کی جنگ اس خطہ میں لڑی اور دونوں طاقتوں نے اپنے اپنے کیمپ کے فوجی آمروں اور سلاطین کو تحفظ فراہم کیا جن کے سبب یہاں فوجی و سول آمریت کو تحفظ و استحکام ملا ۔ بے روزگار عرب نوجوانوں کی بے چینی ہنوز قائم ہے ، عرب بہار کی ناکامی نے انہیں مایوس کر دیا ہے ، جس کے سبب ان میں شدت پسند خیالات کو فروغ ملا ہے -
. عرب اسرائیل جنگ ... اس خطہ میں مغرب دشمنی کا اصل جنم 1967ءکی عرب اسرائیل جنگ میں ہوا ۔ جب امریکہ سمیت مغربی دنیا نے اسرائیل کو مدد فراہم کی جو ہنوز جاری ہے۔ عرب دنیا کو شکست ہوئی جس کے سبب مغرب سے نفرت میں بے حد اضافہ ہوا۔ اس وقت سے سازشی نظریات اور یہودیوں کی مغربی دنیا پر قبضہ کے افسانوں کو فروغ ملا - اسرائیل فلسطین مسئلہ جب تک زندہ ہے اور اسرائیلیوں کو امریکہ سے مدد مل رہی ہے تب تک عسکریت پسندی اور مغرب دشمنی کا اس خطہ میں خاتمہ ناممکن ہے -
. سعودیہ و ایران کی باہم کشمکش اور سنی شیعہ تنازعہ - عراق شام یمن بحرین اور لبنان میں یہ فرقہ ورانہ کشمکش عروج پر ہے جس نے عرب دنیا کو مزید تقسیم کر دیا ہے - سعودیہ اگر سنی رجعت پسندی کو فروغ دیتا ہے تو ایران شیعہ رجعت پسندی کو بڑھاوا دیتا ہے ، یوں فرقہ واریت میں اضافہ دونوں طرف کے دھڑوں کو مزید نئی بھرتیوں کے لئے نوجوان مہیا کرتا ہے - شام و عراق کے مسئلہ کو گھمبیر و پیچیدہ کرنے میں چار ممالک کا خاص ہاتھ ہے ، سعودیہ ،ایران ،امریکہ اور روس - آج جو ہتھیار داعش داغ رہی ہے وہ اسد مخالف دھڑوں کو سعودیہ و امریکہ نے تقسیم کئے تھے اور اگر اسد اپنی ہی عوام کے خلاف بربریت کا ثبوت دے رہا ہے تو اس کی مدد کو ایران و روس پوری قوت سے موجود ہیں ، یوں ایک سیاسی تنازعہ نے مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رکھا ہے ۔
عراق پر امریکی حملے ، ناکام عرب بہار ، اور حالیہ شامی بحران کے تجربات نے مغربی دنیا کو دوبارہ سے اس ڈاکٹرائن سے رجوع کرنے پر آمادہ کر دیا ہے کہ ترقی پذیر دنیا میں ترقی کی اول شرط سیاسی استحکام ہے ، اسی استحکام کی خاطر دوبارہ سے ایشیا افریقہ اور لاطینی امریکہ میں آمریت اور سلاطین کو قبول کیا جائے گا - اس سے قلیل مدت کے لئے تو امن و امان کے مسائل حل ہو جائیں گے مگر طویل مدت کے لئے ہر گز نہیں جب تک کہ رجعت پسندی کو فروغ دینے والے تمام اسباب کا خاتمہ نہیں ہوجاتا -

مشرق وسطیٰ کا اصل مسئلہ کیا ہے؟” پر بصرے

  • نومبر 18, 2015 at 2:10 PM
    Permalink

    ایک بہت جاندار اور منطقی تجزیہ ۔۔۔۔۔سلامت رہو ہاشم ندیم

    Reply
  • نومبر 18, 2015 at 4:30 PM
    Permalink

    Impressive! Well done

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *