ٹونی بلیئر کی پشیمانی اور ڈیوڈ کیلی کی موت

anwersen1برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کچھ روز قبل اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ عراق پر حملے کے لیے انھیں جو اطلاعات فراہم کی گئیں وہ درست ثابت نہیں ہوئی۔
اس اعتراف سے جو تباہی اور بربادی وابستہ ہے وہ ساری تو ایک چھوٹے سا کالم میں بیان نہیں ہو سکتی لیکن میں ٹونی بلیئر کے موجودہ بیان اور بی بی سی کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں کیوں کہ ان دنوں میں بی بی سی سے منسلک تھا اور لندن میں تھا۔ برطانیہ توگذشتہ سال سے جاری انکوائری کے ذریعے صرف یہ جاننا چاہتا ہے کہ 2003 ءمیں کیے جانے والے اس حملے میں برطانیہ کی شرکت درست تھی یا نہیں کیوں کہ اس کے نتیجے میں برطانیہ کے ایک سو اسی فوجی ہلاک ہوئے۔ لیکن کیا صرف اتنا ہی ہوا تھا۔ ٹونی بلیئر نے اعتراف عراق جنگ کے بارے میں قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کے سامنے کیا ہے۔
فروری 2003ءمیں امریکہ، برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے عرق پر بڑا حملہ کر دیا۔ اسے ‘عراق کی آزادی کی جنگ’ کا متنازع نام دیا گیا۔ عراق پر حملے سے قبل ایک جواز نامہ جاری کیا گیا جسے Dossier September کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور جس میں کہا گیا تھا کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلا سکنے والے ہتھیار ہیں۔ لیکن عراق پر امریکی حملے اور ایک من پسند حکومت کو مسلط کرنے کے بعد سے اب تک کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔ ا±س وقت بھی اس حملے کے لیے امریکی اور برطانوی گٹھ جوڑ میں شامل ملکوں کو اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی حمایت حاصل نہیں تھی نہ ہی اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے امریکی برطانوی گٹھ جوڑ سے کیے جانے والے دعووں کی تائید کی تھی۔ ذرا بی بی سی کے حوالے سے اس کا پس منظر دیکھیں۔ یہ بھی یاد کرنا چاہیے کہ15 فروری کو دنیا بھر میں عراق پر حملوں کے دنیا بھر میں شدید احتجاج کیے گئے اور سب سے بڑا احتجاج لندن میں کیا گیا۔ یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ مسلمان ملکوں کے برخلاف زیادہ بڑے احتجاج یورپ اور امریکہ میں ہوئے۔ ا±س وقت کہا گیا تھا کہ عراق پر حملے کے لیے جواز نامے کو امریکی صدر جارج بش کے مقاصد سے ہم آہنگ کیا گیا تھا۔
29 مئی 2003 ءکو بی بی سی کے رپورٹر اینڈریو گلیگن نے ایک ریڈیو پروگرام میں ’ایک اعلیٰ حکومتی‘ اہلکار کے حوالے سے بتایا تھا کہ حکومت نے خفیہ اداروں 12240829_10153071792207186_6010577789329199056_oکی مرضی کے خلاف عراق کے بارے میں دستاویز میں بڑھا چڑھا کر بات کی ہے۔ حکومت نے اس کے خلاف شدید ردِ عمل ظاہر کیا اور بی بی سی سے کہا کہ وہ اس خبر کی تردید کرے اور اس کے ساتھ بی بی سی سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ خبر کا ذریعہ بتائے۔ بی بی سی نے خبر کے درست ہونے پر اصرار کیا اور یہ بھی کہا کہ خبر کا ذریعہ نہیں بتایا جا سکتا۔ اس پر ایک کمیشن قائم کیا گیا جس میں اینڈریو گلیگن نے بتایا کہ خبر کا ذریعہ ہتھیاروں کے سائنسداں ڈاکٹر ڈیوڈ کیلی تھے۔ اسی دوران ڈاکٹر کیلی بھی خارجہ امور کی ایک کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ وہ بی بی سی کے رپورٹروں سے ملے تھے لیکن انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں وہ بی بی سی کی خبر کا ذریعہ نہیں تھے۔ اینڈریو گلیگن نے چند روز بعد ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ڈاکٹر کیلی سے ملنے والی اطلاع کو نشر کرنے میں کوئی غلطی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کیلی نے ایسے ہی خیالات کا اظہار بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں بھی کیا تھا۔ اس کے کچھ ہی دن بعد ڈاکٹر ڈیوڈ کیلی پر اسرار طور پر مردہ پائے گئے اور کہا گیا کہ انھوں نے خود کشی کی ہے۔ اس پر ایک اور کمیشن بنا اور ڈاکٹر کیلی کی موت کے پر غور کے لیے عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بی بی سی پر ہی کچھ تجزیے کاروں نے ڈاکٹر کیلی کی موت کا ایک ممکنہ سبب بی بی سی کو بھی قرار دیا۔ اسی دوران برطانوی دارالعوام میں حزب اختلاف کے ارکان نے بی بی سی پر غیر ذمہ داری، جانبدداری اور ایک متنازع خبر کا حد سے زیادہ دفاع کرنے کے الزامات 12227776_10153071793752186_324146567711715924_nلگائے اور ساتھ ہی برطانوی وزیر اعظم اور بی بی سی کے اعلیٰ عہدیداروں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کر دیا۔ بی بی سی کے اعلیٰ منتظمین مصر تھے کہ انڈریو گلیگن کی رپورٹ معیار کے مطابق درست تھی۔ لیکن ہوا یہ کہ بی بی سی کے بورڈ آف گورنرز کے چیرمین گیوین ڈیوس کو مستعفی ہونا پڑا ان کے ساتھ کئی اور لوگ بھی مستعفی ہوئے سب سے آخر میں مستعفی ہونے والے رپورٹر اینڈریو گلیگن تھے۔
12 سال بعد چند جملوں میں کیے جانے والے ٹونی بلیئر کے اس اعتراف سے کہ ان سے غلطی سرزد ہوئی کیا وہ سب چیزیں تبدیل ہو سکتی ہیں، لوٹ سکتی ہیں جو عراق پر حملہ کے نتیجے میں سامنے آئیں۔ ایک ملک ، اس کی خوش حالی، اس کے لوگوں کی زندگیاں ، لاکھوں بچوں کا مستقبل، ایک تہذیب کا خاتمہ اور سب سے بڑھ کر ا±س کی کوکھ سے داعش کی پیدائش؟
میں نہیں سمجھتا کہ ہم اپنے رہنماو¿ں سے غلطیوں کے اعترافات کا مطالبہ کر سکتے ہیں نہ ہی اس تحریر کا مقصد کسی ایسی خوش فہمی میں مبتلا ہونا ہے لیکن اس کا ایک معمولی سا مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جو پاکستان میں اطلاعات کی سیاست اور دشواریوں کو سمجھنے کی خواہش رکھتے ہیں اس کے ذریعے کچھ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اگر برطانیہ جیسے ملک میں بی بی سی جیسے ادارے اور ڈاکٹر کیلی جیسے سائنسداں کے ساتھ یہ سب ہو سکتا ہے تو پاکستان میں کیا ہورہا ہو گا اور کیا نہیں ہوتا ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *