پیرس جینا نہیں بھولا

Heroism Parisپیرس کی فضاؤں میں غم کا واضح احساس ہے۔ شراب خانوں کے قریب، ریستوران اور کانسرٹ ہال جہاں ایک طرف گولیوں کے خول بکھرے اور خودکش بمباروں کے ایک گروہ نے خود کو اور وہاں موجود دوسرے لوگوں کو دھماکے سے اُڑا دیا، وہیں خطرناک حقیقتیں بھی فضاؤں میں لرز رہی ہیں۔ ٹریفک اور جانی پہچانی افراتفری جاری ہے لیکن پھولوں کے پہاڑ، پیغامات، جھنڈے اور موم بتیاں اس المیے کی یاد دلاتی ہیں جو اب بھی تازہ ہے۔ پیرس کے باسی 33 سالہ کریسٹوس کو یقین ہے کہ ’کسی نہ کسی طرح‘ ان حملوں نے شہر کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا ہے۔ کریسٹوس نے مجھے لی کیریون بار اور پیٹیٹ کومبیج ریستوران کے باہر جہاں 15 افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا تھا، وہاں خاموشی کی عکاسی کرتی فضا میں بتایا: ’یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے داغ ہمیشہ رہتے ہیں۔ ہمیں پہلے سے زیادہ مستحکم اور متحد رہنا ہو گا۔ اس وقت شہر میں ہر طرف اضطرابی کیفیت نظر آتی ہے۔ کوئی بھی کسی آسان سوال کا جواب نہیں دے سکتا، کیوں؟ یونانی والدہ اور کانگو نژاد والد کے ساتھ کریسٹوس نے اِس شہر کے بین الاقوامی تشخص کی نمائندگی کی ہے۔

27 سالہ کِم سیمی اولسن غم کے احساس میں ڈوبے ہوئے تھے۔ انھوں نے بتایا: ’میں یہیں پیدا ہوا تھا، انھی لڑکوں کی طرح جنھوں نے یہ سب کیا۔ اس لیے ہمیں سمجھ میں نہیں آتا کہ اُن کے ساتھ ایسا کیا ہوا کہ انھوں نے یہ سب کیا۔ یہ مذہب نہیں ہے۔ یہ بربریت ہے یہ جنگ ہے۔ اگر آپ ایک انسان ہیں تو آپ ایسی چیزوں کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتے۔‘ لیکن کچھ دوسرے لوگ جیسے کہ مارسل ناراض ہیں۔ وہ اس واقعے سے چند منٹ قبل ہی اپنی دوست کے ساتھ اپنی گلی کے کونے پر موجود کیفے بونا بیئر پیدل گھر چلے گئے تھے اور پھر مخالف سمت واقع کیسا نوسٹرا پیزیریا کو گولیوں سے بُھون دیا گیا۔ مارسل کا کہنا ہے: ’میں مایوس ہوں۔ میرے نزدیک یہ جنگ کی ابتدا ہے۔‘

France Parisپیرس کے اس کونے میں پانچ افراد ہلاک اور آٹھ شدید زخمی ہوئے تھے۔ لی ایلبرٹینی دوسروں کی طرح پھولوں کے ایک ڈھیر پر اُداس کھڑی ہیں۔ انھوں نے ابتدائی دو روز اپنی ایک دوست کے گھر میں گزارے۔ لی ایلبرٹینی نے مجھے بتایا: ’میں گلی میں تمام پولیس اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود خود کو محفوظ تصور نہیں کر رہی۔‘ لیکن کریم جنھوں نے جنوب میں واقع شہر بوردو سے پیرس کا پہلے سے طے شدہ دورہ ملتوی نہیں کیا، اس بات پر سختی سے کار بند ہیں کہ زندگی چلتی رہنی چاہیے۔ لی ایلبرٹینی کے مطابق: ’اگر ہم جینا چھوڑ دیں تو یہ بربریت پسند سمجھیں گے کہ وہ ٹھیک تھے۔‘ رفائیل اودرت سرکشی کے اُس احساس کی نمائندگی کرتی ہیں جس کے لیے فارسی مشہور ہو رہے ہیں۔ دن کے اوقات میں وہ ایک بینک میں کام کرتی ہیں اور رات میں رضاکارانہ طور پر آرڈر آف مالٹا نامی تنظیم کے ساتھ طبی معاون کے طور پر کام کرتی ہیں۔

جمعے کی رات یہ اُن لوگوں میں شامل تھیں جو سب سے پہلے باتاکلان پہنچے۔ جب گولیوں کی گھن گرج جاری تھی اور حملہ آور تب بھی بڑے پیمانے پر وہیں موجود تھے۔ میدانِ جنگ کی عکاسی کرتے ہوئے اُن مناظر کی یادیں رفائیل اور اُن کے ساتھیوں کو خوفزدہ کر دیتی ہیں، جنھوں نے قتلِ عام میں زخمی ہونے والوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے جدوجہد کی۔ شہر میں دیگر دوسرے لوگوں کی طرح ’انھوں اپنی چھٹیاں خوف کے اس احساس کے ساتھ گزاریں‘ کہ اُن متاثرین میں اُن کے رشتے دار یا دوست احباب شامل ہوسکتے ہیں۔ لیکن اُنھیں یقین ہے کہ پیرس کی رونقیں واپس لوٹ آئیں گی۔

جب وہ حملوں کے بعد پہلی بار باتاکلاں واپس لوٹیں تو انھوں نے مجھے بتایا: ’چاہے جو بھی ہوجائے لیکن پیرس ہمیشہ پیرس ہی رہے گا۔ فرانسیسیوں کے دلوں کو ٹھیس پہنچی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہم بھول گئے ہیں۔ زندگی اسی طرح رواں دواں رہے گی کیوں کہ ہم انھیں یہ نہیں سوچنے دینا چاہتے کہ انھوں جو کچھ کیا وہ ٹھیک تھا۔‘

بشکریہ ٹام برئیج
بی بی سی نیوز پیرس

پیرس جینا نہیں بھولا” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *