سوال گڈ گورننس کا۔۔

umer Farooqیہ ہے پاکستان۔ ایک ٹرین کا حادثہ ہوتا ہے اور اس میں کئی افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ایک فیکٹری کی پوری بلڈنگ منہدم ہو جاتی ہے اور اس میں بہت سارے مزدور دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ ایک فیکٹری میں آگ لگ جاتی ہے اس میں بھی بہت سارے انسان جھلس جاتے ہیں اور ہمیشہ کی نیند سو جاتے ہیں۔ ایک اسکول پر دہشت گرد حملہ کرتے ہیں اور معصوموں کو اپنی سفاکیت اور درندگی کا نشانہ بناتے ہوئے کئی ماﺅں کے لال ان سے جدا کر دیتے ہیں۔ ایک مخصوص عقیدہ کے ایک گروہ کی بس کو دن دھاڑے روک کر چند نا معلوم حملہ آور ایک ایک کو فائرنگ کر کے موت کی وادیوں میں اتار دیتے ہیں۔ ایک جنت کا متلاشی چرچ میں جا کر اپنے اللہ کو خوش کرنے کے لیے (اس کے عقیدے اور سوچ کے مطابق) ان لوگوں کو موت کے پروانے تھما دیتا ہے جو کہ اپنے خدا کو خوش کرنے کے لیے اس کی عبادت میں مصروف ہوتے ہیں۔ ایک نہتی لڑکی کو محض اس لیے گولیوں کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں کہ وہ اس ملک کی نصف سے زائد آبادی کے حقوق خصوصاََ ان کے حق تعلیم کی بات کرتی ہے اور پھر اتنا کر کے بھی ٹھنڈے نہیں ہوتے تو اس کو غدار اور ایجنٹ کے القاب بھی دے دیتے ہیں۔ یہ ہے پاکستان کہ جس میں روز انہ کئی معصوموں کی عزتیں مردانہ معاشرے کی مردانگی کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ جہاں انصاف نہ ملنے پر قانون کے عملداروں اور محافظ خانوں کے سامنے خود کو آگ لگا لیتی ہیں۔ یہ ہے وہ پاکستان کہ جہاں ماں اپنے بچوں کو غربت ، بھوک اور افلاس سے تنگ آ کر یا تو برائے فروخت کے کارڈز ان کے گلے میں ڈال کر انہیں چوکوں میں بیٹھا دیتی ہے یا پھر اپنے ہاتھوں سے ان کی زندگیوں کے دیئے بجھا دیتی ہے۔ یہی وہ ملک ہے کہ جہاں گھروں، گلیوں، بازاروں، اسکولوں، ہسپتالوں، عبادت گاہوں حتیٰ کہ قبرستانوں میں بھی آپ محفوظ نہیں ہیں کیونکہ کسی بھی وقت کوئی دنیا کو نیکی طرف راغب کرنے اور بدی سے روکنے کا ٹھیکیدار اپنے جسم پر بارود باندھے وارد ہو گا اور اپنی اور آپکی زندگی کا چراغ گل کر دے گا۔ یہ وہ ملک ہے کہ جو معاشی طور پر نہایت کمزور پوزیشن میں ہے اور اسی وجہ سے سخت شرائط پر لیے گئے بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبتا چلا جا رہا ہے۔ یہاںنظام عدل و انصاف بھی انتہا درجے کے مسائل کا شکار ہے۔
یہ ساری خرابیاں ہیں یہاں، یہ ساری بد انتظامیاں ہیں یہاں اور یہ سارے مسائل اسی ملک کے ہیں جسکو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام تو دیا گیا لیکن اس پورے نام میں شامل لفظ اسلامی پر تو اپنا پورا زور، وسائل اور دن رات صرف کر دیے لیکن ایسا کرتے کرتے نہ صرف اپنے ملک کا ایک بہت بڑا حصہ گنو ا بیٹھے بلکہ مسائل کے انبار کھڑے کر دیے اور ترقی کی دوڑ میں باقی دنیا سے بہت ہی پیچھے رہ گئے۔ دوسری طرف اپنے ان سارے مسائل اور حالات کا ذمہ اس نظام اور اس میں شامل لوگوں کو ٹھہرایا کہ جس کو ہم نے اس ملک کے قیام کے تقریباََ دو دہائیوں کے بعد اس سرزمین پر پاﺅں رکھنے کا موقع دیا۔ لیکن ایسا نہیں کہ دیر آید درست آید اس نظام کو تھوڑا وقت دیتے اور اس کو آزادی دیتے کہ وہ اس ملک اپنے ثمرات سے مستفید کرتا ، بلکہ بار بار اس کی ہلکی سی اڑان بھرنے پر ہی اس کے پروں کو دوبارہ آمریتوں کی قینچی نے کاٹ ڈالا۔ حب الوطنی سے سرشار بوٹوں کی تھاپ پر کوئی بھی مرد مومن اٹھتا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جمہور کی رائے سے منتخب کردہ حکومتوں کو کبھی غدار، کبھی کرپٹ اور نہ جانے کیسے کیسے نظریہ ضرورتوں کے جواز پیش بناکر چلتا کر دیتا اور خود ایماندار، حب الوطن اور نجات دہندہ بن کر اقتدار کی کرسی پر غیر معینہ مدت کے لیے براجمان ہو جاتا۔ پھر انکے پوتر دور اقتدار میں جو کچھ ہوتا وہ کافی حد تک ملکی مفاد میں ڈھکا چھپا ہی رہتا ہے۔ ملک نام تو اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھ دیا گیا لیکن جمہورکو اقتدار کا مالک بننے سے ہمیشہ صرف محروم ہی نہیںرکھا بلکہ ان کی سوچوں میں بھی اس خیال کو پنپنے نہ دیا۔ لیکن جب بھی ان سارے اقدامات کی وجہ سے ملکی حالات خراب ہوئے اور مسائل میں اضافہ ہوا تو سارا کا سارا الزام جمہور کی رائے سے منتخب کردہ حکومتوں کا مقدر ٹھہرا۔
آج سے چند روز پہلے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کور کمانڈر کانفرنس کے بعد ایک پریس ریلیز جاری کی اور اس میں ہماری فوج کے سپہ سالار کی طرف سے موجودہ حکومت سے کچھ گلہ شکوہ کیا گیا اور حکومت سے یہ کہا گیا ہے کہ سانحہ آرمی پبلک سکول کے واقعہ کے بعد سیاسی اور عسکری قیادت کی مرضی اور منشا سے جو نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا تھا تا کہ وطن عزیز سے دہشتگردی اور انتہا پسندی جیسے ناسور کی جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے اور اپنے آج اور کل کو محفوظ بنایا جا سکے، کی مکمل کامیابی کے لیے فوج کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے ساتھ ساتھ حکومت وقت کی طرف سے گورننس کو بھی درست انداز میں لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔ اس پریس ریلیز کے آتے ہی میڈیا ، سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے اور تجزیوں ، تبصروں اور بیانات کا ایک دبنگ سلسلہ شروع ہوا جو کہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے ۔ یاد رہے کہ وطن عزیز پاکستان ایک ایسی ریاست ہے کہ جہاں جمہوری نظام حکومت قائم ہے اور جمہوریت کی تعریف کے مطابق عوام کی حکومت ، عوام کے لیے حکومت اور عوام میں سے حکومت کی بنیاد پر ایک سیاسی حکومت ملک کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہے ۔ ہمیں اس بات کو کبھی بھولنا نہیں چاہیے کہ جمہوری طرز حکمرانی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ طاقت ، اختیار اور اقتدار اعلیٰ کے حقیقی مالک عوام ہوا کرتے ہیںاور تمام مقتدر قوتیں اپنی آئینی ذمہ داریوں اور کارکردگی کے اعتبار سے عوام کو جوابدہ ہوا کرتی ہیں۔ جمہوری طرز حکمرانی اس بات کا بھی تقاضا کرتی ہے کہ تمام ادارے آئین کی طرف سے طے شدہ حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سرانجام دینے کے پابند ہیں اور کسی بھی ادارے فرد یا گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے ادارے کے اختیارات و معاملات میں مداخلت کرے کیونکہ ایسا کرنا نا صرف جمہوری طرز حکمرانی کے اصولوں سے رو گردانی ہے بلکہ آئین کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
ہمیں اس بات کو ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ وطن عزیز کو اس ملک میں قائم ہونے والی پہلی جمہوری حکومت نے آئین کا تحفہ دیا ۔ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ آمریت کے اقتدار کا آخری سورج غروب ہونے کے بعد جمہوری عمل کے ذریعے قائم ہونے والی سیاسی حکومتوں نے اس ملک کو اور عوام کو بہت سارے ایسے تحفے دیئے ہیں کہ جن کے اثرات اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر چکے ہیں۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کی خود مختاری کی بات ہو یا اٹھاون ٹو بی کی تلوار کو منتخب پارلیمنٹ کے سر سے ہٹانے کا اقدام ہو، دہشتگردی اور انتہا پسندی جیسے انتہائی خطر ناک مسئلے سے اس ملک کو نجات دلانے کے لیے آپریشن ضرب عضب کی بات ہو یا مقامی حکومتوں کے ذریعے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ،تمام اقدامات اس بات کا اعادہ کرتے نظر آتے ہیں کہ جمہوری عمل کے ذریعے قائم ہونے والی عوامی حکومتیں ہی اس ملک کو درست سمت میں آگے لے کر جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ اس ملک کے حالات اور مسائل بہت زیادہ ہیں اور انہیں جتنا جلد ممکن ہو حل کیا جانا چاہیے تاہم اس بات کو بھی ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ ان تمام مسائل کی وجہ جمہوریت کا عدم تسلسل ہی ہے اور جمہوریت کی مضبوطی اور تسلسل سے ہی یہ تمام مسائل حل اور حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ ہمیں اس بات کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ جمہوریت ہی وہ نظام ہے کہ جس میں اقتدار کے مالک ہوتے ہوئے عوام کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی رائے سے قائم شدہ حکومتوں کا احتساب کر سکے اور اگر عوام سے یہ اختیار چھیننے یا اس اختیار کو کوئی بھی اور فرد گروہ یا ادارہ استعمال کرنے کی کوشش کرے گا تو ہم بہتری کی بجائے مزید مسائل کی دلدل میں پھنس جائیں گے۔ یہ تمام اقدامات ایسے ہیں کہ جو اقتدار کو اس کے حقیقی مالکوں یعنی عوام کی جھولی میں
ڈالنے کے لیے ضروری ہیں اور اگر وطن عزیز کے اقتدار کی باگ ڈور حقیقی معنوں میں عوام کی ملکیت بنا دی گئی تو اس ملک کی گورننس کو ٹھیک ہونے میں بھی دیر نہیں لگے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *