Site icon DUNYA PAKISTAN

تبلیغی جماعت : نظام الدین مرکز کے محمد سعد کون ہیں؟

Share

انڈیا میں تبلیغی جماعت اور اس کے امیر مولانا محمد سعد کاندھالوی ان دنوں سرخیوں میں ہیں۔ ان کی سرخیوں میں ہونے کی وجہ دلی میں منعقد ہونے والا ایک اجتماع ہے جس کے بعد انڈیا کے مختلف شہروں میں کورونا وائرس کووڈ 19 کے متعدد کیس سامنے آئے ہیں۔

دلی پولیس نے منگل کو مولانا محمد سعد کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مولانا نے نظام الدین بستی میں ایک بڑے مذہبی جلسے کا انعقاد کر کے حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات کی خلاف ورزی کی ہے۔

میڈیا نے جب مولانا سعد کے بارے میں معلومات شروع کی تو منگل کی رات انھوں نے ایک ویڈیو جاری کر کے یہ پیغام عام کیا کہ ان دنوں وہ خود ساختہ تنہائی میں ہیں۔

اب لوگوں کو اس بارے میں دلچسپی ہے کہ مولانا محمد سعد کون ہیں؟

اگر آپ ان کے بارے میں گوگل کر کے کوئی معلومات حاصل کرنا چاہیں تو آپ کو کوئی خاص معلومات حاصل نہیں ہو گیں اور نہ ان کی تصاویر یا ویڈیو ملے گیں۔ اگر ان کے بارے میں کچھ آرٹیکل موصول بھی ہوں گیں تو غلط یا بے بنیاد معلومات پر مبنی ہوں گے۔

ایسا اس لیے نہیں کہ جماعت یا مولانا سعد خفیہ طریقے سے کام کرتے ہیں بلکہ اس لیے کہ جماعت ٹی وی، فلم، ویڈیو اور انٹرنیٹ وغیرہ کے خلاف ہے۔

نظام الدین بستی کا  لوکل بوائے

مولانا سعد کے سب سے قریبی رشتے دار اور ان کے بہنوئی ضیاءالحسن نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’ہمارے گھروں میں ٹی وی کبھی نہیں آیا۔ ہم نہ ٹی وی دیکھتے ہیں اور نہ ہی تصاویر کھینچتے ہیں۔‘

جماعت والوں کی نظر میں ٹی وی دیکھنا، فوٹو اتروانا، اور فلمیں دیکھنا معیوب یا مذہب کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ جماعت کے کئی ارکان کے پاس موبائل فون بھی نہیں ہیں۔

مولانا سعد کے قریبی رشتے داروں اور ان کو برسوں سے قریب سے جاننے والے سے بات چیت کرنے پر ان کی ایک تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔ وہ دلی کی مشہور نظام الدین بستی کے ’لوکل بوائے‘ ہیں۔

تبلیغی جماعت کی سربراہی انھیں وراثت میں ملی ہے۔

مولانا سعد اسلامی عالم نہیں مانے جاتے

مولانا سعد اسلام کے عالم نہیں مانے جاتے ہیں لیکن اپنی تنظیم پر ان کی گرفت مضبوط ہے۔ وہ دوسروں کی کم سنتے ہیں لیکن ایک عام شحض جو کسی کو اپنا دشمن نہیں مانتے۔

مولانا سعد 1926 میں تبلیغ جماعت کی تشکیل کرنے والے مولانا محمد الیاس کاندھالوی کے پڑپوتے ہیں۔ ایک طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ انھیں جماعت کی لیڈرشپ یا سربراہی وراثت میں ملی ہے۔

ان کا جنم 55 برس قبل نظام الدین علاقے کے اسی گھر میں ہوا تھا جس میں آج وہ رہتے ہیں۔ ان کا گھر تبلیغی جماعت کے صدر دفتر یا مرکز کے بالکل قریب ہے۔

جماعت کے لاکھوں ارکان دنیا کے 80 سے زیادہ ممالک میں رہتے ہیں۔ ان میں پاکستان، بنگلہ دیش، یورپ، آسٹریلیا اور امریکہ اہم ہیں۔ مولانا سعد اپنی جماعت کے لاکھوں ارکان کے روحانی پیشوا ہیں۔

اپنے پردادا محمد الیاس اور اپنے دادا محمد یوسف کے برعکس مولانا سعد کا شمار اسلامی سکولر کے طور پر نہیں ہوتا ہے۔

ان کے بہنوئی مولانا حسن کے مطابق ‘مولانا سعد کی تعلیم مرکز میں واقع مدرسے کاشف العلوم مین مکمل ہوئی۔‘

مدرسے اسلامی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ان کا درجہ جماعت کے اندر اسلامی سکالر یا کسی بڑی شخصیت جیسے مولانا ابراہیم اور مولانا احمد کے برابر نہیں تھا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ پانچ برس قبل جب وہ جماعت کے امیر مقرر ہوئے تو انھیں بزرگ عالموں سے اتنی عزت حاصل نہیں ہوئی جتنی کہ تبلیغی جماعت کے امیر کو ملنی چاہیے تھی۔

جماعت کے اندر اختلافات

نتیجہ یہ ہوا کہ جماعت کے اندر اختلافات بڑھنے لگے۔ تین برس قبل جماعت میں پھوٹ پڑ گئی اور جماعت دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔

مولانا ابراہیم اور مولانا احمد جن دونوں کا تعلق گجرات سے ہے اور دونوں کی عمر 80 برس سے زیادہ ہے علیحدہ ہونے والے دوسرے دھڑے کے سب سے مشہور چہرے ہیں۔ ان کے دھڑے کے ساتھ جماعت سے کتنے لوگ ان کے ساتھ گئے اس بارے میں کوئی صحیح معلومات نہیں ہے۔

بعض افراد کا کہنا ہے کہ 60 فی صد ارکان جماعت مولانا ابراہیم اور مولانا احد کے ساتھ چلے گئے جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ صرف 10 فیصد ارکان دوسرے دھڑے میں شامل ہوئے۔

جماعت میں پھوٹ اور اختلافات مولانا سعد ک لیڈرشپ کا پہلا بڑا امتحان تھا۔ جماعت کو قریب سے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ مولانا سعد کی سب سے بڑی کمزوری ان کی ضد ہے۔ وہ کسی کی نہیں سنتے ہیں۔ مولانا حسن جماعت میں پھوٹ کے لیے مولانا سعد کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’مولانا ابراہیم اور مولانا احمد ہر ہفتے ایک نئے امیر بنانے کی تجویز دے رہے تھے۔ آپ ہی بتائیں کسی تنظیم یا کسی کمپنی میں اگر ہر ہفتے نیا لیڈر منتخب ہو گا تو فیصلے کیسے کیے جائیں گے۔‘

جماعت کے دونوں گروپوں کے قریب ظفر سریشوالہ کہتے ہیں انھوں نے دونوں دھڑوں میں صلح کرانے کی پوری کوشش کی لیکن انھیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

وہ کہتے ہیں ’میں مولانا سعد کو گذشتہ 40 برس سے جانتا ہوں۔ وہ ایک بہت سادہ شخص ہیں۔‘

مولانا کے ضدی مزاج کے بارے میں ان کے بہنوئی مولانا حسن کہتے ہیں ’یہ الزام مکمل طور پر صحیح نہیں ہے۔ وہ دنیا بھر میں جماعت کے لیڈر ہیں اور انھیں کئی مسائل پر فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔‘

Exit mobile version