Site icon DUNYA PAKISTAN

پاکستان میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد 2696، اموات 40 ہوگئیں

Share

دنیا بھر میں 50 ہزار سے زائد اموات کا سبب بننے والے نوول کورونا وائرس نے پاکستان میں لوگوں کو تیزی سے متاثر کر رہا ہے اور یہاں مجموعی کیسز کی تعداد 2696 جبکہ 40 افراد اس عالمی وبا سے انتقال کرگئے۔

پاکستان میں پہلے کیس کے سامنے آنے کے بعد 29 فروری تک تو یہ تعداد 4 تک تھی لیکن اس کے بعد اس میں تیزی دیکھی گئی اور اب یہ 2600 سے تجاوز کرچکی ہے۔

ان 2600 سے زائد کیسز میں زیادہ تر کیسز ایسے ہیں جو مقامی طور پر ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہونے کے ہیں۔

اعداد و شمار کے حساب سے سب سے زیادہ پنجاب کا صوبہ متاثرہ ہے جہاں ایک ہزار 69 افراد وائرس کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ وہاں اموات کی تعداد 11 ہے‎

اسی طرح سندھ میں متاثرین 830 تک پہنچ چکے ہیں تاہم اس صوبے میں ہونے والی اموات ملک میں سب سے زیادہ ہیں اور یہ تعداد 14 تک پہنچ چکی ہے۔

تاہم یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سندھ میں ان 14 اموات میں سے 12 اموات ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ہوئیں جو اس وقت وائرس سے سب سے زیادہ متاثر شہر بھی ہے۔

سندھ کے بعد خیبرپختوخوا ہے جہاں کیسز کی تعداد 343 تک پہنچ چکی ہے جبکہ اموات 11 تک ہوگئی ہیں۔

اس کے علاوہ بلوچستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 175 ہے اور یہاں ابھی تک ایک شخص کورونا وائرس سے زندگی ہارا ہے۔

صوبوں کے علاوہ دیگر علاقوں کی بات کریں تو اسلام آباد میں 75 متاثرین، گلگت بلتستان میں 193 کیسز اور 3 اموات جبکہ آزاد جموں کو کشمیر میں 11 افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

تاہم ایک امید کی کرن اس وائرس سے صحتیاب ہونے والے افراد ہیں اور اب تک اس عرصے کے دوران 130 ایسے مریض ہیں جو اس وائرس کے خلاف جنگ میں فاتح رہے ہیں۔

آج 4 اپریل کو بھی اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں نئے کیسز سامنے ریکارڈ کیے گئے۔

اسلام آباد

سرکاری سطح پر اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ کے مطابق اسلام آباد میں مزید 7 نئے کیسز آئے۔

وفاقی دارالحکومت میں ان 7 نئے کیسز کے سامنے آنے کے بعد تعداد 68 سے بڑھ کر 75 تک پہنچ گئی۔

گلگت بلتستان

ادھر گلگت بلتستان میں بھی مزید 3 نئے کیسز کو رپورٹ کیا گیا، جس کے بعد وہاں تعداد 190 سے بڑھ کر 193 تک پہنچ گئی۔

خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن اور مختلف پابندیاں عائد ہیں، جس کے تحت کاروباری مراکز، شاپنگ مالز، تعلیمی ادارے، سنیما، تفریحی مقامات، کراچی میں ساحل سمندر، اشیائے ضروریہ کے سوا دیگر دکانیں، شادی ہالز و دیگر مقامات بند ہیں۔

تاہم اس کے باوجود کورونا وائرس کے کیسز سامنے آرہے ہیں، جسے روکنے کے لیے حکومت مختلف اقدامات کررہی ہے جبکہ پاکستان کا پڑوسی ملک چین بھی اس سلسلے میں حکومت کی مدد کر رہا ہے۔

17 روز میں 40 اموات

پاکستان میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت 18 مارچ کو سامنے آئی جبکہ اسی روز دوسری موت کی بھی تصدیق کردی گئی۔

18 مارچ کو خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمور جھگڑا نے مردان میں پہلے شخص کے کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کرجانے کے بارے میں آگاہ کیا۔

بعد ازاں کچھ ہی دیر میں انہوں نے ہنگو میں دوسرے فرد کی موت کی تصدیق کی۔

20 مارچ کو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں وائرس سے ایک مریض کا انتقال ہوا تو اس طرح تعداد 3 تک جا پہنچی۔

22 مارچ کو خیبرپختونخوا میں ہی ایک اور مریض کے انتقال کی خبر سامنے آئی تو کچھ ہی دیر بعد گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کا علاج کرنے والا ڈاکٹر اسی عالمی وبا کا شکار ہوکر جان کی بازی ہار گیا۔

اگلے ہی دن یعنی 23 مارچ کو بلوچستان حکومت کی جانب سے صوبے میں کورونا وائرس کا پہلا مریض دم توڑ گیا۔

جہاں ایک طرف متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ سامنے آرہا تھا وہیں 24 مارچ کو پنجاب میں بھی پہلی ہلاکت سامنے آگئی۔

پنجاب میں ہونے والی یہ موت ملک میں مقامی سطح پر منتقل ہونے والے کیس سے پہلا انتقال تھا۔

علاوہ ازیں 25 مارچ کو بھی ملک میں ایک اور موت کی تصدیق ہوئی اور راولپنڈی میں 50 سالہ خاتون دم توڑ گئیں۔

26 مارچ کو لاہور کے نجی ہسپتال میں ایک مریض جان کی بازی ہار گیا جس کے بعد صوبے میں کورونا وائرس سے 3 اور ملک میں مجموعی طور پر 9 اموات ہوگئیں۔

27 مارچ کو لاہور میں ایک اور مریض کورونا وائرس کے باعث دم توڑ گیا جس کے بعد صوبے میں اموات کی تعداد 4 ہوگئی۔

اسی روز فیصل آباد میں بھی 22 سالہ نوجوان کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی جس کے بعد صوبے میں 5 اور ملک بھر میں اس وبا سے اموات 11 ہوگئیں۔

28 مارچ کو صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے ایک خاتون کی موت کی تصدیق کی جس کے بعد ملک میں اموات کی تعداد 12 ہوگئی۔

29 مارچ کو ملک میں 5 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی، وزیرصحت سندھ نے صوبے میں کورونا وائرس سے متاثرہ 2 افراد کے انتقال کی تصدیق کی، دوسری طرف خیبر پختونخوا میں محکمہ صحت کے عہدیدار نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 78 سالہ شخص کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگیا۔

علاوہ ازیں پنجاب میں بھی ایک اور موت ہوئی جو اس روز کی چوتھی جبکہ مجموعی طور پر پنجاب کی چھٹی ہلاکت تھی، بعد ازاں گلگت بلتستان سے بھی ایک اور فرد کی موت کی تصدیق ہوئی جو اس روز کی پانچویں موت تھی، اس بارے میں بتای گیا کہ ایک میڈیکل اسٹافر کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کرگیا۔

30 مارچ اب تک ملک کی تاریخ میں اموات کے حساب سے سب سے برا دن ثابت ہوا اور ایک روز میں 7 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔

ماہ مارچ کے آخری روز بھی 2 افراد اس وائرس کے باعث انتقال کرگئے اور اموات کی تعداد 26 تک پہنچ گئی۔

یکم اپریل کو بھی ملک میں 5 افراد اس وائرس کے باعث انتقال کرگئے جس سے یہ تعداد 31 ہوگئی۔

اگلے ہی روز یعنی 2 اپریل کو سندھ میں 2 اور خیبرپختونخوا میں ایک موت کی تصدیق ہوئی جس کے ساتھ ہی اموات کی مجموعی تعداد 34 تک جا پہنچی۔

3 اپریل کو بھی ابھی تک گلگت بلتستان میں ایک مریض کے انتقال کی تصدیق ہوئی جس کے بعد سندھ میں 3، خیبرپختونخوا میں 2 موت کی تصدیق ہوئی اور اموات 40 ہوگئیں۔

پاکستان میں کورونا وائرس

پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا۔

بعد ازاں سندھ حکومت کی جانب سے یہ تصحیح کی گئی تھی ‘غلط فہمی’ کے باعث ایک مریض کا 2 مرتبہ اندراج ہونے کے باعث غلطی سے تعداد 15 بتائی گئی تھی تاہم اصل تعداد 14 ہے، اس تصحیح کے بعد ملک میں کورونا کیسز کی تعداد 10 مارچ تک 18 ریکارڈ کی گئی۔

Exit mobile version