مردوں کو جنسی غلام عورتیں رکھنے کی اجازت دی جائے : کویتی خاتون سیاست دان

salwa matiariکویت کی ایک معروف خاتوں سیاست دان سلوی المطیری نے کہا ہے کہ مردوں کو جنسی غلام عورتیں رکھنے کی اجازت ملنی چاہیے اور اس مقصد کے لئے قیدی عورتوں کو کام میں لایا جا سکتا ہے۔ سلوی المطیری نے ماضی میں پارلیمنٹ کی رکنیت کا انتخاب بھی لڑا تھا۔ سلوی المطیری کا موقف ہے کہ کویت میں عورتوں کی جنسی غلامی کو قانونی درجہ دینا چاہیے اور اس مقصد کے لئے جنگ زدہ ممالک کی جیلوں میں قید غیر مسلم عورتوں کو کام میں لانا چاہیے۔ خاتوں سیاست دان کہتی ہیں کہ ایسا کرنے سے کویت کے ’شریف، مہذب اور مردانگی سے بھرپور مردوں ‘ کو زنا سے محفوظ رکھنا ممکن ہو سکے گا کیونکہ غیر ممالک سے خرید کر لائی ہوئی عورتوں کے ساتھ رہنا قریب قریب شادی کرنے کے مترادف ہو گا۔ سلوی المطیری ایک معروف سیاسی کارکن ہونے کے علاوہ ٹیلی ویژن پر میز بان بھی رہی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے ایسی قیدی عورتوں کے لئے بھی جنسی غلام بننا کچھ زیادہ برا سودا نہیں ہو گا کیونکہ یہ بھی تو ممکن ہے کہ جنگ زدہ ممالک کی قید میں وہ بھوک کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔
سلوی المطیری مزید کہتی ہیں کہ کنیز کے طور پر جنسی استعمال میں کوئی شرم کی بات نہیں اور شریعت میں اس کی اجازت ہونے کے باعث اسے حرام بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے اس ضمن میں آٹھویں صدی عیسوی

FILE - In this Sunday, Nov. 6, 2011 file photo, Muslim women pilgrims make their way to throw cast stones at a pillar, symbolizing the stoning of Satan, in a ritual called "Jamarat," the last rite of the annual hajj, in Mina near the Saudi holy city of Mecca, Saudi Arabia. A Saudi official says for the first time, women in the conservative kingdom will not need a male guardian's approval to run or vote in municipal elections in 2015.(AP Photo/Hassan Ammar, File)

کے مسلمان خلیفہ ہارون الرشید کی مثال دی جس کی سلطنت آج کے ایران، عراق اور شام پر پھیلی ہوئی تھی اور جس کی حرم سرا میں ایک روایت کے مطابق دو ہزار عورتیں تھیں۔ سلوی المطیری کی سفارش ہے کہ جنسی غلاموں کی خرید و فروخت کے لئے اسی طرح دفاتر کھولے جا سکتے ہیں جس طرح گھریلو ملازمین کے لئے مختلف ایجنسیاں کام کرتی ہیں۔ سلوی المطیری کی تجویز ہے کہ جنسی طور پر توانا کویتی مردوں کو دوسری عورتوں کی دلکشی سے محفوظ رکھنے کے لئے جنگی قیدی عورتوں کی خرید و فروخت کا بندوبست کرنا چاہیے تاکہ زنا کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ چچنیا کی لڑائی میں یقینابہت سی روسی عورتیں قیدی بنائی جا چکی ہیں چنانچہ اس ضمن میں متعلقہ حلقوں سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ ایسی عورتوں کو خرید کر کویت میں لایا جا سکے۔ اس سے پہلے یہ عورتیں وہاں جیلوں میں بھوک سے مرنا شروع کریں انہیں کویتی مردوں کے کام میں لانا چاہیے تاکہ ہمارے مرد ’ناجائز جنسی تعلقات‘ سے محفوظ رہ سکیں۔ سلوی المطیری زور دے کر کہتی ہیں کہ اس معاملے میں قطعاً کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔

تاہم سلوی المطیری نے اس ضمن میں کچھ شرائط بھی رکھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے جنسی طور پر غلام بنائی جانے والی عورتوں کی عمر کم از کم پندرہ برس ہونی چاہیے۔ محترمہ المطیری کہتی ہیں کہ آزاد عورتوں کے ساتھ شادی کے لئے باقاعدہ معاہدے کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن کنیزوں سے ساتھ جنسی تعلق کے لئے صرف یہی کافی ہے کہ انہیں خرید لیا گیا ہے۔
maxresdefaultکویت کی خاتون سیاست دان سلوی المطیری نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ مہینے یو ٹیوب پر ایک انٹرویو میں کیا تھا اور گزشتہ دنوں اس انٹرویو کے اقتباسات خلیج کے اخبارات میں شائع ہونے کے بعد عرب دنیا اور خود کویت میں ان پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ ایک ٹویٹ میں سوال کیا گیا ہے کہ اگر کویت پر عراقی قبضے کے دوران سلوی المطیری کو غلام بنا کر بیچ دیا جاتا تو انہوں نے کیسا محسوس کیا ہوتا۔ ایک خاتون نے سلوی المطیری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ©©”تم دنیا بھر کی عورتوں کے نام پر ایک دھبا ہو۔“ سعودی عرب کے ٹیلی ویژن العربیہ کی خاتون میز بان نے اس امر پر سخت صدمے کا اظہار کیا ہے کہ محترمہ سلوی المطیری اپنے بے ہودہ خیالات کو اسلام کی تعلیمات سے ہم آہنگ سمجھتی ہیں۔
اس تنقید کے جواب میں سلوی المطیری نے کہا ہے کہ انہوں نے حالیہ دنوں میں مکہ کا دورہ کرتے ہوئے بہت سے علما اور مفتیان سے اس ضمن میں استفسار کیا تھا اور ان سب کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا قطعاً حرام نہیں ہے۔ سلوی المطیری کا دعویٰ ہے کہ کویت کے جید علما نے بھی ان کے موقف کی تائید کی ہے۔ علما نے بتایا کہ اگر کوئی مرد جنسی خواہش سے مغلوب ہو اور شادی کرنے کے وسائل نہ رکھتا ہو تو زنا سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ کنیزوں سے رجوع کرے۔ مبینہ طور پر ایک سعودی مفتی نے کہا کہ ”اس ضمن میں واحد شرط یہ ہے کہ کسی مسلم قوم نے کسی غیر مسلم قوم کو فتح کیا ہو اور کنیز بنائی جانے والی عورتیں جنگی قیدی ہوں“۔
سلوی المطیری زور دے کر کہتی ہیں کہ اپنی خاتون ملازماﺅں کے حسن کی تاب نہ لا سکنے والے مردوں کو گناہ سے محفوظ رکھنے کے لئے کنیزوں کے ادارے کو قانونی شکل دینا بہت ضروری ہے۔

مردوں کو جنسی غلام عورتیں رکھنے کی اجازت دی جائے : کویتی خاتون سیاست دان” پر بصرے

  • نومبر 24, 2015 at 12:17 AM
    Permalink

    محترمہ کا کہنا درست ہے اسلام کے عین مطابق ہے۔ وہ لوگ ہی تنقید کررہے ہیں یا کرینگےجو حقیقت سے واقف نہیں ہیں قرآن میں کنیز رکھنے کی اجازت ہے ۔پھر آئیں بائیں شائیں کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی اسلامی افکار اور اجکامات کی کھلے عام اور درست تشہیر کی اشد ضرورت ہے۔

    Reply
    • نومبر 28, 2015 at 12:26 PM
      Permalink

      تو اطہر بن مظہر صاحب کیا آپ اپنی ماں بہن کے لئے یہ سب پسند فرمائین گے اگر وہ غیر مسلم لے جائیں اور یہ سب کچھ کریں تو اسلام اس بارہ میں کیا کہتا ہے ؟؟؟

      Reply
  • نومبر 28, 2015 at 10:05 PM
    Permalink

    سلوی میں آپ کو خریدنا چاھتا ھوں آپ کی قیمت کیا ھے ؟ آپ بھئ تہ عورت ھو.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *