حسینہ واجد کی سیاست ....

abdul Majeedبنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے ارکان کو پھانسی دینے پر پاکستان میں ایک بھونچال بپا ہے۔ حسینہ واجد کی عوامی لیگ نے گزشتہ انتخابات میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ فتح یاب ہونے پر وہ ’جنگ آزادی‘ کے مخالفین کے خلاف مقدمات چلائیں گی۔ اس مقصد کے لئے ایک خصوصی عدالت قائم کی گئی جس میں جماعت اسلامی کے ارکان پر سنہ1971 ءمیں پیش آنے والے جرائم کی تفتیش اور اسکے نتیجے میں سزائیں سنانے کا عمل شروع ہوا۔ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے اور سنہ 1971ءوالی نسل اب بڑھاپے میں قدم رکھ چکی ہے۔اس عدالت کے قیام اور اسکے طریقہ کار پر بین الاقوامی مبصر عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔حسینہ واجد نے محض سیاسی ساکھ کی خاطر یہ قدم اٹھایا تھا اور اب اپنے وعدے پر پلٹنا شاید ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ عدالتی کارروائی کے تحت جماعت اسلامی کے چند موقر راہنما پھانسی پر چڑھائے جا چکے ہیں اور بہت سوں کو عمر قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔ عوامی لیگ کی حکومت کے خلاف دیگر سیاسی جماعتیں احتجاج کر رہی ہیں اور اسی وجہ سے آخری قومی انتخابات کو عوامی لیگ کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں نے بائکاٹ کیا تھا۔ یاد رہے کہ عوامی لیگ کی حکومت جمہوریت اور سیکولر ازم کا دعوی کرتی ہے لیکن دیگر جماعتوں کو حکومت میں حصہ دینے کو تیار نہیں اور سیکولر بلاگرز کے قتل عام پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔
کیا جماعت اسلامی اور اسکے کارکنان سنہ 1971ء میں صورت حال کو سمجھ پائے تھے یا محض ابن الوقتی کے تحت ’حب الوطنی ‘ کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھے؟ جماعت اسلامی سنہ 1941ءسے 1947ءتک مطالبہ ءپاکستان کی مخالفت کرتی رہی لیکن تقسیم کے بعد جماعت کی قیادت بھارت کی بجائے پاکستان میں قیام پذیر ہوئی۔ مذہب میں نشا ة ثانیہ کا خواب سجانے والی جماعت سیاسی میدان میں چوپٹ ثابت ہوئی۔ پنجاب کے مقامی انتخابات میں شکست کے بعد جماعت نے جمہوریت پرستی کا علم بلند کیا۔ پہلے مارشل لاءکی مخالفت کی لیکن جنگ ستمبر کے بعد اسی مارشل لاءحکومت کی طرف دار بھی ہوئی۔ مشرقی پاکستان میں بنگالی قوم پرستوں کو ’ٹھکانے لگانے‘ کا ٹھیکہ سنہ 71ءسے بہت پہلے جماعت اور جمیعت طلبہ کو مل چکا تھا۔ یحییٰ خان نے انتخابات منعقد کروائے تو جماعت نے اسٹیبلشمنٹ کی ’بی ٹیم‘ کا کردار ادا کیا۔ پیپلز پارٹی اور عوامی لیگ کی حمایت کرنے والوں کو لادین قرار دیا گیا۔اس تردد کے باوجود انتخابات میں جماعت کی کارکردگی صفر رہی اور ’لادین‘ جماعتوں نے واضح پارلیمانی اکثریت حاصل کی۔
مغربی پاکستان کے جرنیلوں اور پیپلز پارٹی کی سازباز کے نتیجے میں اقتدار بنگالی قیادت کو منتقل نہ کی گیا اور پارلیمان کے اجلاس کی جگہ آپریشن سرچ لائٹ کا تحفہ مشرقی پاکستان کے عوام کو دیا گیا ۔ تاریخ کے اس موڑ پر جماعت اسلامی مظلوم کے ساتھ نہیں بلکہ ظالم کی صفوں میں کھڑی تھی۔’ البدر‘ اور ’الشمس‘ نے پاکستانی فوج کی حمایت میں عام بنگالی شہریوں کو قتل کیا، عورتوں کی عصمت دری کی اور خاص طور پر بنگالی دانشوروں کو ’ٹھکانے لگایا‘۔ استاد محترم کے مضمون ’روشنی سے ڈرتے ہو‘ سے ایک اقتباس پیش خدمت ہے:
”عوامی لیگ کی منتخب قیادت کے بھارت جانے کے بعد منعقد ہونے والے ضمنی انتخابات میں جماعت اسلامی فوجی قیادت کے بہت
قریب آ گئی۔ یوں بھی جماعت اسلامی کے لیے عوامی لیگ کی غیر مذہبی سیاست نظریاتی اعتبار سے ناقابلِ برداشت تھی۔ مکتی باہنی کا
مقابلہ کرنے کے لیے فوجی انتظامیہ نے جماعت اسلامی کو اپنا مسلح بازو تشکیل دینے کی ترغیب دی۔ ابتدائی طور پر تو اسے ’البدر‘ ہی کا نام
دیا گیا تاہم صدیق سالک ”میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا “ میں لکھتے ہیں کہ بعد ازاں اسی تنظیم کو ’الشمس‘ بھی کہا جانے لگا تا کہ مشرقی
پاکستان میں عوامی لیگ کی وسیع مخالفت کا تاثر پیدا کیا جا سکے۔ جماعت اسلامی کے رضاکار مکتی باہنی جیسی مسلح تنظیم کا کیا مقابلہ کرتے
جس کے ارکان بھارت سے باقاعدہ فوجی تربیت پا چکے تھے۔ البتہ البدر اور الشمس کے ارکان کو غیر مسلح مگر روشن خیال دانشوروں پر
دل کے ارمان نکالنے کا اچھا موقع ہاتھ آیا۔
البدر کے رہنماوں میں مولوی غلام اعظم، مولوی عبدالمنان اور طالبعلم اشرف الزماں کے نام نمایاں ہیں۔ البدر کو فوجی تربیت کے لیے باقاعدہ سرکاری تعلیمی ادارے مہیا کیے گئے۔ سکیولر دانشوروں کو جسمانی طور پر ختم کرنے کے اس سلسلے کا ہولناک ترین واقعہ پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے سے صرف دو روز قبل 14 دسمبر1971کو پیش آیا۔ واقعات کے مطابق البدر کے ارکان نے ایک باقاعدہ فہرست کے مطابق آدھی رات کو ڈھاکہ کے دو درجن سے زیادہ چیدہ چیدہ دانشوروں کو اغوا کیا۔ ان میں سے بیشتر اساتذہ یا تو اپنے شعبوں کے سربراہ تھے یا علمی اور ادبی حلقوں میں نہایت نمایاں مقام رکھتے تھے۔ انھیں مختلف مقامات پر رکھ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر ریئر بازار اور میرپور نامی دو مقامات پر انھیں بہیمانہ طریقے سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ 17 دسمبر کو ان کی مسخ شدہ لاشیں کچے بند کے قریب پایاب پانی سے برآمد ہوئیں۔ ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ پشت پر بندھے تھے اور سر میں گولی کا نشان تھا۔ ممتاز ماہرِ امراض چشم ڈاکٹر فضل ربی کی آنکھیں نکالی جا چکی تھیں۔ شہیداللہ قیصر ادیب تھے، ان کے ہاتھ قلم کیے جا چکے تھے۔ ‘ ‘
ان واقعات کے چالیس برس بعد جماعت کے باقی ماندہ ارکان کو سزا دینے سے کیا تاریخ کا دھارا درست کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا حتمی جواب تو مستقبل کے تاریخ دان ہی دے سکتے ہےں لیکن یہ بات توجہ طلب ہے کہ برصغیر کے تمام ممالک (پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کچھ حد تک سری لنکا) ابھی تک اپنی تواریخ کے محکوم ہیں اور تاریخ کے دھارے کو بزور شمشیر یا بزور تدبیر اپنے حق میں بدلنا چاہتے ہےں۔تقسیم کے فسادات کی دھمک اب تک پنجاب کے میدانوں میں سنی جا سکتی ہے ۔ جنوبی افریقہ مےں نیلسن منڈیلا کے زیر قیادت ماضی سے نبٹنے کے لئے سچائی کمیشن قائم کیا گیا تھا۔ یہ ماڈل برصغیر میں استعمال کیوں نہیں کیا جاتا؟ حسینہ واجد کی حکومت اور اسکی قائم کردہ عدالت کی انتقامی کارروائی، بنگلہ دیش کی سیاسی صورت حال میں جمہوری قوتوں کے پاﺅں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہےں۔شیر بنگلہ ، شیخ مجیب الرحمان کی بیٹی کو سنہ 1975ءمیں اپنے والد کے آخری ایام یاد رکھنے چاہئVں ۔ ملک کو آزادی دلوانے والے سیاست دان کو آمرانہ اقدامات کی سزا فوجی بغاوت کی صورت میں ملی اور اس چھینا جھپٹی میں موصوف کا سارا خاندان ’انقلاب‘ کی نذر ہو گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *