دہشت گردی کا قاعدہ

Yasir Pirzadaہم سے زیادہ سست الوجود قوم پوری دنیا میں اور کوئی نہیں ،ہم کئی برس تک لاپرواہی سے سوتے رہتے ہیں اور جب پانی سر سے گذرتا ہے تو ہڑبڑا کر آنکھیں ملتے ہوئے اٹھتے ہیں اور سوچتے ہیں اب کیا کرنا چاہئے!دہشت گردی کی جنگ کو ہی لے لیں ،کتنے سال ہوئے ہمیں اس جنگ میں کود ے ،مگر اس دوران قومی سلامتی پالیسی تشکیل نہ پا سکی ،ا ب سناہے اس کا ڈرافٹ تیار ہے ،دیر آید درست آید،کیا ہی اچھا ہو اگر اس ڈرافٹ میں دہشت گردی کی جنگ سے متعلق کچھ الفاظ کے معانی پالیسی کے شروع میں ہی بیان کر دئیے جائیں تاکہ قوم کسی کنفیوژن کا شکار نہ ہو۔خاکسار نے بغیر کسی طمع اور لالچ کے یہ کام بلا معاوضہ کام کر دیا ہے،گذارش صرف اتنی ہے کہ اس ڈرافٹ کو میٹرک کے نصاب کا حصہ بھی بنا دیا جائے:
جنگ: اگر بھارت ہمارے ملک پر رات کی تاریکی میں حملہ کردے تو یہ جنگ کہلائے گی ،آخری دفعہ اس قسم کی جنگ کارگل کے محاذ پر ہوئی تھی جس میں ہمارے تقریباً ساڑھے چار سو فوجی افسر اور جوان شہید ہوئے تھے ۔واضح رہے کہ کچھ لوگ امریکہ کی جنگ (جس میں اب تک فقط پچاس ہزار پاکستانی ہلاک ہوئے ہیں )کو ہماری جنگ کہتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے ،یہ جنگ ہماری نہیں ہے کیونکہ ہماری جنگ صرف بھارت جیسے دشمن کے خلاف ہو سکتی ہے اپنے لوگوں کے خلاف نہیں،یہ لوگ ہم سے ناراض ہیں اور انہیں منانے کی کوششیں جاری ہیں جبکہ امریکہ ان کوششوں کو ہمہ وقت سبوتاژ کرنے میں لگا رہتا ہے کیونکہ وہ ہم سے جیلس ہے ،اسے ڈر ہے کہ اگر ہم نے اپنے ان ناراض بھائیوں کو منا لیا تو ہم ان کے ساتھ مل کر امریکہ کو افغانستان میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے ۔
غیرت مند: ایسا شخص جو قبائلی علاقوں میں رہائش پذیر ہواور اپنا گھر چالیس ہزار روپے ماہوار پرکسی دہشت گرد کو کرائے پر دے جس کے نتیجے میںاس کے بیوی بچے اس دہشت گردکے ساتھ ایک ہی چار دیواری تلے رہنے لگیں، غیرت مند کہلاتا ہے۔ لاہور، ساہیوال، ملتان، کراچی، سکھر، کوئٹہ میں بھی کہیں کہیں غیرت مند پائے جاتے ہیںمگر ان کی واحد نشانی یہ ہے کہ وہ ڈرون حملوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں ۔
اپنے لوگ: وہ لوگ جو ہمارے پولیس اور فوج کے جوانوں کے گلے کاٹیں، انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کریں ،ان کے سر دھڑ سے الگ کرکے ایک لائن میں سجا کر رکھیں اور پھر اس کی ویڈیو بنا کر اپ لوڈ کریں ،انہیں قطار میں کھڑا کرکے گولیوں سے بھون دیں ،بچوں کے لئے کھلونا بم بنا کر راہ میں رکھ دیں جنہیں ہاتھ لگاتے ہی بچوں کے چیتھڑے اڑ جائیں،درباروں، بازاروں، مسجدوں، امام بارگاہوں، مارکیٹوں، گرجا گھروںاور مزاروں میں خود کش حملہ آور بھیج کر ہزاروں لوگوں کا قتل عام کریں، بچوں کے سکولوں کو بم دھماکوں سے تباہ کریں، سکول جاتی بچیوں کی بس کے پرخچے اڑائیں ،ہسپتال میں گھس کر نرسوں کو مار دیں ،پولیو کے قطرے پلانے والوں کوقتل کر دیں اور ایک چودہ سالہ بچی کے چہرے پر گولی مار کر اس کا چہرہ بگاڑ دیں،اور اپنے ان تمام کارناموں کا ببانگ دہل اقرار کرتے ہوئے اسے جہاد قرار دیں ،وہ ہمارے اپنے لوگ ہیں ،جو غلط فہمی کا شکار ہیں ،اور انہیں فقط مذاکرات کے ذریعے ہی رام کیا جا سکتا ہے ۔ ان پر ڈرون چلانا حرام ہے۔
شہید: ایسا شخص جو ’’اپنے لوگوں‘‘کی اوپر بیان کی گئی تعریف پر پورا اترتا ہو،اگر امریکی ڈرون حملے میں مارا جائے تو شہید کہلائے گا۔اس کے برعکس پولیس اور فوج کے جوان جو ہماری حفاظت پر مامور ہیں ،اپنے فرض کی انجام دہی کے نتیجے میں اگر اپنے لوگوں کی کسی گولی یا بم کا نشانہ بن جائیں تو انہیں شہید نہیں کہا جائے گا کیونکہ وہ امریکی پٹھو ہیں۔
دہشت گرد: پاکستان میں دہشت گرد نہیں پائے جاتے ،البتہ دہشت گردی کے جو واقعات یہاں ہوتے ہیں ان کی وجہ ڈرون حملے ہیں ،یہ غیرت کا تقاضا ہے کہ ڈرون حملوں میں مرنے والوں کے لواحقین اپنا انتقام داتا دربار پر فدائی حملہ کرکے لیں ،پشاور کے قصہ خوانی بازار میں عورتوں اور بچوں کو بم دھماکے سے اڑا کر لیں ،لاہور کی مون مارکیٹ میں انسانوں کی لاشوں کا انبار لگا کے لیں، چرچ میں عبادت کرتے ہوئے غیر مسلموں سے لیں یا پھر لکی مروت میں فٹ بال کھیلتے ہوئے بچوں سے لیں ۔
مذمت: اس لفظ کے معانی بیان کرنا مشکل ہیں ،یوں سمجھ لیں کہ ملک میں رونما ہونے والے ایسے تمام واقعات جو غیرت اور انتقام کے جذبات کا نتیجہ ہوتے ہیں (جن کا ذکر اوپر دہشت گرد کی تعریف میں کیا گیا ہے )اور جن میں اب تک صرف پچاس ہزار پاکستانی ہلاک ہو ئے ہیں اور جن کا ذمہ اپنے لوگ (جن کی تعریف اوپر بیان کر دی گئی ہے) قبول کرلیں ،ان کے خلاف بادل نخواستہ دو سطروں کا بیان جاری کرکے بری الذمہ ہونے کے عمل کو مذمت کہتے ہیں ۔اس کی مزید نشانی یہ ہے کہ مذمت کرتے ہی ’’مگر‘‘ کا لفظ ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اصل میں ڈرون حملوں میں جو بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں ،یہ سارا اسی کا رد عمل ہے ۔
معصوم:ڈرون حملوں میں مرنے والے تمام لوگ معصوم ہیں ۔ان900قیمتی جانوں کی حمایت میں محض مذمتی بیان کافی نہیں ہوتا ،ان کے لئے روزانہ دھاڑیں مار مار کر شہ سرخیاں لگوائی جاتی ہیں اور دھرنے اور جلوس نکال کر پورے ملک میں ایک جنگی جنون برپا کیا جاتا ہے ۔کچھ لوگ دہشت گردی میں جاں بحق ہونے والے پچاس ہزار پاکستانیوں کو بھی معصوم کہتے ہیں مگر اصل معصوم وہ ہے جو ڈرون حملے میں مارا جائے ۔
مذاکرات: اپنے لوگوں کو منت ترلے کے ذریعے منانے کے عمل کو مذاکرات کہتے ہیں ۔
ریاست: تشدد پر اجارہ داری رکھنے کی ریاست کی تعریف اب پرانی ہو چکی ،آج کل ریاست نے یہ اجارہ داری اپنے لوگوں میں بانٹ دی ہے ،یہ اپنے لوگ جب چاہیں ریاست کی ناک موم کی طرح مروڑ سکتے ہیں ،ان کا لکھا ہوا ایک خط پھانسی کے مجرموں کی سزا پر عملدرامد رکوا دیتا ہے ،مختصرا ً یہ کہ ریاست کی عملداری وہاں تک محدود ہے جہاں سے اپنے لوگوں کے علاقے کی سرحد شروع ہوتی ہے۔
سازش: جب آپ کسی بھی کام میں ناکام ہو جائیں، آپ کی نالائقی ثابت ہو جائے ،نا اہلی سر چڑھ کر بولے تو ایسی صورت میں اصلاح احوال پر توجہ دے کر وقت ضائع کرنے کی بجائے ناکامی کا جواز گھڑنا اور اسے کسی بیرونی قوت کا شاخسانہ قرار دینا سازش کہلاتا ہے ۔مثلاً اسامہ بن لادن کا ایبٹ آباد میں چھ سال تک بمع اہل و عیال قیام ایک سازش تھی ،اس کا امریکیوں کے ہاتھوں مارا جانا اس سے بھی بڑی سازش تھی(ویسے اسامہ ایبٹ آباد آپریشن سے پہلے ہی مر چکا تھا ،یہ آپریشن کوئی اور سازش تھی اسے اسامہ کی ہلاکت سے کنفیوز نہ کریں) ،ملک میں ہونے والے خود کش حملے ایک سازش ہیں (اسے اپنے لوگوں کے انتقام اور غیرت کے نتیجے میں ہونے والے حملوں سے کنفیوز نہ کریں ،وہ اور بات ہے )،دہشت گردوں سے مذاکرات کو ڈرون مار کر ایک سازش کے تحت سبوتاژ کیا گیا(اپنے لوگوں نے مذاکرات سے پہلے فوج کا جرنیل مارا تھا ،وہ اور بات تھی ،اس سے بھی کنفیوز نہ ہوں)،جن بم دھماکوں میں پاکستانی شہری مارے جاتے ہیں وہ سی آئی اے اور بلیک واٹر اور را اور موساد اور کے جی بی کی سازش ہوتی ہے (اپنے لوگ اگر ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں تو وہ اوربات ہے اس سے بھی کنفیوز نہ ہوں)۔
اس سبق کے بعد بچے اور بڑے اس قابل ہو جائیں گے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو امریکہ کی جنگ کہیں ،ڈرون حملوں کے خلاف اپنے لوگوں کی آواز میں آواز ملائیں،بم دھماکوں میں جاں بحق ہونے والوں کی فقط مذمت کرکے آگے نکل جائیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ غیرت مندانہ طریقے سے سر اٹھا کر جی سکیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *