تہذیب میں اجنبی (آخری حصہ)

jamil khanگزشتہ نشست میں ہم بات کررہے تھے نائن الیون کے بعد پے درپے رونما ہونے والے سانحات کی، ان سانحات کے نتیجے میں چونکہ اب منظر نامہ تبدیل ہوچکا ہے، چنانچہ اب اگر کسی تارکِ وطن مسلمان سے اس اجتماعی کوتاہی کے حوالے سے ذرا تنقیدی گفتگو کی جائے تو وہ سارا الزام مولویوں پر دھر دیتے ہیں....کہ جی! ہمیں مولویوں نے یہی بتایا تھا....سوال یہ ہے کہ آپ کے پاس عقل اور فکر نہیں ہے؟ یا پھر مولوی صاحب کے سامنے وہ گھاس چرنے چلی جاتی ہے؟ عجیب بات ہے کہ کاروباری یا دیگر دنیاوی معاملات میں تو ان لوگوں کی خوب عقل کام کرتی ہے لیکن جب معاملہ اجتماعی نوعیت کا ہو تو بس کسی ان پڑھ مولوی کی لغویات ہی کو کافی سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس کی ایک افسوسناک مثال یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے مسلمان بھی عموماً ایک متفقہ دن عید بقرعید کا تہوار نہیں مناپاتے ہیں۔ مغربی ریسرچرز نے چاند کی گردش کا پورا نقشہ بناکر انٹرنیٹ پر پیش کردیا ہے۔ لیکن چونکہ مولوی صاحبان اعلان کردیتے ہیں کہ چاند نظر نہیں آیا اس لیے عید نہیں منائی جاتی اور پڑھے لکھے تعلیم یافتہ، باشعور اور اچھے خاصے ذمہ دار عہدوں پر فائز افراد بھی ایک یا ایک سے زائد ظاہر پرست مولویوں کی تقلید میں عید نہیں مناتے۔ یہ ان ممالک میں مقیم مسلمانوں کا حال ہے جہاں علم وتحقیق لوگوں کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ اور جب وہاں کے مسلمانوں کی اندھی تقلید کا یہ عالم ہے، تو ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہ تو ترقی یافتہ دنیا سے دو تین صدی پیچھے ہے۔drone-attacks-in-pakistan
ہم یہاں ترقی یافتہ ممالک میں بسنے والے اپنے ان تمام قارئین سے ایک سوال کرنا چاہیں گے جو اعلیٰ تعلیمیافتہ ہیں اور ان ترقی یافتہ معاشروں میں تعمیری کردار ادا کر رہے ہیں، آپ تمام خواتین و حضرات سوچ سمجھ کر جواب دیں کہ کیا صرف مخصوص ظاہری وضع قطع اپنا لینا مغربی دنیا کے لیے کسی قسم کی کشش کا باعث ہوسکتا ہے، یا ان چیزوں کو مسلمانوں کی شناختی علامت قرار دیا جاسکتا ہے؟ اس لیے کہ حجاب تو مغرب میں بعض یہودی عورتیں اور عربی النسل عیسائی خواتین بھی پہنتی ہیں اور عیسائیوں اوریہودیوں کے بعض مذہبی علما بھی داڑھی رکھتے ہیں!
کیا آپ تمام لوگ اس قدر تعلیم یافتہ اور باشعور ہونے کے باوجود اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ اصل پہچان اور شناخت کردار کے ذریعہ سامنے آتی ہے؟ اور مغربی معاشروں میں مسلمانوں کا کردار یہ ہے کہ ا±ن کے اکثر نمائندے یعنی مذہبی پیشوا مسلمانوں کے مرکزی ادارے یعنی مسجد میں کھڑے ہوکر امریکا پر لعن طعن کرتے ہیں، یہودیوں کو ب±را بھلا کہتے ہیں، ماضی کی مفروضہ حکایات و قصائص بیان کرکے گھمنڈ سے سینہ پھلاتے ہیں، لیکن حال اور مستقبل سے یکسر بے خبر یا لاتعلق رہتے ہیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے پڑھے لکھے لوگوں پر کہ وہ ان مولویوں کے وعظ کو سرجھکائے سنتے رہتے ہیں۔
مغربی ملکوں میں بہتر مستقبل کی تلاش میں جانے والے پاکستانیوں کا حال بلجیم میں مقیم ہمارے ایک قریبی دوست فیصل اقبال نے کچھ ان الفاظ میں سنایا “چونکہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد غیر قانونی طور پر یورپ میں داخل ہوتی ہے، چنانچہ ایسے لوگ ابتدائی دنوں میں حرام حلال جو مل جائے کھا پی کر گزارہ کرتے ہیں اور نائٹ کلب میں گھسے رہتے ہیں تاکہ کسی گوری لڑکی کو اپنے جال میں پھنسایا جاسکے، اس طرح ان کو یہاں کی شہریت ملنے کی امید ہوتی ہے، اور نہیں تو کچھ راتیں ہی اچھی گزر جاتی ہیں۔ پھر جیسے ہی ان کو یہاں رہنے کی قانونی اجازت مل جاتی ہے تو ان کا روپ ہی بدل جاتا ہے۔ یہ لوگ پہلے گوروں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر قانونی کاغذات کے لیے گڑگڑایا کرتے تھے، اب ان ہی کو کافر، ناپاک اور شیطان کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس وقت یہ لوگ اپنے وہ دن بالکل فرموش کردیتے ہیں کہ جب وہ رو رو کر انہی لوگوں سے فریاد کررہے تھے کہ ہمیں یہاں سے نہ نکالو ،ہمارے گاو¿ں والے قتل کر دیں گے، ہماری جان کو خطرہ ہے اور ہم تو مذہب سے بھی تنگ ہیں! خدا کا واسطہ ہمیں یہاں رہنے دو ہم عیسائی ہوکر یہاں پرامن رہنا چاہتے ہیں .... لیکن جیسے ہی ان کو یہاں کی امیگریشن مل جاتی ہے، یہ لوگ مولویوں کو پاکستان سے بلانا شروع کردیتے ہیں، بہت سے تو نائٹ شاپ میں شراب فروخت کرکے خوب مال کماتے ہیں اور مسجد کو چندہ بھی اسی کمائی سے دیتے ہیں کہ اس طرح ان کے خیال میں یہ کمائی حلال ہو جاتی ہے۔ ان میں سے کچھ تو اس قدر کٹر مذہبی بن جاتے ہیں کہ اپنی یورپی بیوی کو طلاق دے کر گھر سے رخصت کردیتے ہیں، پھر پاکستان سے کم سن لڑکی کے ساتھ نکاح کرکے یہاں لے آتے ہیں۔ اپنے بچوں کو کہتے ہیں کہ یہ گورے لوگ بڑے خراب ہوتے ہیں، ہم مسلمان ہیں اور ہم دنیا بھر میں سب سے افضل ہیں۔1
میرے ایک عزیز کا کہنا ہے کہ مغرب کے ترقی یافتہ ممالک میں مقیم بیشتر پاکستانی مقامی لوگوں سے کھنچے کھنچے سے رہتے ہیں، یا ان کے ساتھ میل جول سے گریز کرتے ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے نظرآتے ہیں، جن کی مقامی لوگوں سے دوستی ہوجاتی ہے۔ کالج یا یونیورسٹی، وہاں بھی پاکستانی طالبعلموں کی اکثریت یورپی نوجوانوں سے دور دور رہتی ہے۔ ان کے خیال میں اس کا بنیادی سبب پاکستانیوں میں اعتماد کی کمی ہے۔ جبکہ میرا ماننا ہے کہ خوداعتمادی تو ہمارے لوگوں میں اپنے عروج پر پہنچی ہوتی ہے، یہ ان کا اعتماد ہی تو ہوتا ہے کہ وہ چیچوں کی ملیاں، چیچہ وطنی یا کسی دوردراز گاو¿ں سے ا±ٹھ کر یورپ و امریکا جاپہنچتے ہیں، درحقیقت یورپی لوگوں کے ساتھ میل جول سے گریز کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر کے ذہنوں میں ان اقوام کے متعلق حقارت آمیز جذبات پائے جاتے ہیں، جو بعض مذہبی اجارہ داروں کے متعصب وعظ کی بنا پر ان کی فکر کا حصہ بن گئے ہیں۔
ایک مغربی مفکر پروفیسر سی ایم جوڈ نے اپنی کتاب ”جدید بداعمالیوں کی رہنما کتاب“میں لکھا ہے ”وہ مشترک جذبات جن کو آسانی سے بھڑکایا جاسکتا ہے اور جو عوام کے بڑے بڑے گروہوں کو حرکت میں لاسکتے ہیں وہ رحم، فیاضی اور محبت کے جذبات نہیں ہیں بلکہ نفرت اور خوف کے جذبات ہیں۔ جو لوگ کسی گروہ کے اوپر قیادت حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتے جب تک وہ ا±س کے لیے کوئی ایسی چیز تلاش نہ کرلیں جس سے وہ نفرت کرے یا وہ کوئی ایسی شخصیت یا قوم نہ پیدا کرلیں جس سے وہ گروہ خوف کھائے۔“
ہم نے جب پروفیسر سی ایم جوڈ کی تحریر پڑھی تو ہمیں ا±س کے اِس نظریہ پر یقین نہ آیا لیکن مسلمانوں کی مجموعی حالت پر جب نظر گئی تو ا±س کی بات کی تصدیق ہوتی محسوس ہوئی۔ مسلمانوں نے گزشتہ دو صدیوں کے دوران جتنی بھی بڑی تحریکیں چلائیں معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ا±ن میں سے اکثر تعصب اور نفرت پر مبنی تھیں،جتنے بھی لیڈر سامنے آئے ا±ن میں سے زیادہ تر نے نفرت اور خوف کے جذبات کو ہوا دی۔
کسی فرد یا گروہ کو برائی کی علامت قرار دے کر ا±س کے پیچھے پڑجانا خود ایک بہت بڑی برائی ہے۔ برائی کا بیج بویا جائے تو پود ابھی برائی کا ہی نکلے گا اور تناور درخت بن جانے کے بعد وہ پھل بھی برائی ہی کا دے گا۔ بظاہر حق وصداقت کے نام پر ا±بھرنے والی اس قسم کی تحریکیں منفی سرگرمیوں کو جنم دیتی ہیں۔ آج مسلمان تارکین وطن مغربی معاشروں میں ساٹھ برسوں سے مقیم ہونے کے باجود کوئی قابل ذکر اثرورسوخ کے مالک نہیں۔ مغرب میں مقیم مسلمانوں کی اجتماعی مفادات سے غفلت کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ وہ امریکا یا کسی دوسرے ترقی یافتہ مغربی ملک میں کوئی بین الاقوامی درجے کا اخبار یا ٹیلی ویڑن نیٹ ورک قائم نہیں کرسکے۔ بے پناہ دولت، ثروت اور وسائل کے باوجود ہر شعبے میں زیردست ہیں۔ جب کہ یورپ و امریکا میں بہت سی اقلیتوں کے اپنے ٹیلی ویژن نیٹ ورکس ہیں اور وہ بین الاقوامی معیار کے اخبارات بھی شائع کرتی ہیں۔ بھارت کے تارکین وطن ہندو مذہب کے افراد اپنے مذہب اور وطن کے پرچار اور آپس میں یکجہتی کی بنا پر مغربی معاشروں میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
ان سب باتوں کے ردعمل میں اکثر مسلمان ایک ہی بات کرتے رہے ہیں اور وہ یہ ہے کہ”یہ اسلام کے خلاف سازش ہے“....اور اپنی اسی محدود سوچ کے باعث ترقی یافتہ معاشروں میں اجنبی بن کر رہ گئے ہیں!
ہمیں ڈر ہے کہ اگر بیرون ملک مقیم مسلمانوں کی مجموعی ذہنی و نفسیاتی کیفیت مزید اسی طرح خراب ہوتی رہی تو ترقی یافتہ ممالک کے شہری باشندوں کا وہ غصہ جو گرانی اور بے روزگاری کی وجہ سے بڑھتا جارہا ہے، کہیں کسی جنونی مسلمان یا شدت پسند گروہ کی حماقت آمیز جہادیت کی بنا پر اس غصّے کا ابال ان کے اوپر نہ نکلنا شروع ہو جائے.... جو اتنا عرصہ گزرجانے کے باوجود ان معاشروں کا حصہ نہیں بن سکے ہیں اور اجنبیوں کی سی زندگی گزار رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اس طرز کے کسی نسلی فسادات کی صورت میں عالمی سرمایہ پرست اپنے شہری باشندوں کی فرسٹریشن اور غصے کو ان اجنبیوں پر نکالنے میں ان کی مدد ہی کریں گے کہ اس فرسٹریشن پیدا کرنے میں ان کا قصور ہے اور وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ دن بہ دن چند ہاتھوں میں سمٹتی جارہی دولت کا مغربی باشندے احتساب شروع کر دیں۔
ایسی کسی خوفناک صورتحال کا تصور کرکے ہی ذہن پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔ تب ان ترقی یافتہ ممالک میں مقیم مسلمان خدانخواستہ ایسی ہی حالت سے دوچار ہوں گے کہ پیچھے پلٹنے کی صورت میں کھائی میں جاگریں گے اور آگے بڑھنے کی صورت میں اژدہے کا شکار ہوجائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *