فیس بک کا منفی استعمال

raazia syedخبر یہ ہے کہ فیصل آباد میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے نفرت انگیز تقریر کی پوسٹ کرنے کے الزام میں محمد ثقلین نامی ایک اہلکار کو 13سال قید اور ڈھائی لاکھ جرمانے کی سزا سنائی ہے ۔ محکمہ انسداد دہشتگردی کے ایس ایس پی عطا الرحمان کے مطابق محمد ثقلین کو گذشتہ ماہ گرفتار کیا گیا اور محکمے نے ان پر انسداد دہشتگردی کی شق A-980 اور w-11 کے تحت فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کے الزام میںمقدمہ درج کیا جبکہ ان پر توہین رسالت A- 298 کی خلاف ورزی کا بھی الزام ہے ۔ اہم چیز یہ بھی ہے کہ مدعی بھی انسداد دہشتگردی کے ہی عہدےدار ہیں ۔دوسرا واقعہ یہ ہے کہ اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے جعلی اکاﺅنٹ بنا کر ایک خاتون کو بلیک میل کرنے کے الزام میں ایک شخص کو 3 سال اور 25ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے ۔ اس طرح کے بہت سے مقدمات سامنے آرہے ہیں ان میں سے ایک میں مفتی تنویر کو گذشتہ اکتوبر میں 6 مہینے کی قید سنائی گئی ہے ۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھنے والے ذیشان شوکت کو بھی فرقہ وارانہ پوسٹ کرنے کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ۔
ان سب واقعات کا جائزہ لیں تو معلوم یہ ہو گا کہ ہم سب نے فیس بک کے مثبت اثرات کی بجائے اس کے منفی اثرات کو زیادہ قبول کیا ہے ۔ یہاں پہلا مسئلہ مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ عدم برداشت کا ہے ، جس کے تحت کوئی بھی شخص کسی کی بھی دل آزاری کا خیال کئے بغیر فرقہ واریت پھیلا رہا ہے ، مختلف اقوال ، احادیث ، قرآنی آیات کے مستند ہونے کے بارے میں کوئی تحقیق نہیں کی جاتی ۔ دوسری چیز یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی اچھی کارکردگی کی بجائے فیس بک کو میدان جنگ تصور کر چکی ہیں ، مختلف عامیانہ پوسٹس کے ذریعے اپنی جماعت کے بارے میں زمین اور آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں اور دوسروں کی کردار کشی گھٹیا تصاویر اور عامیانہ جملوں سے کی جاتی ہے ۔ تیسری بات یہ ہے کہ فیس بک نفرت اور حسد کا باعث بھی بن رہی ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق ہم اپنے کسی بھی دوست کی کامیابیوں کی تفصیل دیکھ کر رشک و حسد کا شکار ہو جاتے ہیں اور یہ بات ہمارے اعصاب کے لئے اچھی نہیں ہوتی اور ہم میں رقابت جنم لے لیتی ہے ۔ چوتھی بات یہ بھی ہے کہ فیس بک پر ہمہ وقت مصروف رہنے کی وجہ سے ہم کسی بھی چیز کی جانب اپنی بھرپور توجہ مرکوز نہیں کر پاتے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ذہنی امراض سے بھی محفوظ نہیں رہ پاتے ، بے خوابی ، ڈپیریشن بھی فیس بک کا ہی تحفہ ہے ۔
اب ایک نظر اگر ہم اس کے روشن پہلو پر ڈالیں تو فیس بک کے فوائد بھی بہت سے ہیں ۔ کیونکہ کوئی بھی چیز اچھی اور بری نہیں ہوتی ، بہت سی کارآمد نیوز فیڈز سے ہم دنیا بھر کے واقعات سے باخبر رہتے ہیں ۔ ہمارے دوست احباب جو بیرون ملک مقیم ہوتے ہیں ان سے بھی ہماری گپ شپ رہتی ہے ، بہت سی پوسٹس جو فائدہ مند ہیں اور کسی محقق کے لئے بھی مفید ہیں یعنی اصل چیز کسی بھی چیز کے درست استعمال پر ہے۔ پاکستان میں سائبر کرائمز ایکٹ کا درست نفاذ تو دور کی بات ، یہ ابھی تک متنازع ہے اگرچہ کہ آج سے سات ماہ پہلے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی قائمہ کمیٹی نے چئیر مین کپیٹن صفد ر کی سربراہی میں ایک ایکٹ منظور کیا ہے لیکن یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ آج سے ڈیڑھ سال قبل ایف آئی اے کو فیس بک انتظامیہ کی جانب سے اس سوشل فورم کا غیر قانونی استعمال کرنے والوں کے کوائف فراہم کئے جاتے تھے۔ تاہم امریکی قوانین کے مطابق فیس بک صرف اس صورت میں ایف آئی اے کو چار سے چھ ہفتوں میں متعلقہ کوائف فراہم کرتا ہے جب پاکستان کی کسی بھی عدالت نے اس سلسلے میں کوئی حکم نامہ جاری کیا ہوا ہو ۔
سوشل نیٹ ورکس کرائمز میں مجرمانہ رسائی ، دوسروں کی خلوت میں مداخلت، فحش مواد یا پیغامات بھیجنا ، سوشل نیٹ ورکس میں استحصال، یا دھمکی آمیز پیغامات ، فرقہ وارانہ مواد ،حساس اداروں کے بارے میں غلط معلومات اور ان کی کردار کشی شامل ہے ۔ اگرچہ کہ
Pakistan tele communication reorganisation (1996)
preventation of electronic
crimes ordinanace ( 2009 ) اور
electronic transition ordinance ( 2002 ) جیسے قوانین موجود ہیں لیکن بات ان کے درست اور موثر اطلاق کی ہو رہی ہے جو کہیں پر بھی نظر نہیں آرہا ہے۔ ، کراچی سائبر میں اب بھی فیس بک سے متعلق سات شکایات موجود ہیں جبکہ باقی سوشل میڈیا سے متعلق شکایات الگ ہیں ۔ اب اگر ان تمام مسائل کی طرف دیکھا جائے تو پہلی چیز تو یہ کہ بچے کے گھر کی تربیت سب سے اہم ہے ، سوشل میڈیا کا ایک خاص حد تک اور مناسب طریقے سے استعمال بہت ضروری ہے جس کا بتانا والدین اور اساتذہ دونوں کی ذمہ داری ہے۔ حکومت پاکستان کو اب کوئی قوانین وضع کرنے چاہیں تاکہ کم ازکم لوگوں کی زندگیاں محفوظ ہو سکیں کیونکہ فیس بک کے منفی استعمال سے بہت سے خاندان تباہ ہو رہے ہیں ، بہت سی جعلی آئی ڈیز بنا کر خواتین کی تصاویر حاصل کر کے ان کو بلیک میل کیا جاتا ہے لہذا اس سب کی روک تھام کم ازکم اب ہو جانی چاہیے تاکہ آئندہ آنے والے نقصانات سے بچا جا سکے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *