سود کےلئے گنجائش پیدا کی جائے

socrates-drawingجب سے جناب ممنون حسین اس مملکت خداداد کے صدر کے عہدے پر متمکن ہوئے ہیں ان کے نام اور شخصیت کے حوالے سے کوئی نہ کوئی پھلجھڑی آئے روز سامنے آنے لگی ہے۔ اتفاقاً ان دنوں ایک ترکی ڈرامہ بھی دیکھا جارہا تھا جس کے وزن پر ان کا نام خوب جچا تھا۔ یعنی عشق ممنون۔ پھر کبھی دہی بھلوں کی صدا بھی آئی۔ مگر بھلے آدمی معلوم ہوتے ہیں۔ جناب وزیر اعظم جو ہیں تو ان کے ماتحت لیکن کبھی ملاقات ہو تو جو جھلک پردہ سکرین پر جلوہ نما ہوتی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب صدر کچھ اس انداز میں دو زانو ہو کر بیٹھے ہیں کہ اب میاں صاحب پانی مانگیں گے اور جناب صدر بھاگ کر ایک گلاس اپنے دست مبارک سے لاکر پیش کریں گے۔ لیکن لگتا ہے کہ یہ مجھ کوڑھ مغزوں کے دماغی خلل کا نتیجہ ہے جو یونہی الٹا سیدھا نظر آتا رہتا ہے وگرنہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عین آئینی سربراہ مملکت کیسے ایسا سوچ بھی سکتے ہیں۔ ان کی مصروفیات بھی کچھ زیادہ نظر نہیں آتیں۔ درویش منش معلوم ہوتے ہیں۔ میڈیا بھی کم کم ہی نظر آتے ہیں۔ لیکن بھلا ہو میڈیا کا کبھی کبھار یاد دلا ہی دیتا ہے کہ ہمارے صدر مملکت ممنون حسین ہیں۔ اس سے ہمارا جنرل نالج بھی تازہ رہتا ہے اور تسلی رہتی ہے کہ مجھ جیسے بھلکڑ سے اگر کسی نے پوچھ لیا کہ ملک کے سربراہ کون ہیں تو شرمندگی نہیں ہوگی۔ اکثر خاموش ہی رہتے ہیں۔ مگر کبھی کبھار ایسی لب کشائی کرتے ہیں کہ مردے بھی پناہ مانگنے لگتے ہیں۔ ابھی کل ہی انہوں نے کسی تقریب میں شرکت کی ہے اور وہاں خطاب بھی کیا ۔ انہوں نے جو بات وہاں کہی اس کی ایک جھلک کل ہی سوشل میڈیا پردیکھنے کو ملی۔ بیان مگر کچھ ایسا تھا کہ میں نے توجہ ہی نہ دی۔ یہ سوچ کر کہ ہمارے کئی شرارتی بچے ان کے نام اور شخصیت سے اٹھکیلیاں کرتے رہتے ہیں۔ لہٰذا یہ بھی کوئی ایسی ہی شرارت معلوم ہوتی ہے۔ مگر جب آج اخبار دیکھا تو اسی بیان پر نظر پڑی۔ گویا یہ حقیقت تھی! بیان ایسا تھا کہ تبصرہ کئے بنا لگتا ہے کہ کھانا ہضم نہ ہوگا۔ انگلیوں میں خارش سی شروع ہوگئی۔ پہلے تو دو تین بار پڑھا کہ کہیں میری نظر کا قصور تو نہیں۔ لیکن بیان واقعی موجود ہے۔ تردید یا وضاحت بھی تاوقت تحریر نظر سے نہیں گزری ہے۔ جناب صدر فرماتے ہیں کہ
”علمائے کرام ہاو¿س بلڈنگ قرضے پر سود کی گنجائش نکالیں۔ کیونکہ مجبوری ہے۔ کوئی اور راستہ نہیں“
اس کے علاوہ وہ باتیں ہیں جو ایک حکومتی ترجمان کی زبانی بیان کی جاتیں تو زیادہ مناسب تھا۔ تاہم فی الحال موضوع یہ بیان ہے جس میں سود کی حرمت کو حلت میں بدلنے کی بات کی گئی ہے۔ نہ جانے کیوں یہ بیان سننے کے بعد مجھے اکبر بادشاہ یاد آگیا جس نے ایک دین الٰہی ایجاد کیا تھا۔ جسے دین اکبری بھی کہا جائے توبے جا نہ ہوگا۔ لیکن جناب وہ تو بادشاہ تھا چاہے انڈے دے یا بچے۔ لیکن لگتا ہے ہمارے صدر صاحب نے تخت لاہور کے محاورے کو شاید اپنے تئیں حقیقت پرمحمول کرلیا ہے۔ اور اب چلیں ہیں ایک نیا دین الٰہی بنانے۔ کم از کم ان کے بیان سے تو یہی ظاہر ہے۔ ان کے بیان کا سیدھا مطلب ذرا میرے جیسے سیدھے سادے انسان کے لئے لفظوں کے ہیر پھیر کو ایک طرف رکھتے ہوئے یہ بنتا ہے کہ وہ اسلام جس سے ہمارے آئین کو بھی مشرف کیا جاچکا ہے ایک ایسا کارخانہ ہے جہاں سے علمائے کرام سے ہر طرح کے فتوے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ یعنی فتویٰ بمطابق ضرورت۔ نہ جانے کیوں مجھے یہ لگتاہے کہ اس مطالبے میں یہ امر تسلیم شدہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی قوانین دراصل الہامی یا خدائی نہیں بلکہ ہمارے علمائے کرام کی شبانہ روز ریاضتوں کا نتیجہ ہے۔ اسی لئے تو ان سے گزارش کی جارہی ہے کہ بھائی مجبوری ہے کوئی نیا حکم نکالو اور اس چودہ سو سال پرانے حکم کو منسوخ کرو یا منسوخ نہیں تو کم از کم کچھ ادھر ادھر ہی کردو۔ اس پر ہمارے علمائے کرام کا رد عمل بھی نہیں آیا۔ گویا انہوں نے بھی اس کے خلاف کوئی احتجاج نہ کیا کہ جناب مذہب ہم نہیں بناتے جو آپ ہم سے گنجائش نکالنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ہمارے یہاں اکثر دوست جو ریاست میں اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کیا کرتے ہیں ان سے جب پوچھا جائے کہ بھائی کونسا اسلام نافذ ہوگا؟ اہل تشیع کا یا اہل سنت کا؟ یا پھر بریلوی مسلک ہوگاکہ اہل حدیث؟ اس پر جو ایک ہی جواب ان سب کی طرف سے بلا استثنیٰ ملتا ہے وہ یہی ہوتاہے کہ جناب بنیادی عقائد اور ایمانیات میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ لہٰذا میرے جیسا انسان تو آج تک یہی سمجھتا آیا کہ سود کی حرمت بھی قرآن میں واضح ہے اور اسے خدا سے جنگ کے مترادف کہا گیا ہے۔ لیکن اب اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر مملکت جو آئین پاکستان کی دفعہ 62 اور 63 پر بھی یقینا پورے اترتے ہیں اور آئین پاکستان میں کی گئی مسلمان کی تعریف کے عین مطابق مسلمان بھی ہیں کا مطالبہ کچھ ان متفق علیہ بنیادی عقائد سے متصادم اگر نظر آتا ہے تو کیا یہ میری نظر کا قصور ہے یا واقعتا علمائے کرام کوئی نئی گنجائش پیدا کرسکتے ہیں؟ یا اگر علمائے کرام کے نزدیک یہ کفریہ نظریہ ہے کہ قرآنی احکام میں ردو بدل کی گنجائش نکالنے کا مطالبہ کیا جائے اور وہ بھی خدا سے نہیں بلکہ علمائے کرام سے تو کیا پھر بھی ہمارے صدر شق 62 اور 63 پر پورے اترتے ہیں؟ اور کیا نصوص قرآنی میں ‘گنجائش’ پیدا کرنے کا مطالبہ جناب صدر کی طرف سے جائز ہے یا ناجائز۔ اور اگر ناجائز ہے تو جناب صدر کی شرعی اور آئینی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟
ہمارے ایک سابق محترم گورنر صاحب کو تو محض اس لئے واجب القتل ٹھہرا کر اس جہان سے رخصت کروا دیا گیا کہ انہوں نے ایک انسانوں کے بنائے ہوئے قانون میں گنجائش کا مطالبہ کیا تھا اور جس قاتل نے کارہائے نمایاں سرانجام دیا اسکے خلاف عدالت عظمیٰ کا فیصلہ بھی غیر شرعی ٹھہرا۔ مگر اب تو ہمارے صدر صاحب نے تو براہ راست قرانی نصوص میں گنجائش پیدا کرنے کی بات کردی ہے۔ لیکن نہ جانے کیوں اب کی بار علمائے کرام پر ایک گہرا سکوت طاری ہے۔ شایداس لئے کہ اس بار معاملہ براہ راست قرآن کا ہے کسی ایسے قانون کا نہیں جس کو اپنے ذاتی مقاصد کےلئے استعمال کیاجاسکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *