نادر نمونے

farnood alamکہتے ہیں نادرشاہ کو ایک ایٹمی سائنسدان مل گیا۔ دعویٰ کر ڈالا کہ صاحب ایک گولہ تیار کرسکتا ہوں جس کی مار کابل سے سیدھا دلی تک ہوگی۔ اندھے کو کیا چاہیئے؟ نادر شاہ نے حکم دیا گولہ بنایا جائے۔ سا ئنس دان نے کہا ”گولہ تو بن جائے گا مگر سال بھر کی مدت، مکمل اختیارات اور جملہ مراعات درکار ہیں۔ تینوں مطالبات قبول ہوئے اور پراجیکٹ لگ گیا۔ ٹھیک ایک سال بعد سائنس دان نے نامہ بھیج کر خبر دی کہ عالی جاہ! گولہ تیار ہے۔ نادر شاہ نے کہا ” تیار ہے تو پھر چلاو¿ دلی پر”۔ کیونکہ نادر شاہ بھی اس بات پہ ایمان رکھتا تھا کہ مہلک ہتھیار شو پیس کے طور پہ سنبھال نہیں رکھے جاتے، بلکہ وسیع تر قومی مفاد میں وہ چلائے جاتے ہیں۔ خیر۔! نادرشاہ کے فاتحانہ جذبات پہ قابو پاتے ہوئے درباریوں نے کہا ”حضور۔! ایسے نہیں، کوئی تاریخ و مقام طے کیجیئے، عمائدین و مبصرین جمع کیجیئے، پھر یہ تاریخ رقم کیجئے۔ چنانچہ تاریخ مقام اور وقت طے ہوگیا، منادی کر دی گئی۔ مقررہ تاریخ پہ لوگ متعین میدان میں جمع ہوگئے۔ نادر شاہ تخت پہ براجمان ہوئے۔ سائنس دان گھڑی پہ نظریں جمائے کھڑا رہا۔ کانٹا جونہی وقت مقررہ پہ ٹکرایا، توپچی کو اشارہ کر دیا۔ توپچی نے نعرہ تکبیر بلند کیا، مجمع نے سانسیں روکیں، توپ کا لیور گھمایا، گولہ وہیں پھس ہوگیا، اور ایک دھماکے سے توپ وہیں پھٹ گئی۔ دھت تیری کی۔ موقع پر موجود کئی لوگ ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ نادر شاہ کا پارہ ساتویں آسمان سے جا لگا۔ قبا و کلاہ سنبھالتے ہوئے اور پاوں پٹختے ہوئے پالکی کی طرف گئے، طیش میں افق کے اس پار کہیں گم ہوگئے۔ صبح سورج کی پہلی کرن پھوٹتے کے ساتھ ہی فرمانِ عالی شان جاری ہوا
”ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر غدیر بلغاری کو پیش کیا جائے“
ڈاکٹر صاحب سرجھکائے ہاتھ باندھے بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ کورنش بجا لائے، ایک طرف باادب کھڑے ہوگئے۔ نادر شاہ نے چیخ چلا کر پوچھا
”ارے او ڈھکوسلے۔! یہ گولہ تم نے دلی کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے بنایا تھا کہ کابل کو تباہ کرنے کے لئے ؟“
ڈاکٹر صاحب نے معصومیت سے پوچھا
کیوں شہنشاہ مکرم۔! کیا ہوا۔؟
ابے پوچھتا ہے کیا ہوا۔؟ دِکھتا نہیں ہے میدان میں لوگ خونم خون تڑپ گئے ہیں۔ دلی کو اڑاتے خود کو اڑا ڈالا، پوچھتا ہے کیا ہوا۔ ؟
ڈاکٹر صاحب ذرا سا مسکرائے، بولے
”ظلِ سبحانی۔! جان کی امان پاو¿ں تو کچھ عرض کروں“
جواب آیا
”اب عرض کرنے کو خاک رہ گیا ہے۔؟ چلو کرو، کیا عرض کرنا ہے“
ڈاکٹر صاحب نے کہا
”ظل سبحانی۔! اندازہ کیجیئے کہ جب یہاں کابل میں اتنی تباہی ہوئی، تو دلی میں کس قیامت کی تباہی مچی ہوگی“۔
عرض یہ ہے۔ ترکی نے روس کا ہیلی کاپٹر مار گرایا، یہاں اہلِ ایمان کے ایمان کو جلا مل گئی۔ ترکی نے معاشی ترقی کا سفر شروع کیا ہے تو مسلم دنیا کے نادر نمونوں نے یہ سمجھ لیا کہ یہ ساری تیاریاں دنیا کے نقشے سے اسرائیل کو مٹانے کیلئے ہورہی ہیں۔ اب جونہی کسی نادر نمونے کو خبر ہوتی ہے کہ ترکی نے کچھ نئے جنگی جہاز خرید لئے ہیں، تو کہتے ہیں ”تو پھر چلاﺅ امریکہ پہ“۔ جب ایک بے سمت سا تجربہ ترکی کے بارڈر پہ ہوجاتا ہے تو نقصان کا تخمینہ لگانے کی بجائے یہ فرماتے نظر آتے ہیں کہ ماسکو میں یہ عالم ہے تو واشنگٹن کی حالت کیا ہوگی۔ بارڈر پہ ہیلی کاپٹر گرا ہے، اسرائیل میں تو تخت ہی الٹ گئے ہوں گے۔ ہم غور کیوں نہیں کرتے کہ یہ دنیا معاشی مجبوریوں اور معا شی رشتوں پہ چل رہی ہے۔ یورپی ممالک برسوں ایک دوسرے کے خون سے ہاتھ رنگتے رہے۔ دنیا کی کوئی سیاسی تجویز، اخلاقی مشورے اور مذہبی تعلیم اس کشت وخون کو روک نہیں سکی۔ جس دن فریقین میں سے ہر ایک معاشی رشتوں اور فری ویزا اقتصادی پالیسیوں پہ آمادہ ہوگیا، اسی دن جنگوں کے سارے امکانات دم توڑ گئے۔ بقائے باہمی کیلئے باہمی مفادات ہی کو ایک دوسرے سے وابستہ کرلیا۔ صورتِ حال یہ ہوگئی کہ ایک ملک جب دوسرے ملک کے بخیئے ادھیڑنے کی سو چتا ہے تو اپنے ہی جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ سوائے ہمارے، کون ہے اس دنیا میں جو اپنا نقصان آپ کرنا چاہتا ہو۔ آپ طیب اردوان کی تڑیاں تو سنتے ہیں، للکار بھی سنتے ہیں، مگر سوچتے کیوں نہیں کہ وہی اردو وان حکومت اسرائیل کے سیاحوں کو ترکی میں نسبتاً زیادہ سہو لیات کیوں مہیا کرتی ہے۔ آپ کی نظر میں یہ اردووان کا گناہ ہو سکتا ہے، مگر اردووان کے پاس اس کے سوا آپشن بھی کوئی نہیں ہے۔ ایک ہیلی کاپٹر مار گرانے پہ ہم عالمی جنگ کی آرزو مند پیش گوئیاں اسی لئے کر رہے ہیں کہ ہمارے خیال میں دنیا کی تقسیم اب بھی نظریاتی ہے۔ سو چنے کی بات یہ ہے کہ کیا ترکی اور روس جو بمشکل ایک دو سرے کی مدد سے ہی معاشی طاقتوں میں کھڑے ہوئے ہیں، وہ باہم دست و گریبان کیوں ہوں گے۔ وہ کیونکر اسی شاخ پہ وار کریں گے جس شاخ پہ دونوں کی ایک ایک ٹانگ دھری ہوئی ہے۔
اس تناظر میں ہندوستان پاکستان کو لے لیجیئے۔ ہندوستان کے لئے بہت آسان ہے کہ لاہور میں صبح کا ناشتہ کرنے کا بھاشن دے۔ ہمارے لئے بھی بہت آسان کہ ہم لال قلعہ پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کے بھرم دیں۔ اپنے اپنے ان بھاشنوں کا بھرم رکھنے کیلئے ہم بڑی سے بڑی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔ جان دینے کو بھی تیار اور لینے کو بھی تیار۔ کیوں؟ کیونکہ لاہور میں ہندوستان نے کوئی سرمایہ کاری نہیں کی۔ دلی میں ہماری کوئی گھوٹ نہیں پھنسی ہوئی۔ لاہور میں اگر دھماکہ ہوتا ہے، تو یقینی طور پہ معاشی، اقتصادی اور سیاسی نقصان تنہا پاکستان کا ہونا ہے۔ ہندوستان کا کیا جاتا ہے۔ دلی میں کوئی سیلابِ بلا خیز سب کچھ بہا لے جائے، تو پاکستان کا کچھ نہیں جاتا۔ ٹماٹر پیاز کی تجارت تو دو ریڑھیوں کے بیچ بھی تعلقات قائم نہیں کرپاتی۔ یہ وسیع المیعاد سرمایہ کاری ہوتی ہے جو خوشگوار مجبوریوں کو جنم دیتی ہیں۔ وہ مجبوریاں جن میں اول و آخر بھلا انسان کا ہوتا ہے۔ پاکستان اس وقت سیکورٹی اسٹیٹ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ خطرہ ہے جو ہم نے ہندوستان کی شکل میں کھڑا کیا ہوا ہے۔ جب تک یہ تھریٹ قائم ہے، تب تک یہ ملک سیکورٹی اسٹیٹ کا لیبل اپنے سینے سے اکھیڑ نہیں سکتا۔ کچھ دیر کو غور کیجئے، اور بتلایئے کہ اس ملک کے سیکورٹی اسٹیٹ رہنے میں اول و آخر کن عناصر کو فائدہ ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کا مسئلہ ہی یہ ہے کہ یورپی ممالک کی طرز پہ یہاں تعلقات استوار نہیں ہو سکے۔ یوں کہیئے کہ استوار ہونے نہیں دیئے گئے۔ بقائے باہمی کے لئے باہمی مفادات کو ایک دوسرے سے وابستہ نہیں کر سکے۔ اگر ٹھوس اقتصادی رشتے قائم ہوجائیں، تو خطے کی صورت حال کا ذرا چشمِ تصور سے جائزہ لیجئے۔ مشکل مگر یہ ہے کہ یہ خواب اگر شرمندہ تعبیر ہوجاتا ہے تو مسئلہ کشمیر کو اپنے حل کا امکان ہاتھ لگ جاتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کا امکان بھی اگر پیدا ہوجائے تو دفاعی بجٹ کو اپنا حجم سمٹتا ہوا نظر آتا ہے۔ اگر خدا نخواستہ ایسا ہوجاتا ہے، تو پھر جہاد کا وہ فریضہ رک جاتا ہے، جس نے قیامت تک چلنا ہے۔ اس کیلئے لازم یہ ٹھہرا کہ پڑوسیوں کے ساتھ خواشگوار مراسم بڑھانے کے بجائے دو قومی نظریہ کو زندہ رکھنے پہ توانائیاں صرف کی جائیں، تاکہ اسلام براستہ ڈیفنس لاہور پھیلتا ہوا امرتسر تک پہنچ جائے۔
ہم افسانوی دنیا میں جینے والے لوگ ہیں۔ ہم نادر نمونے ہیں۔ ہم بھی اور سرحد کے اس پار والے بھی۔ نریندر مودی کی للکار سے ہندوستان کا مسلمان متاثر ہوتا ہے، تو انتہا پسند ہندو سوچتا ہے ”ہندوستان میں یہ عالم ہے تو پاکستان میں کس قیامت کا منظر ہوگا“۔ پاکستان میں کسی جہادی راہنما کی للکار سے جب کوئی پاکستانی ہندو سہم جاتا ہے تو انتہا پسند مسلمان سوچتا ہے، ”اِدھر کا یہ عالم ہے، تو دلی میں خوف وہراس کا کیا عالم ہوگا“۔ بھائی میرے! مذہب و نظریہ نہیں، معا شی ربط و ضبط کا ہونا نہ ہونا امن و جنگ کی ضمانت ہے۔ اور یہ کہ معاشی استحکام انسانوں کا ایک خوبصورت نگر آباد کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ ہتھیار کے ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ چلا دیا جائے۔ وہ اس لئے ہوتا ہے کہ بانسری سدا بجتی رہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *