انصاف پر بڑستن ڈالو

zafarullah Khanکسٹم کورٹ نے آیان کو دس دس لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کرانے کے عوض پاسپورٹ واپس کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ چشم تصور میں ہم دیکھا کہ اگر ریٹائرڈ چیف جسٹس افتخار چوہدری صاحب اپنی کرسی پر موجود ہوتے تو ضرور اس کیس
میں سوموٹو ایکشن لیتے۔
چیف جسٹس۔اٹارنی جنرل صاحب عدالت کو بتایا جائے کہ آیان علی کو پاسپورٹ کیوں واپس کیا جا رہا ہے؟
اٹارنی جنرل۔ سر یہ تو کسٹم کورٹ کا فیصلہ دیکھ کر ہی بتایا جا سکتا ہے لیکن لگتا یہی ہے کہ ان پر جرم ثابت نہیں ہوا بلکہ وہ جرم کرنے کی کوشش میں گرفتار ہوئی تھیں۔
چیف! کونسے جرم کی کوشش کی تھی؟
اٹارنی۔سر کہا جا رہا ہے کہ ائرپورٹ پر ان سے بہت سارے پیسے پکڑے گئے جو کسٹم مال خانے میں جمع کرائے گئے تھے۔
چیف! کسٹم مال خانے کا انچارچ کون تھا؟
اٹارنی! سر وہ انسپکٹر چوہدری اعجاز تھے۔
چیف! چوہدری اعجاز کو پیش کیا جائے۔
اٹارنی! سر ان کو تو مار دیا گیا تھا۔
چیف! کس نے مارا تھا؟
اٹارنی! سر نامعلوم افراد نے۔
چیف! اس کے لئے ایک انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے کہ نامعلوم افراد کون تھے؟
اٹارنی! سر نامعلوم افراد کا پتہ لگانا ممکن نہیں ہے۔
چیف! کیوں ممکن نہیں ہے؟ اس ملک میں جنگل کا قانون نہیں چلنے دیا جائے گا۔ نامعلوم افراد کا سراغ ہر صورت میں لگایا جائے گا۔
اٹارنی۔ سر ابھی تک بارہ مئی کے نامعلوم افراد کا پتہ نہیں چل سکا۔
چیف! آپ بارہ مئی کا ذکر دوبارہ عدالت میں نہیں کریں گے۔ اس کیس میں میری ذات انوالو ہوتی ہے اور میں اس پر کوئی کمنٹس نہیں دینا چاہتا۔ آپ عدالت کو بتائیں کہ آیان علی کس کے پیسے باہر لے کر جا رہی تھیں؟
اٹارنی۔ سر یہ کنفرم تو نہیں ہے کہ کس کے تھے لیکن ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب نے ایک سابق صدر اور ایک سابق سینیٹر کی طرف اشارے کئے ہیں۔
چیف! تو ڈاکٹر شاہد مسعود کو پیش کیا جائے۔
اٹارنی! سر وہ پیش ہونے سے معذرت کر دیں گے یا پھر اپنے پروگرام میں معذرت کر لیں گے۔
چیف! آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں؟
اٹارنی! سر وہ لال مسجد کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے اور پینتیس پنکچر میں نجم سیٹھی صاحب سے معذرت کر لی تھی۔
چیف! تو ان کو کہیں کہ اگر پیش نہیں ہونا تو الزامات نہ لگایا کریں۔ اور آپ معزز عدالت میں اپنی زبان کا خیال رکھیں۔ یہ اشارے کیا ہوتے ہیں؟ آئندہ ایسے نازیبا اشارے نہ کئے جائیں۔ او ہو یہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ سوری۔ آئندہ ایسے نازیبا الفاظ استعمال نہ کیا کریں۔عدالت کو بتایا جائے کہ کس پارٹی کے سابق صدر اور سینیٹر کا نام لیا جا رہا ہے؟
اٹارنی جنرل! سر اسی پارٹی کے صدر اور سینیٹر کا نام لیا جا رہا ہے جس کے ایک وزیراعظم کو آپ نے توہین عدالت کی سزا سنائی اور دوسرے کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا۔
چیف! کیوںگرفتار کرنے کا حکم دیا تھا؟
اٹارنی! سر رینٹل پاور کیس میں۔
چیف! رینٹل پاور کیس کیا تھا؟
اٹارنی! سر یہ تو رینٹل پاور کیس کے تفتیشی افسر کامران فیصل بتا سکتے تھے۔
چیف! تو کامران فیصل کو حاضر کیا جائے۔
اٹارنی! سر ان کو بھی مار دیا گیا تھا۔
چیف! ان کو کس نے مارا تھا؟
اٹارنی۔ سر نامعلوم افراد نے۔
چیف! ہمم ہمم۔ عدالت کو بتایا جائے کہ کیا وزیر اعظم گرفتار ہوئے تھے؟
اٹارنی ! نہیں سر وہ گرفتار نہیں ہو سکے تھے بس طاہر القادری نے تھوڑی دیر کے لئے دلپشوری کی تھی۔
چیف۔ میں آپ کو پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ آپ اپنی زبان کا خیال رکھیں اور طاہر القادری کا ذکر نہ کریں۔وہ اس معزز عدالت میں اپنی لوکس سٹینڈ آئی ثابت نہیں کر سکے تھے۔ عدالت کو بتایا جائے کہ وزیراعظم گرفتار کیوں نہیں ہوئے تھے؟
اٹارنی! سر نیب کے اس وقت کے چئیرمین نے ٹال مٹول سے کام لیا تھا؟
چیف! یہ برداشت نہیں ہو گا۔ نیب کے اس وقت کے چئیرمین پر کنٹمپٹ آف کورٹ لگایا جائے۔
اٹارنی! سر وہ پہلے ہی کمٹیپٹ آف کورٹ میں نامزد تھے۔
چیف! یہ کیا مذاق ہو رہا ہے؟ عدالت کو بتایا جائے کہ آیان علی سے برآمد رقم میں کس کا نام آ رہا ہے؟
اٹارنی۔می لارڈ سابق صدرکا نام آرہا ہے۔
چیف۔ ان کا نام پہلے بھی سویس کیس میں منی لانڈرنگ کے حوالے سے آیا تھا۔
اٹارنی۔ سر مگر اس کیس میں ان کو استثنیٰ حاصل ہو گئی تھی۔
چیف۔ آپ میرے ساتھ بحث نہ کریں اگر ان کو اس کیس میں استثنیٰ مل بھی گئی تھی تو اس سے پہلے بھی وہ ایس جی ایس کنٹیکنا میں نامزد تھے بلکہ برسوں جیل میں تھے۔
اٹارنی۔ سر میری کیا مجال کہ میں بحث کروں مگر ان کو اس کیس میں بھی بری کر دیا گیا۔اور وہ جیل میں ہونے کا ہرجانہ بھی طلب کر سکتے ہیں
چیف۔بری کر دیا گیا ہو گا مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے کرپشن نہیں کی ہو گی۔ ان کے دوست اب بھی نیب کی تحویل میں ریمانڈ پر ہیں۔
اٹارنی۔ جی سر وہ تو نیب کی تحویل میں ریمانڈ پر ہیں مگر اس کیس میں بھی جو جی آئی ٹی بیٹھی تھی اس نے کوئی چارجز فریم نہیں کئے۔
چیف۔ یہ کیا ہو رہا ہے اس ملک میں؟ کرپشن ہو رہی ہے۔دھاندلی ہو رہی ہے۔نامعلوم قاتلوں کا سراغ نہیں مل رہا۔ یہ کیسی اسلامی مملکت ہے؟
اٹارنی! سر اس پر ابھی بحث جاری ہے۔
چیف! کس پر بحث جاری ہے۔
اٹارنی! اسلامی پر
چیف ! کون کر رہا ہے یہ بحث؟
اٹارنی! پوری قوم کر رہی ہے می لارڈ۔
چیف! تو کیا نتیجہ نکلا؟
اٹارنی! سر بحث ابھی جاری ہے۔
چیف! قوم کو پیغام دیا جائے کہ ہر شخص اپنا اپنا کام کرے۔ بحث کرنا عدالت کا کام ہے۔اور عدالت کو بتایا جائے کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟
اٹارنی۔می لارڈ میں کیا کر سکتا ہوں۔ کرپشن ثابت نہیں ہو سکی۔ دھاندلی ثابت نہیں ہو سکی۔ نامعلوم افراد کا پتہ نہیں چل رہا۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کو ایک مشورہ دوں؟
چیف! جی دے دیں کیا مشورہ دینا چاہتے ہیں۔
اٹارنی! سر وہ ہماری پشتو میں جب بات سلجھ نہ رہی ہو تو بڑے کہتے ہیں اور اس پر وہ.... ڈالو۔
چیف! کیا ڈالو؟
اٹارنی! سر وہ جو نرم نرم ہوتی ہے۔ جو گرم گرم ہوتی ہے۔
چیف۔ آپ کو شرم آنی چاہیے ایسی زبان استعمال کرتے ہوئے۔ میں آپ کو آخری وارننگ دے رہا ہوں کہ ایسی زبان کا استعمال نہ کیا کریں عدالت میں۔
اٹارنی۔ سر معافی چاہتا ہوں۔ میرا وہ مطلب نہیں تھا۔ اصل میں مجھے اس نرم نرم اور گرم گرم کا نام اردو میں نہیں پتہ۔ پشتو میں اس کو بڑستن بولتے ہیں۔
چیف! بڑستن کو اردو میں رضائی کہتے ہیں۔
اٹارنی۔ بس سر اس کیس پر بڑستن ڈال دیں۔
چیف۔ دی کورٹ از ایڈجرنڈ!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *