پیپلز پارٹی.... کیا بلندی تھی، کیسی پستی ہے

jamil khanان دنوں کراچی میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ سندھ حکومت نے کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے دوران فوج کی تعیناتی کے لیے الیکشن کمیشن کو باضابطہ طور پر درخواست جمع کرادی ہے۔ ان انتخابات میں دہشت گردی کے خطرات اپنی جگہ لیکن ہمارے لیے تشویش کی بات یہ ہے کہ کالعدم جماعت سپاہِ صحابہ ان انتخابات میں راہِ حق پارٹی کے نام سے حصہ لے رہی ہے، اور اس سے زیادہ تشویش کی بات اس پارٹی کے ساتھ مقامی سطح پر پیپلزپارٹی کا انتخابی اتحاد ہے۔ گوکہ پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے اس طرح کے کسی اتحاد سے متعلق خبروں کو مسترد کردیا گیا ہے، تاہم ایسے شواہد موجود ہیں کہ کراچی کے مضافاتی علاقے لانڈھی اور ملیر میں مقامی قیادت نے بلدیاتی انتخابات میں انتہا پسندوں کے ساتھ اتحاد کررکھا ہے۔ یہی نہیں کراچی میں جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی، جمیعت علمائے اسلام اور اہلسنت و الجماعت کے ساتھ پیپلزپارٹی ایک پانچ جماعتی اتحاد میں بھی شریک نظر آتی ہے۔اس اتحاد کے بینرز اور پوسٹرز کئی جگہ دیکھے جاسکتے ہیں، ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر تشویش کے اظہار کے ساتھ گردش کررہی ہیں۔
یاد رہے کہ عوام کے حقوق کی جدوجہد کے لیے ملک کی روشن خیال اور ترقی پسند قوتوں کو یکجا کرکے پیپلزپارٹی کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس سے قبل 1967ءمیں تمام قدامت پرست سیاسی جماعتوں نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم کے تحت جمہوریت کی بحالی کے لیے ایک تحریک کا اعلان کیا تو اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس کی جانے لگی کہ معتدل، روشن خیال اور ترقی پسند سوچ کے حامل سیاسی جماعتیں بھی ایک پلیٹ فارم کے تحت اکھٹا ہوں۔ لیکن ترقی پسند رجحانات کی حامل سیاسی جماعتوں کے باہمی تضادات اور شدید اختلافات کے باعث یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ قومی سطح پر کوئی اتحاد تشکیل دے سکیں۔ چنانچہ روشن خیال اور معتدل سوچ کے حامل سیاستدانوں اور دانشوروں نے یہ فیصلہ کیا کہ اس طرح کے اتحاد کا کام ایک نئی سیاسی جماعت سے ہی لیا جاسکتا ہے۔چنانچہ ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پیپلزپارٹی کا قیام عمل میں آیا۔
آج کراچی میں فوجی اشرافیہ کے خوابوں کی تعبیر کی تلاش میں مصروف مذہبی و نیم مذہبی سیاسی جماعتوں اور فرقہ وارانہ قتل و غارت گری میں مصروف تنظیم کے ساتھ پیپلزپارٹی کا انتخابی اتحاد باشعور حلقوں کے لیے انتہائی تکلیف کا باعث ہے۔
ابھی زیادہ پرانی بات نہیں ہے، سب کو اچھی طرح یاد ہوگا کہ 2013ء کے عام انتخابات کے دوران پیپلزپارٹی کو محض اس کے ترقی پسند منشور اور ماضی کی بنا پر دہشت گردوں نے اپنی دھمکیوں کے ذریعے انتخابی مہم سے ہی دور کردیا تھا۔
فرقہ وارانہ قتل و غارت گری میں ملوث تنظیم اور جماعت اسلامی کے ساتھ پیپلزپارٹی کا اتحاد معذرت کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہے جیسے سوات کے مولوی فضل اللہ اور عاصمہ جہانگیر کا اتحاد.... پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت شاید اس بات کو فراموش کرچکی ہے کہ جماعت اسلامی کا اب تک کیا کردار رہا ہے۔ انہیں یاد نہیں کہ ذوالفقار 01علی بھٹو کی حکومت کے آخری ایام کے دوران اسی کراچی میں جماعت اسلامی نے کیا کیا گل کھلائے تھے۔ آج پیپلزپارٹی کی کمان جن ہاتھوں میں ہے، شاید انہیں یاد نہ ہو، لیکن کراچی کے بہت سے لوگوں کو اب بھی یاد ہے کہ تحریک نظامِ مصطفٰے کے نام پر تین سے چار ہفتے کے دوران کروڑوں روپے کی نجی و سرکاری املاک کو نشانہ بنا کر تباہ کردیا گیا تھا، شہر میں پیپلزپارٹی کے بیشتر دفاتر جلادیے گئے تھے، یہی نہیں بلکہ کراچی میں جماعت اسلامی کے مظاہرین نے پیپلزپارٹی کے ایک عہدے دار کے گھر کو نذرِ آتش کردیا تھا، اس گھر میں موجود 14 افراد زندہ جھلس کر ہلاک ہوگئے تھے۔
ان دنوں ہمارا خاندان کراچی کے جس علاقے میں مقیم تھا، اس حلقہ انتخاب سے نو ستاروں کے قومی اتحاد نے منورحسن کو کھڑا کیا تھا، پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے ان کے مدمقابل جمیل الدین عالی مرحوم تھے.... ان دنوں کراچی کی سیاست پر مذہبی جماعتوں کا قبضہ تھا اور اس بات میں کسی کو ذرا بھی شک وشبہ نہیں تھا کہ منور حسن باآسانی کامیاب ہو جائیں گے۔اور ایسا ہی ہوا لیکن اس کے باوجود ہمارے خاندان کے اکثر بڑھے بوڑھوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے نامزد امیدوار کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا، گو کہ خاندان کے چند لو گوں نے اس فیصلے کی مخالفت کی اور انہوں نے منور حسن کے حق میں ووٹ دیے۔
دراصل خاندان کے بڑے بوڑھوں کا کہنا تھا کہ قومی اتحاد میں شامل اکثر مذہبی جماعتیں قیام پاکستان ہی کی شدید مخالف تھیں اور ان جماعتوں کے معتبر قائدین بانی پاکستان محمد علی جناح کے لیے نہایت غلیظ اور تہذیب سے گری ہوئی زبان استعمال کرتے رہے، اب یہ قائداعظم کی تعلیمات اور ان کے مشن کے دعویدار کیوں کر ہو 02سکتے ہیں ....؟ ضرور ان کی نیتوں میں فتور ہے۔ دال میں کچھ کا لا نہیں بلکہ ان کی تو پوری دال ہی کالی ہے۔ اس لیے کہ ان ملّا لوگوں کا دستور تو یہ ہے کہ ”جتھے ملدی دال روٹی اتھے پڑھدے آیتاں چھوٹی ، جتھے ملدا مرغ حلوا ا±تھے ویکھو ملّا لوگوں دا جلوا.... “اور اگر آج ان مولویوں کو سیاست کے میدان سے نکال باہر نہیں کیا گیا تو کل یقیناً یہ پاکستان کو تھیو کریٹک ریاست بنا کر دم لیں گے۔ جس کی ’اسلام‘ میں قطعی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ عقل و شعور پر پہرے بٹھا کر ساتویں صدی میں تشکیل دیے گئے فقہی قوانین کو مسلط کرنے کی ضرور کوشش کریں گے۔ ہمارے بزرگوں کا خیال تھا کہ ایسا ہوا تو ملک میں کبھی امن وامان قائم نہ ہوسکے گا، اس لیے کہ یہ تمام مولوی کسی دستر خوان پر تو اکھٹے ہو سکتے ہیں ، لیکن کبھی اسلام کی کسی ایک تفہیم پر متفق نہیں ہوں گے۔ امن و امان کی مخدوش صورتحال کا براہ راست اثر معیشت پر ہو گا یوں مفلسی میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا، مفلسی ہی جرائم کو جنم دیتی ہے۔ ماشا اللہ ہمارے بزرگ بہت جہاندیدہ اور دور اندیش تھے !
آج ہم دیکھتے ہیں کہ اچھائی اور برائی کے معیارات یکسر تبدیل ہوگئے ہیں ، اس طرح نہیں رہے جس طرح کہ رسول اللہﷺ نے تعلیم فرمائے تھے اور جس طرح فطری طور پر یہ معیارات ازل سے چلے آرہے ہیں۔ اس لیے کہ اب کسی کے اچھے یا برے ہونے کا میعار اللہ کی مخلوق (جسے اللہ نے اپنی عیال یعنی کنبہ کہہ کر اس کی اہمیت کو جتایا ہے) کے لیے کارآمد ہونا نہیں رہا۔ اب تو کسی کا محض ظاہری حلیہ ہی اسے متقی کے درجے پر فائز کروا سکتا ہے، صرف بڑے بھائی کا کرتہ اور چھوٹے بھائی کی شلوار زیب تن کرنا اور ریش دراز کرنا ہی کافی ہے۔
چنانچہ ملک کے بعض علاقوں میں بہت سے لوگ اغوا برائے تاوان کو بطور پیشہ اپنا ئے ہوئے ہیں اور ان کے ہاتھوں کی انگلیاں تسبیح کے دانوں پر مسلسل متحرک رہتی ہیں ، دنیا ادھر سے ا±دھر ہوجائے وہ نماز قضا نہیں کرتے اور تاوان کے مقررہ ریٹ میں بھی کمی نہیں کرتے۔ ملاوٹ ، غبن ، رشوت ، دھوکہ دہی ، ذخیرہ اندوزی ، دوگنا بلکہ بعض چیزوں پر پچاس گنا سے بھی زیادہ دام وصول کرنا ، ڈاکہ ، رہزنی ، قتل یہاں تک کہ کسی انسان کو ذبح کرنے میں انہیں کوئی عار نہیں لیکن کوئی بے نمازی ان سے برداشت نہیں ہوتا۔
ان حالات میں پیپلزپارٹی جسے باشعور، روشن خیال، ترقی پسند اور محب وطن افراد کی امید بننا چاہیے تھا، آج کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں چند سیٹوں کی خاطر اسی گروہ کے ساتھ کھڑی ہے، جس نے اس کی حکومتوں کے خلاف تحریکوں کو منظم کیا، پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل اور ملک کی تباہی و بربادی میں جو کردار ادا کرتی آئی ہے وہ سب پر عیاں ہے!
اس ترقی معکوس پر اناللہ واناالیہ راجعون ہی پڑھا جاسکتا ہے، اور کچھ کہنا تحصیل حاصل کے مترادف ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *