دفتروں میں فیس بُک سے مالکان خوش

FB1آپ اپنے باس کو اپنے فیس بک فرینڈز میں شامل کرنا چاہتے ہیں، یا آپ چاہتے ہیں کہ دفتر کے اوقات میں آپ اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ’سنیپ چیٹ‘ کریں؟

اگر آپ یہی چاہتے ہیں تو پریشانی کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ آپ کی طرح دنیا بھر میں لوگ سرکاری قسم کی ظالمانہ ای میلوں سے تنگ آ چکے ہیں اور دفتر کی یکسانیت اور بوریت سے فرار کے لیے ایسا ہی کر رہے ہیں۔ ادارے کے اندر مختلف لوگوں کے درمیان گفتگو اور تبادلۂ خیالات میں بہتری کی غرض سے دنیا بھر میں کئی ایک کاروباری ادارے نہ صرف چیٹ کی مختلف ایپلیکیشنز (چیٹر، سلیک، یامر) کا زیادہ سے زیادہ استعمال کر رہے ہیں بلکہ فیس بُک بھی دفتر کے ساتھیوں کے درمیان گفتگو کا ایک موثر ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔

کاروباری دنیا پر تحقیق کرنے والی بڑی کپمنی ’مارکِٹس اینڈ مارکِٹس‘ کے تازہ ترین جائزے کے مطابق سنہ 2019 تک معاشرتی رابطوں کے سوفٹ ویئرز کے کاروبار کا کل حجم آٹھ ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ آج کل اس مارکیٹ کی کل مالیت پانچ ارب ڈالر ہے۔ مختلف اداروں اور کمپنیوں کے اندر ای میل وغیرہ کے لیے ’انٹرانیٹ‘ کی سہولت کا استعمال 20 سال سے بھی پہلے شروع ہو چکا تھا، لیکن اب معاشرتی رابطوں کی نت نئی ایپس کے آنے سے دفتروں کے اندر رابطوں اور گفتگو کی دنیا یکسر بدلتی جا رہی ہے۔

FBفیس بُک نے جنوری سنہ 2015 میں کاروباری دنیا کے لیے رابطوں کا ایک نیا پلیٹ فارم ’ فیس بُک ایٹ ورک‘ متعارف کرایا تھا، تاہم چند ہی ماہ میں اس ایپ کی مقبولیت میں اضافے کے بعد اب فیس بُک نے ’ فیس بُک ایٹ ورک‘ میں مزید بہتری لانے کے لیے نئی ایپ لانچ کر دی ہے۔ اِس نئی ایپ کے بعد لگتا یہی ہے کہ ڈیڑھ ارب صارفین والی معاشرتی رابطوں کی سب سے بڑی کمپنی فیس بُک اب کاروباری اور دفتری دنیا میں بھی اپنا سکہ جمانے جا رہی ہے۔ اپنی نئی ایپ کے لیے فیس بُک اب تک 300 سے زائد کمپنیوں سے ٹھیکے لے چکی ہے جن میں دنیا کی کئی بڑی بڑی کمپنیاں شامل ہیں۔

’شراکت داری کا کلچر‘

اب تک فیس بک نے جو بڑے بڑے ٹھیکے لیے ہیں ان میں سے ایک بڑا خریدار برطانیہ کا بینک ’رائل بینک آف سکاٹ لینڈ‘ ہے۔ اکتوبر کے آخرے دنوں میں بینک نے اعلان کیا تھا کہ فیس بُک کو تجرباتی بنیادوں پر استعمال کرنے کے بعد بینک نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ سنہ 2016 تک اپنے تمام (ایک لاکھ سے زائد) ملازمین کو فیس بُک ایٹ ورک کی سہولت فراہم کر دے گا۔

FB0لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کمپنیاں ایسا کیوں کر رہی ہیں؟

رائل بینک آف سکاٹ لینڈ (آر بی ایس) کے ڈائریکٹر کیون ہینلی کہتے ہیں کہ اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ’ہم بینک کے مختلف ذیلی محکموں اور شاخوں کے درمیان رابطوں کو آسان بنانا چاہتے ہیں۔ ادارے کے اندر زیادہ شفافیت، رابطے اور شراکت داری کے کلچر کے فروغ میں ’فیس بُک ایٹ ورک‘ ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔‘

فیس بُک کے ایک ڈائریکٹر جُولین کوڈونیو نے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ فیس بُک محض رابطوں یا گفگتو کا ذریعہ نہیں بلکہ فیس بُک ایٹ ورک ایک ایسی ایپ ہے جس سے آپ کی پیداواری صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ’ہماری بنیادی سوچ یہی ہے کہ ایک ایسا دفتر یا کمپنی جس کے ملازمین کے درمیان رابطے زیادہ ہوں، ان کی پیداواری صلاحیت بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کے تین ارب ملازمین کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا جائے۔ اور اس رابطے کے لیے آپ کو ایک فون کے علاوہ کچھ درکار نہیں ہوتا۔‘ ’ہم ہر ملازم کو زبان دے رہے ہیں تاکہ وہ بول سکے۔‘ مسٹر ہینلی کا کہنا تھا کے فیس بُک ایٹ ورک اسی طرح کام کرتی ہے جیسے فیس بُک کام کرتا ہے اور آر بی ایس میں اس کی کامیابی کی بڑی وجہ یہی ہے کہ فیس بُک استعمال کرنے والا ہر شخص اس نئی ایپ کو بخوبی استعمال کر لیتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *