پاکستان بمقابلہ سری لنکا ٹیسٹ سیریز: کرکٹ چھوڑ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، فواد عالم

پاکستانی بیٹسمین فواد عالم کے بین الاقوامی کریئر میں کھیلنے کے دن کم اور کھیلنے کا انتظار کرنے والے دن زیادہ ہیں۔

وہ اپنے بین الاقوامی کرکٹ کے آغاز سے ’ازسرنو آغاز‘ تک کے درمیانی عرصے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چھ چیئرمین دیکھ چکے ہیں اور اگر اس عرصے میں چیف سلیکٹرز کی تعداد گنی جائے تو یہ گیارہ بنتی ہے۔

فواد عالم کا بین الاقوامی کریئر بظاہر بارہ سال پر محیط ہے لیکن اگر ان کے ٹیسٹ کریئر پر نظر ڈالی جائے تو صرف تین ٹیسٹ میچوں کے بعد ہی دس سال کا طویل صبر آزما اور تکلیف دہ انتظار موجود ہے۔

تکلیف کا یہ احساس اس لیے بھی بڑھتا رہا کہ وہ جتنا عرصہ باہر رہے اس دوران چھ بیٹسمینوں کو ٹیسٹ کیپ بھی دی گئی۔

یہی وجہ ہے کہ سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز کے لیے پاکستانی ٹیم میں نام شامل ہونے پر ان کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے وہ اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز کرنے والے ہیں۔

اتفاق کی بات یہ ہے کہ سنہ 2009 میں انھیں ٹیسٹ کیپ سری لنکا ہی کے خلاف کولمبو میں دی گئی تھی اور انھوں نے اس ٹیسٹ میں اوپنر کی حیثیت سے کھیلتے ہوئے 168 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی۔

کسی پاکستانی بیٹسمین کا ملک سے باہر اپنے پہلے ٹیسٹ میں سنچری بنانے کا یہ پہلا موقع تھا۔

فواد عالم

’مایوس ضرور ہوا لیکن والد ہمت بڑھاتے رہے‘

فواد عالم کہتے ہیں کہ یہ کہنا جھوٹ ہو گا کہ وہ پاکستانی ٹیم میں شامل نہ کیےجانے پر کبھی مایوس نہیں ہوئے لیکن کرکٹ کو چھوڑ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ یہی ان کا ذریعہ معاش ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سیزن میں مستقل اچھی کارکردگی کے باوجود ٹیم میں نام نہ آنے پر افسوس ہوتا تھا لیکن پھر وہ خود کو اگلے سیزن کے لیے ذہنی طور پر تیار کر لیتے تھے اور یہ سوچتے تھے کہ کبھی نہ کبھی بند دروازہ ضرور کھلے گا۔

فواد عالم خاص طور پر اپنے والد طارق عالم کا ذکر کرتے ہیں جو خود فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل چکے ہیں۔

فواد کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے ان کے حوصلے کبھی پست نہیں ہونے دیے۔ ان کے علاوہ ان کے دوستوں نے بھی کبھی یہ نہیں سوچنے دیا کہ کوئی زیادتی یا ناانصافی ہوئی ہے۔

کبھی ٹیم سے باہر رکھے جانے کی وجہ معلوم کی؟

فواد عالم کا کہنا ہے کہ وہ جتنا عرصہ بھی انٹرنیشنل کرکٹ سے باہر رہے انھیں کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ انھوں نے ایک دو بار پوچھا بھی لیکن انھیں صرف یہ کہا گیا کہ پرفارمنس دیتے رہو۔

فواد عالم
فواد عالم کو دس سال بعد ٹیمم میں شامل کیا گیا ہے

کیا انضمام فواد کو انٹرنیشنل کرکٹر نہیں مانتے؟

فواد عالم کا کہنا ہے کہ وہ انضمام الحق کی اس بات پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے جس میں انھوں نے انھیں انگلینڈ کے بیٹسمین مارک رام پرکاش سے ملایا۔

انھوں نے کہا کہ وہ انضمام الحق کی بہت عزت کرتے ہیں، وہ بہت بڑے کرکٹر ہیں اور انھوں نے جو کچھ کہا ہے کہ وہ ان کی اپنی رائے ہے۔

یاد رہے کہ ایک ٹی وی پروگرام میں جب انضمام الحق سے فواد عالم کو نظرانداز کیے جانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ فواد عالم نے ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی پرفارمنس دے رکھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسطرح کی پرفارمنس انگلینڈ میں مارک رام پرکاش نے بھی دے رکھی ہے جنھوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں سو سے زائد سنچریاں بنائی تھیں لیکن ٹیسٹ نہیں کھیلے کیونکہ انگلینڈ میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں پرفارمنس دینا اور انٹرنیشنل کرکٹ میں فرق ہے۔

انضمام الحق کے اس تبصرے کو کرکٹ کے حلقوں میں ان کی لاعلمی قرار دیا گیا ہے کیونکہ مارک رام پرکاش نے 52 ٹیسٹ میچوں میں انگلینڈ کی نمائندگی کی تھی۔

’چندرپال کا مشورہ کبھی نہیں بھول سکتا‘

فواد عالم کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹنگ سٹانس یعنی کریز پر کھڑے ہونے کے انداز پر کافی تبصرے ہوتے رہے ہیں اور اس پر تنقید بھی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ انداز پہلے ایسا نہیں تھا لیکن بعد میں ایسا ہو گیا اور وہ اس کے عادی ہو گئے کیونکہ وہ کریز پر جس انداز سے کھڑے رہ کر بیٹنگ کرتے ہیں اس میں انھیں کوئی دقت نہیں ہوتی۔

فواد عالم کا کہنا ہے کہ ان کی ملاقات ویسٹ انڈین بیٹسمین شیونرائن چندر پال سے ہوئی جو انھی کی طرح کریز پر کھڑے رہ کر بیٹنگ کرتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ چندرپال کا کہنا تھا کہ لوگ تو باتیں کریں گے لیکن آپ اپنے ناقدین کو اپنے رنز سے خاموش کرا سکتے ہیں جب آپ رنز کریں گے تو تنقید کرنے والے آپ کو شاباشی بھی دیں گے۔