باچا خان اور مولانا آزاد ( پہلی قسط )

farnood alamمحترم سراج الحق صاحب کے نام جماعت کی امارت کا قرعہ فال نکلا. اگلے روز ایک بڑے نشریاتی ادارے کے میزبان نے سوال کیا
"کیا باچا خان بھی آپ کے آئیڈیل ہیں؟"
سراج صاحب نے روایتی انداز میں ایک نازنین حسینہ کی سی مسکراہٹ ہدیہ کی اور بولے
"سچ پوچھیئے تو باچا خان نے مجھے کبھی متاثر نہیں کیا. بس وہ لمبے قد کا ایک آدمی تھا جس کے بڑے بڑے ہاتھ تھے. اس سے زیادہ کچھ نہیں"
سوال آیا
"تو پھر نیلسن منڈیلا کس بنیاد پر آپ کی پسندیدہ شخصیت ہیں"
جواب ملاحظہ ہو.
"دیکھیں نیلسن منڈیلا کی اپنی قوم کے لئے جدو جہد جیل میں بیتے تیس برس اور مسلسل استقامت مجھے بہت متاثر کرتی ہے"
خود بتلایئے.!!
دل کو روﺅں کہ پیٹوں جگر کو میں. انسان اپنے آئیڈیل تراشنے میں آزاد ہے. اسے یہ حق ہے کہ وہ کسی بھی شخصیت کو تمام خوبیوں کے ساتھ مسترد کردے. یہ حق مگر انسان کو کسی طور نہیں دیا bacha_khan_anp_-_pukhtoogle__9_جاسکتا کہ وہ بیک جنبش لب تاریخ کو مسخ کرڈالے. آپ نے نیلسن منڈیلا کے فضائل میں تین چیزیں گنوائیں.
قوم کیلئے جدوجہد.
جیل کی اسارت.
مسلسل استقامت.

کیا میں پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہوں کہ ان تینوں میں سے کون سی ایسی خوبی ہے جو خان عبدالغفار خان کی زندگی میں نہیں ہے.
ہم بتلائیں کیا.؟
یہ پختون بھی میری معلومات کے مطابق ایک قوم ہی ہے. اس قوم کی پیغمبرانہ خدمت اگر باچا خان کے سوا کسی نے انجام دی ہو، تو اس نابغے کا نام بتلا دیجئے۔ آپ کو سات پانیوں کے اس پار کے ایک لیڈر کی خبر ہے کہ زندگی کے تیس برس انہوں نے سلا خوں کو دیئے، مگر اے یار من آپ کو ساتھ ہی میں بیٹھے اس بوڑھے درویش کے وہ پنتیس برس کیوں نظر نہیں آئے، جو قید وبند کی نذر ہوگئے؟ آپ نے استقامت کی بات کی.؟ کیا باچا خان کی زندگی میں اس لمحے کی نشاندہی کی جا سکتی ہے جس لمحے میں ان کے پائے استقا مت پہ کوئی رعشہ ٹوٹا ہو؟
ذرا بتلایئے.!!
یہ کون سی دنیا کی باتیں ہیں صاحب؟ یہ کیسی جرات ہے کہ آپ تاریخ کو جماعتائز کرنے کے لئے تاریخ کا حلیہ بگاڑ دیں۔ آج خیبر سے لیکر بندر عباس تک، خلیج فارس سے لیکر فجی آئر لینڈ کے جزیروں تک عرب سے لیکر غرب تک پختون اپنی صلاحتوں سے اس کائنات کو سنوار رہا ہے۔ مذہب، تاریخ، فلسفہ، ادب، سائنس، تصوف اور فنون لطیفہ میں پختون اپنا مقام پیدا کرچکا، یہ سہرا آپ لمبے قد والے باچا خان کے سوا کس کے سر باندھیں گے؟ کوئی بتلا سکے تو بتلائے کہ بندوق کو اپنا زیور سمجھنے والے پختون کے ہاتھ سے بندوق لے کر محبت کی بانسری کس نے تھمائی؟ اس کا سہرا کس کے سر ہو؟ اگر کوتاہ قد لوگ بلند قامت انسانوں کو پنجوں کے بل کھڑے ہوکر بھی سہرا نہیں پہنا پائیں، تو بجائے تمسخر اڑانے کے اپنے کوتاہ قد ہونے کا اعتراف کیا جانا چاہیے. عارف باللہ کے مرید پاک سے کوئی معرفت کا یہ نکتہ بھی بتائے کہ ہٹ دھر می سے نہیں، ہٹ دھرمی پہ اصرار کرنے سے دانشور تباہ ہوتے ہیں۔ کیا باچا خان کو منوانے کے لئے کسی مرحوم جرنیل کی وردی انہیں چڑھانی پڑے گی؟ آپ کے tft00ذوق کی تسکین کیلئے یہ بھی کر لیتے، مگر مشکل یہ ہے کہ کوتا قد معاشرے نے اب تک وہ قبا ایجاد نہیں کی جو اس بلند قامت کا وجود ناپ سکے۔ تاریخ اپنے چوراہے پہ کسی بوٹ کا تسمہ برداشت نہیں کرتی صاحب۔ کج کلاہ باچا خان کی ٹیڑھی ٹوپی اور ٹوٹی جوتی ہے جسے تاریخ نے اعزاز بخشا ہے۔ یہی تو وجہ ہے کہ تاریخ سے سبق لینے کے بجائے تاریخ کو بدل دینے پہ توانائیاں صرف ہوتی ہیں۔ خود بدلتے نہیں، تاریخ بدلتے ہیں۔ کس بے رحمی سے سوال ہوا کہ باچا خان کیسے ایک بڑا لیڈر ہوسکتا ہے۔ حضور والا.! کابل سے لیکر پشاور تک کھنچی ہوئی خون کی یہ لکیر باچا خان کی عظمت کی خبر دے رہی ہے. باچا خان کو ہی جھٹلایا تھا نا؟ اب اٹھایئے یہ لاشیں۔ اب سنبھالئے اپاہج بچے اور معذور جوان۔ باچا خان کے فلسفے سے سرمو انحراف نہ کیا ہوتا، تو یہ دن دیکھتے؟ اب دیکھ لیا ہے، تو اعتراف جرم کا حوصلہ پیدا کرنے کے بجائے تاریخ بدل دینے کی جرات؟ الامان والحفیظ
کل پھر قلم کی حرمت پامال ہوئی. تاریخ سے جو آنکھیں نہیں ملا سکتے، ابولکلام آزاد پہ بھپتی کس ڈالی۔ کس ادائے دیگری سے بولے
"ابولکلام کسی طور بڑا لیڈر نہیں تھا"
کیوں بھئی.؟
کیونکہ عوام انہیں مسترد کر چکی تھی. بجا فرمایا. حضور ابولکلام آزاد نے دانستہ مذہب کے استعمال سے احتراز کیا۔ ریاست کے ساتھ وہ مذہب کا جوڑ پیدا کر لیتے تو azadسادہ لوح مسلمانوں کو قطار اندر قطار اپنی دہلیز پہ پاتے۔ مشکل مگر یہ ہے کہ دیانت دار دانشور وہ بات کہنے سے باز نہیں آتا، جسے اس نے نتیجے کے طور پہ اخذ کر لیا ہو. عارف باللہ کے مرید پاک ہم سے پوچھا کیئے
"ابولکلام نے ایسی کیا پیشگوئی کی تھی جو دوسرے نہ کر سکے"
پیش گوئی؟ بزرگوار پیش گوئی نہیں، نقطہ نظر کہیے۔ وہ کہہ رہے تھے مذہب کی بنیاد پر آپ قوم تشکیل نہیں دے سکتے. دل بڑا کیجئے اور آیئے اعتراف کیجیے کہ بانیان پاکستان نے ایک سیاسی مسئلے کے حل کے لئے مذہب کا نام استعمال کیا. وہ مذہب جو کبھی ان بانیان کی سوچ سے میل نہیں کھایا. نتیجہ کیا رہا؟ یہی کہ اب تک مسلمانان پاکستان یہ گتھی سلجھانے میں مصروف ہیں کہ قائد اعظم سنی تھے کہ شیعہ۔ جماعت اسلامی اور جے یو آئی ابھی تک ایک قائد اعظم پر اتفاق نہیں کر سکیں. بریلوی مکتب فکر کا قائد اعظم سبزہلالی عمامہ سر پہ رکھے اسلامی نظام کی دہائی دے رہا ہے اور دیوبندی مکتب فکر کا قائد اعظم جمہوریت کی راکھ میں سے میں سے خلافت کے پرزے تلاش کر رہا ہے. اہل حدیث کا قائد اعظم سعودیہ میں اسلام کا پانچواں ستون ڈھونڈ رہا ہے تو مجاہدین کا قائد اعظم بندوق لے کر پہاڑوں پہ مورچہ زن ہوچکا ہے. تاریخ کے دفتر میں محفوظ قائد کی ہر تقریر جھٹلا دی گئی، اور مورخ سے گن پوائنٹ پہ وہ تقریریں قلم بند کروائی جارہی ہیں جو قائد اعظم نے کبھی کی نہیں۔ آپ نے آزاد صاحب کے فکری مرتبے کا پوچھا؟ آج تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزرتا ہوا پاکستان ابولکلام آزاد ہی کی علمی و فکری حیثیت کی گواہی دے رہا ہے ۔ کھوپڑیوں کے مینار پہ کھڑا نوحہ گر حضرت آزاد کی سیاسی بصیرت کا ہی اعتراف کررہا ہے. آپ ہیں کہ پوچھتے ہیں ابولکلام کوئی لیڈر تھا؟ کوئی جینئیس تھا؟ وقت کا تقاضا کیا ہے؟ تقاضا یہ نہیں کہ تاریخ کے اوراق لپیٹ کر مورخ کے منہ پہ دے ماریں۔ تقاضا یہ ہے کہ اس بکھرے ہوئے پاکستان کو سمیٹنے کے لئے حضرت آزاد کی فکر سے رجوع کیجئے۔ کیوں؟ کیونکہ سیانے کہتے ہیں، غلطی سے نہیں، غلطی پہ اصرار سے قومیں برباد ہوتی ہیں.
(جاری ہے۔)

باچا خان اور مولانا آزاد ( پہلی قسط )” پر بصرے

  • نومبر 28, 2015 at 5:46 PM
    Permalink

    Y bechare siasi boone kia smjhen gee Azad irBacha khan ko

    Reply
  • نومبر 29, 2015 at 9:51 AM
    Permalink

    why is this so..
    .the more i read Dunya Pakistan the more i see criticism on individuals.

    Reply
  • نومبر 29, 2015 at 9:22 PM
    Permalink

    .Very less people know the human based political ideology of Bacha Khan and Abu-Alkalam Azad. First time ever, have seen such true analysis highlighting the importance of their ideology in the current era

    Reply
  • نومبر 29, 2015 at 10:46 PM
    Permalink

    تحریر چونکہ قسط وار ہے، اس لئے مکمل ہونے کا انتظار کرنا ہوگا، پھر ہی اس پر تبصرہ ہوسکتا ہے، تاہم اس کے دلچسپ ہونے میں کوئی کلام نہیں، اس کا پہلا حصہ دلچسپی سے پڑھا، متفق نہ ہونے کے باوجود، باچا خان کی شخصیت کے حوالے سے کوئی حتمی رائے قائم نہیں‌کر رکھی، اس لئے زیادہ دلچسپی سے پڑھا۔ مولانا آزاد والے معاملے کو اگلی قسط میں‌شائد زیادہ کھل کر سامنا آنا ہے، مگر ابھی سے وہ مہک آ گئی جو جواب لکھنے پر اکساتی ہے۔ آخری سطروں میں مولانا کی فکر سے رجوع کرنے کی مشورہ دیا گیا، بہتر ہوگا کہ اگلی قسط یا اقساط میں وہ فکر بھی بیان کر دی جائے تاکہ تفہیم میں‌آسانی ہو۔ بہرحال اچھے انداز میں لکھی گئی یہ تحریر ہلچل پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    Reply
  • نومبر 30, 2015 at 12:14 AM
    Permalink

    پٹھان کی وجہ تسمیہ ایک تاریخی پہلو
    نفرت تب بڑتی ہے جب انا کی مسلہ جنم لیتاہے۔چاہیےوہ کلچر، رنگ، تہذیب و تمدن قومیت تعلیم ،علم ودانشمندی کی بنیاد پر ہی کیوں نہ ہو۔نیلسن منڈیلا نے بہت خوب کہا ہے" انسان پیدائشی طور کسی سے نفرت نہیں کرتا۔نفرت کرنا اسے سکھا یا جاتا یے۔والدین سکھا تے ہیں سکول کی کتابیں سکھاتی ہے میڈیا سکھاتا ہےورنہ انسان کی فطرت تو محبت کرنا ہے"۔یوں ہی ھمارے معاشرے میں ایک اہم مسلہ بڑھتی ہےجو بذات خود از حد محسوس کی۔ کہ پٹھان پر طنزو مزاح یا لطیفے کیوں بنتے ہیں۔اورلفظ پٹھان کی مقصد کیا ہے۔یہ سب جاننے سے پہلے مختصر سی وضاحت پیش ہے۔کہ آج کل تقریبا جوکرز سے لیکر میڈیا تک اس میں برابر کے شریک ہے۔اورتو سب سہی میڈیا کسی بھی ملک کے نطام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جو بہت افسوس کی بات ہے۔بجائے کہ مسلے پر سوچ و بچار کرکے مزید ہوا دے رہی ہے اس مسلہ کی خا طر اس چیز کی جاننے کیلے ضروری ہے کہ لفظ پھٹان کی وجہ تسمیہ کیا ہے اور پٹھان پر لطیفے بننے کی تاریخی داستاں کیا ہے؟
    ماہرین کے مطابق پشتون پانچ ہزار سے اس خطے پر آباد ہے۔جنگوں کی تاثرات کے وجہ سے کبھی دہلی تک پہنچ جاتے۔اور کبھی سکڑ کر خراسان تک محدود رہ جاتے۔دنیا کی ہر طاقت سے پنجہ آزمائی کر چکے ہیں مگر ہر بار ندامت کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوئی ہیں۔مذہبی لحاظ سے پشتنونوں کے بارے میں بہت سے نظریات ہیں۔تا ریخی لحاظ کوئی یہودیوں سے کوئی آتشت پرستوں و ہندووں سے اور بہت سے اس قوم کو زرتشت سے جوڑتے ہیں۔چودویں صدی میں اسلام کی عروج ہوا ۔دنیا بھر سے وفود کا رخ حجاز کی طرف تھا۔جن میں ایک وفد خراسان سے پشتونون کے آباو اجداد جناب قیس کی شامل تھی۔قیس کو حضورؐنے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔اور اسلامی نام عبدالرشید رکھا۔وفد کی قیام کے دوران مسلمانوں کی ایک غزوہ کفار کے ساتھ ہوئی۔ جس میں پشتون وفد نے بڑے کارنامے انجام دیئے۔حضور اکرمﷺ نے پشتون وفد کی بہادری کو ستاتے ہوئے "بطحان"کا خطاب عطا فرمائی۔(جو بعد علاقوں کی نسبت بدلتے ہوئےیہ لفظ پٹھان ہوئی) جس کی معنی ہے چپو والی کشتی پیندے کی ہے۔اور ساتھ پیش گوئی فرمائی کہ یہ لوگ اسلام کیلے کشتی کے پیندے کی طرح فائدہ مند ثابت ہوجایئگے ۔کچھ عرصہ قیام کے بعد قیس عبدالرشید اپنے قوم کی طرف لوٹا بحیثت قوم اسلام قبول فرمائی ۔اور آج تک دین و مذہب اسی طرح ڈٹے ہوئے ہیں۔یہ مختصر سی تاریخ وجہ تسمیہ پٹھان کی پیش کی۔مگر پٹھان کو کب سے اور کن وجوہات کی بنا پر بیوقوف اور حقارت کی نگا ہ سے دیکھا جاتا ھے۔
    شاید میرے ساتھ کوئی متفق نہ ھوجائے۔مگر جہاں تک جانتا ہوں ۔جب انیسویں صدی میں سلطنت برطانیہ نے بر صغیر پر قبضہ جمایا۔تو کئی ایسے اقوام تھے۔جو انگریزوں کو اپنے تسلط جمانے کی راہ میں رکاوٹ بنے تھے۔ان میں ایک پشتوں قوم تھی۔جو ہر وقت انہوں کے انگریزوں کیخلاف بر سرپیکار تھے۔بے شک اکثر ان کے طرف دار تھے مگر دلی طورپر کبھی تسلیم نہیں کیے۔ان کے صد کاوشوں کے بعد آخر کار اپنی تاریخی اور آبائی منتر "بد سے بدنام برا"والی ترکیب اپنائی۔ہر جگہ پٹھانوں کو دیگرلوگوں کی نظر میں بے وقوف ثابت کرتے تھے۔انگریز کی یہ تصور وقتی طور سے اب تک چلتی آرہی ہے۔ذرا سوچئے کہ لفظ پھٹان کی اصل وجہ تسمیہ کیا ہے اور انگریزوں نے ہمیشہ کی طرح سازش کے تحت دیگر لوگوں کے نظر میں کیسے ثابت کیا ہے۔لہذا میڈیا ہو یا کوئی بھی فرد اس سازش کا حصہ نہ بنیں۔اوریہ بھی جاننا ضروری ہےکہ مزاق کی کثرت ہمیشہ نفرت میں بدل جاتی ہے۔ہمیں نفرت نہیں پھیلانا چاہیے اور خود کو ایک محب وطن اور محبت کرنے والے ثابت کریں۔ کیونکہ محبت ہی انسانیت کی خوبی ہے۔

    تحریر سید محمد یوسف یاسینزئی

    Reply
  • نومبر 30, 2015 at 12:43 AM
    Permalink

    شکریہ دوست کہ اپ نے جنگ ازادی کے ایک درخشاں ستارے پر قلم کشائی کی واقعی حان عبدالغفار حان (باچا حان) ایک عظیم لیڈر تھا جنہوں نے ہندوستان کی آزادی کیلئے بہت قربانی دی اور سن سے زیادہ سختیاں جھیلی اور قید کاٹی افعان فساد کے بارے میں باچا حان کا خدشہ درست تھا انہوں نے ویئل کرسی پر تمام صوبے کا دورہ کیا تھا لیکن ان پر روسی دہریہ کا لیبل لگایا گیا تھا وہ ہر جگہ یہ کہا کرتے تھے کہ یہ کفر اسلام کی جنگ نہیں یہ دو ہاتھیوں کے درمیان جنگ ھے اس میں حصہ مت بنو ورنہ تم کچل جاؤگے اج انکے مخالفین بھی انکے اس وقت کے بات سے متفق ھو چکے ھیں
    افعان فساد کی اپکی بہت اچھی عکاسی کی ھے ایک بار پھر شکریہ

    Reply
  • دسمبر 1, 2015 at 12:15 AM
    Permalink

    چھوٹی سی گزارش ہے کہ جب فرنود کا سہرا باچا خان، نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک امریکا و یورپ سے ہوتا دوبارہ پاکستان آجائے تو باچا خان پر کوئی متوازن تحریر، کچھ اعداد و شمار کی روشنی میں لکھ دیجیے، ایک جملے میں اگر کسی نے باچا کا باجا بجا دیا ہو تو آپ کی لفاظی باچا کو قباچہ نہیں بنا سکتی. بقیہ رہے ابوالکلام تو وہ واقعی ابوالکلام ہی تھے، جب تقسیم کا وقت قریب آیا تو ایویں کانگریس کی صدارت نہرو کو سونپ کر ابوالکلام نے جیسمین کی پیالی سے آخری چسکی لے کر پیالی مسلمانوں کے سر پر توڑ دی کیا بات ہے اس نابغہ وقت کی.

    Reply
  • دسمبر 1, 2015 at 12:44 AM
    Permalink

    Two Nation Theory is no more reliable

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *