سگار اور اسلامی نظام

jamil khanآج کل سگار کا چلن اتنا نہیں رہا، جب تھا تب بھی خواص ہی اس کا شغف رکھتے تھے۔ بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح سگار پیتے تھے۔ پیرپگارا مرحوم کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ سگار سے سگار سلگانے والے چین اسموکر تھے، خیر ان کی تو بہت سی باتیں منفرد تھیں، جیسے کہ وہ دن بھر میں اوسطاً تیس کپ کافی کے پی جاتے تھے۔ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو بھی سگار کا شوق رکھتے تھے۔ بھٹو کے دورِ اقتدار میں ایک موقع ایسا آیا کہ جب ان کے خلاف مذہبی قوتوں نے گھیرا تنگ کرتے کرتے انہیں اپنی مرضی کے مطابق چالیں چلنے پر مجبور کردیا تھا۔
بھٹو مرحوم کو اس وقت اپنی حکومت بچانے کے لیے مذہبی نوعیت کے بعض اقدامات مجبور ہونا پڑا۔مذہبی قوتوں کے دباو بہت شدید تھا، جسے فوج اور امریکا کی مکمل حمایت حاصل تھی اور جسے یقیناً کسی طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، لیکن اس وقت بھٹو کی کابینہ میں موجود مولانا کوثرنیازی بھی اس طرح کے اقدامات کے حق میں راہ ہموار کررہے تھے، بلکہ وہ تو اس زمانے میں اکثر جلسوں میں ببانگِ دہل کہا کرتے تھے کہ پیپلزپارٹی جلد ہی اسلامی نظام نافذ کردے گی۔ عام طور پر یہی خیال کیا جاتا ہے کہ اسلامی نظام کا شوشہ ضیا الحق نے جمہوری حکومت کو سبوتاژ کرنے کے بعد اپنی آمریت اور مطلق العنانی کی راہ ہموار کرنے کے لیے چھوڑا تھا، درحقیقت اس درفنطنی کا سہرا مولانا کوثر نیازی مرحوم کے سر جاتا ہے، جنہوں نے جمعہ شریف کی ہفتہ وار تعطیل، شراب اور جوئے پر پابندی کا مشورہ ذوالفقارعلی بھٹو کو دیا تھا۔
یہاں مولانا کے ’صائب‘مشورے کو درفنطنی ہم نے یوں قرار دیا ہے کہ کیا جمعہ کی تعطیل سے اسلام سربلند ہوگیا؟ اور کیا ہفتہ وار تعطیل کا تصور اسلام نے دیا تھا؟ مزید یہ کہ شراب پر پابندی آج بھی عائد ہے، لیکن زہریلی شراب پی کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں سال بہ سال اضافہ کیوں ہوتا چلا جارہا ہے۔
مولانا کا یہ ’صائب‘ مشورہ درفنطنی یوں بھی تھا کہ مولانا بذاتِ خود یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ اسلام کے ٹھیکے دار اسلام کی کسی ایک متفقہ تعبیر پر کبھی اکھٹے نہیں ہوں گے۔ اس حقیقت سے مولانا کی کماحقہ واقفیت ہی تھی کہ انہوں نے قومی اتحاد کے رہنماو¿ں کو چیلنج دیا تھا کہ یہ لوگ اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں، جبکہ خود ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ تاہم ایک اجتماع میں نورانی میاں کی امامت میں مفتی محمود نے نماز ادا کرلی، ان کی بڑی سبکی ہوئی لیکن انہوں نے ہار نہ مانی اور دوبارہ چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اب مفتی محمود کی امامت میں مولانا نورانی نماز ادا کریں تو چیلنج پورا ہو گا۔ شاید نورانی میاں بہ کراہت نماز ادا کر بھی لیتے لیکن اس کے بعد ان کی جماعت مارشل لا سے پہلے ہی کئی دھڑوں میں تقسیم ہوجاتی، چنانچہ قومی اتحاد کے بزرجمہروں نے بات اِدھر ادھر کردی اور نورانی میاں اس ’مکروہ‘ عمل سے بچ گئے۔
جس روز ذوالفقار علی بھٹو نے شراب اور جوئے پر پابندی کا اعلان کیا تو بی بی سی کی اردو سروس نے رات کے بلیٹن میں اس کی خبر دینے کے بعد کہا کہ ”جب مسٹر بھٹو شراب پر پابندی کا اعلان کررہے تھے، تو اس وقت وہ سگار پی رہے تھے۔“
اس ایک سطر کے ذومعنی جملے نے ملک بھر کے مذہبی طبقے کے لوگوں پر جس انداز سے اثر کیا، اس سے بھٹو مرحوم مذہبی طبقے کے ہیجان و خلجان کو دور کرنے کے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے، یہ ہیجان و خلجان یہ تھا کہ ’پیپلزپارٹی کی حکومت ملک میں مادرپدر آزاد معاشرہ قائم کرنا چاہتی ہے!‘ جسے جماعت اسلامی کے فطین دانشوروں نے نہایت ہشیاری کے ساتھ پیدا کر رکھا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میرے نانا کے اکثر ملنے جلنے والوں نے انہیں اپنی دانست میں اطلاع دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھٹو حکومت نے جو شراب پر پابندی کا اعلان کیا ہے، وہ محض دھوکہ ہے، جب وہ اس پابندی کا اعلان کررہے تھے تو اس وقت بھی سگار پی رہے تھے....استغفراللہ....!
نانا مرحوم نے دریافت کیا تھا کہ بھائی! آپ سگار کو کیا سمجھتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا محترم شراب کی قسم کی کوئی چیز ہوگی، جیسے بیئر وغیرہ.... نانا مرحوم نے سگار کی وضاحت کر دی لیکن اس کے باوجود ان لوگوں کی بے یقینی کی کیفیت برقرار رہی۔
یاد رہے کہ خودساختہ امیرالمو¿منین ضیا الحق بھی سگار سے شغف رکھتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ بحیثیت چیف آف آرمی اسٹاف ان کا سامنا پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے اچانک ہوگیا، اس وقت ضیا الحق سگار پی رہے تھے، بھٹو کی قدآور رعب دار شخصیت کو اچانک دیکھ کر وہ ب±ری طرح گھبراگئے اور ہڑبڑاہٹ میں انہوں نے جلتا ہوا سگار اپنے کوٹ کی جیب میں رکھ لیا۔ بھٹو نے مستقبل کے امیرالمو¿مین کی جیب سے دھواں برآمد ہوتا دیکھ لیا تھا، انہوں نے ضیا الحق کے سلام کا جواب دیا اور مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔
ہمارے خیال میں یہ دھواں حسد اور کینہ پروری سے سلگتی ہوئی کمینگی کی گیلی لکڑیوں کا تھا، جو جیب سے نہیں کہیں اور سے برآمد ہورہا تھا۔

سگار اور اسلامی نظام” پر بصرے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *