بولتی کار

google carگوگل کی خود ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیاں اب تک دس لاکھ میل تک چلائی جاچکی ہیں مگر اب تو یہ ' راہ گیروں' سے بات چیت کے لیے بھی تیار ہیں۔ گوگل کی اس ایجاد میں اب تک سڑک پر موجود دیگر ڈرائیورز اور راہ گیروں کے حوالے سے پیچیدہ ایکشن ہی سامنے آئے تھے مگر اب یہ کمپنی اس کو آسان بنانے والی ہے۔ گوگل نے حال ہی میں ایک پیٹنٹ رجسٹر کرایا ہے جو راہ گیروں کے لیے ان گاڑیوں کی حرکات سمجھنا آسان بنا دے گا۔ اس پیٹنٹ کے مطابق ان خودکار گاڑیوں میں ایک ایسا نظام نصب کیا جائے گا جو سڑک عبور کرنے والے مقامات پر گزرنے والے افراد کے لیے پیغامات ڈسپلے کرے گا۔ ان الرٹس میں الیکٹرونکس سائن، لائٹس، آڈیو نوٹیفکیشن یا روبوٹک ہاتھ ہوسکتے ہیں جو راہ گیروں کو گاڑی کی رفتار سے آگاہ کریں گے۔

گوگل پہلے ہی اعتراف کرچکا ہے کہ عام گاڑیوں کے مقابلے میں اس کی خودکار گاڑیوں کی راہ گیروں سے رابطے کی صلاحیت بہت کم ہے تاہم اب سنگل ڈیوائسز کے ذریعے اسے آسان بنایا جائے گا۔ ویسے ایک پیٹنٹ رجسٹر کرانا کسی ٹیکنالوجی کو عملی طور پر استعمال کرنے کی ضمانت تو نہیں ہوتا مگر اس سے یہ اشارے ضرور مل جاتے ہیں کہ گوگل اپنی ان گاڑیوں کو روزمرہ کے حقائق کے قریب لانے کے لیے کیا کچھ سوچ رہا ہے۔

بولتی کار” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *