داعش اور مغرب

ترجمہ : عامر شفیق مغل

amir mughalفرانس میں ہونے والے حالیہ پیرس حملوں کے بعد فرانسیسی صدر فرنکوئس اولیندے نے داعش کے خلاف سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسکا جواب بڑی بے رحمی سے دیا جایا جائے گا۔ گویا یہ داعش کے خلاف ایک کھلا اعلان جنگ ہے. لیکن اصل صورتحال کافی پیچیدہ ہے کہ محض اس طرح کے جوابی رد عمل میں فضائی بمباری سے معصوم شہریوں کو مارنے سے جوابا داعش کو ”نوبل فائیٹر“ کا خاص امیج حاصل ہو گا۔ اسی منصفانہ امیج کے حصول سے اس مقصد کی تکمیل ہوتی ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے داعش نے پیرس میں یہ قتل عام کیا تھا، اور یوں فرانسیسی صدر نا دانستگی میں داعش کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ اصل میں مغرب کو چاہیئے کہ پہلے سے جنگ سے متاثرہ معصوم شہریوں پر بمباری کرنے کی بجائے ایک پائیدار ردعمل دکھائے جیسے شام ۔ ترکی بارڈر پر سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ ترکی اس وقت داعش کے لئے ایک اڈے کی حیثیت رکھتا ہے۔
تاریخ کا پہیہ گھمائیں تو نظر آتا ہے اکثرمسلم اکثریتی ریاستیں کبھی مغرب کی نوآبادیات ہوا کرتی تھیں۔ مغرب نے جاتے جاتے ان نو آبادیات میں عدم استحکام کے بیج بوئے یہاں تک نہیں بلکہ ہم نے مشرق وسطی اور دیگر مسلمان ممالک میں اپنے مفادات کے لئے عوام کی بجائے وہاں کے آمر حکمرانوں کی حمایت کی.... مختصراً اس صورتحال کو پیدا کرنے میں مغرب کا ایک اہم کردار ہے اور اب یہ صرف ”مڈل ایسٹ پرابلم“ نہیں ہے، داعش اب مغرب کا بھی مسئلہ ہے۔ یہی وہ مغربی لیڈر ہیں جو ’آزادی اظہار ‘ کی حمایت میں چارلی ہیبڈو حملوں کے بعد پیرس کی سڑکوں پر مارچ کرتے ہیں اور یہی وہ مغربی لیڈر ہیں جو مسلم ممالک میں انہی آمرانہ قوتوں کو سپورٹ کرتے ہیں جو تباہ کن نتائج کے ساتھ ’آزادی اظہار ‘ کو سختی سے کچل رہی ہیں۔
مغرب کے اس (منافقانہ) رویے کی سب سے بڑی مثال سعودی عرب ہے۔ حقوق انسانی سے متعلق بدترین ریکارڈ یافتہ حکومتوں میں سے ایک سعودی حکومت ہے جس کو 1970ءسے مغرب کی مڈل ایسٹ خارجہ پالیسی میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اٹھارویں صدی میں مغرب کی چھتری تلے جزیرہ نمائے عرب میں پرورش پانے والا ”وہابی ازم“ ایک ایسی مذہبی و سیاسی اور قدامت کی دعویدار تحریک تھی جس نے ایک طرف تو خلافت عثمانیہ کو جزیرہ العرب سے ایک بغاوت کے نتیجے میں باہر نکال دیا اور دوسری طرف مسلمانوں کے دوسرے مسالک بالخصوص اہل تشیع اور اہل تصوف کو کم از کم درجے پر اہل بدعت قرار دے دیا۔
آگے ایک موڑ آتا ہے جب ایران میں شیعہ مذہبی انقلاب رونما ہوا۔ انقلاب ایران کے بعد سعودی عرب کو ایک مذہبی و سیاسی حریف کا سامنا کرنا تھا۔ شیعہ مسلک کے اس انقلابی اثر کو زائل کرنے کے لئے تیل کی آمدن سے مالا مال سعودی حکومت نے وہابی ازم کی ترویج کے لئے نت نئی مساجد کی تعمیر، اسلامک سنٹرز، مدارس اور چیرٹی کا دیگر ممالک میں فنڈنگ کا ایک بھر پور جال بچھایا۔ اس مسلسل سعی کے نتیجے میں اب ریڈیکل وہابی ازم کی ایک نمائندہ مسلمان نسل تیار ہو چکی ہے۔ یہ نسل صرف اردن و پاکستان نہیں بلکہ یورپ و امریکہ میں بھی موجود ہے۔
انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں سعودی وہابی ازم نے ریاستی سطح پر شیعہ مسلک اور صوفیانہ طرز فکر کے حاملین کے خلاف پرتشدد عسکری آپریشن کیئے جو 1930ءتک کسی نہ کسی شکل میں جاری رہے۔ 1930 کے بعد وہابی ازم ایک مذہبی قدامت پسند تبلیغی تحریک کی شکل اختیار کر گئی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ آج کے وہابی ازم کے دعویدار داعشی لیڈر سابقہ وہابی ازم کی دعویدار سعودی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیئے اتنے ہی بے چین ہیں جتنا کسی زمانے میں اسامہ بن لادن ہوا کرتا تھا۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ سعودی عرب کے مفتی اعظم کے داعش کے خلاف سخت مذمتی بیانات کے باوجود سعودی شاہی خاندان کے بعض افراد اب بھی مذہبی بنیادوں پر داعش کی حمایت کرتے ہیں۔
2013ءمیں یورپین یونین کے ایک اعلامیہ میں کہا گیا کہ وہابی ازم عالمی دہشت گردی کے فروغ کا ایک بہت بڑا منبع ہے۔ یہ بات بہت حد تک درست ہے کیونکہ وہابی ویژن کی تنگ نظری شدت پسندی کو زرخیز مٹی فراہم کرتی ہے۔ لیکن آئیے دوسرا رخ بھی دیکھتے ہیں کہ اس زرخیر مٹی کو کھاد کہاں سے مل رہی ہے۔ صدر اولیندے سمیت مغرب کو یہ بات سمجھ لینی چاہئیے کہ محض شام میں بمباری سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا جب تک بنیادی پالیسی تبدیل نہیں ہو گی۔ یہ بمباری تو اسلامی شدت پسندی کے لئے مزید ایندھن کا کام کرتی ہے۔ یہ واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ فرانس اپنی مسلم کمیونٹی کو اپنے اندرضم نہیں کر پا رہا۔ چارلی ہیبڈو اور 13 نومبر کے حملوں کے مجرم پیرس کے ان مضافات سے تعلق رکھتے ہیں جو نہ صرف فرانس کی طبقاتی اور مذہبی تقسیم کا مظہر ہیں بلکہ الجیریا اور مالی کا پس منظر بھی رکھتے ہیں جو فرانس کی نوآبادیاتی غلامی کے خطّے تھے۔ 9/11 کے حملوں کے منصوبہ کاروں کے جب نفسیاتی تجزیے کئے گئے تو یہ معلوم ہوا کہ حملہ کاروں کے ذہن میں صرف مذہب سب سے بڑا محرک نہیں تھا۔ مغربی معاشرے میں اکثر مسلمان نوجوانوں کے ساتھ برتا جانے والا ذہنی تنہائی کا حامل سلوک، انکے اندر ابھرتا ہوا احساس کہ وہ اس معاشرے میں غیر اہم ہیں، جو وہ مذہبی شناخت کے طور نہیں کرنا چاہتے اس پر مغربی معاشرتی استہزا کا دباو¿، الگ تھلگ شہروں کے مضافات میں رہنے سے معاشرتی دھارے سے کٹ کے رہنے اور بے گانگی کا احساس.... یہ بہت اہم نفسیاتی محرک ہیں جو ان مغربی مسلمان نوجوانوں کو اسلامی شدت پسندی کی طرف مائل کر رہے ہیں.... وہ ایک ایسی کمیونٹی کے خواب دیکھتے ہیں جہاں سب ان جیسے برابرہیں، جہاں ان کے پاس سیاسی و عسکری طاقت ہے اور ایسی بہادرانہ موت جس میں زندگی کی معنویت جھلکتی ہے۔
مغرب کو یہ بات سمجھنی چاہئیے کہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر خود مسلم کمیونٹی ہے۔ محض یہ سمجھتے رہنا کہ ہم ہی سچے اور اعلیٰ اخلاقی سطح پر فائز ہیں مغرب کا اس سمت اٹھایا ہوا ہر قدم بے فائدہ ہو گا۔ داعش نے جتنے مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے، غیر مسلم بالخصوص مغرب اس لحاظ بہت محفوظ ہیں۔ ان لاکھوں مسلمان جانوں کی حفاظت میں بھی مغرب کو اتنی ہی حساسیت دکھانی چاہئیے تھی جتنی پیرس حملوں میں ایک سو سے زائد جانوں کے بارے میں دکھائی گئی ہے۔ حتیٰ کہ مغربی میڈیا کی کوریج میں بھی شام و عراق، پاکستان، افغانستان، نائجریا کے بارے میں بے دلی کے جذبات نظر آتے ہیں۔ یورپ میں پناہ کی تلاش میں آنے والے متاثرین تواس دہشت زدہ اورخوفناک فضا کا ہر لمحے تجربہ کرتے رہے ہیں جو اہل پیرس کو چند گھنٹوں میں ہوا۔ زیادہ دور نہیں جاتے پیرس حملوں سے محض ایک دن پہلے بیروت میں ہونے والے یم دھماکوں پرمغربی رد عمل کتنا روایتی تھا۔
مغرب کی یہ لاپرواہی یا شاید غفلت مسلمان دنیا کے سامنے ہے اور یہ ان کے نوٹس میں ہے۔ عراق اور افغانستان میں عسکری مداخلت نے ثابت کر دیا کہ کوئی بھی جنگ وہاں کی عوام کی حساس معاشرتی و مذہبی اقدار کے احترام کئے بغیر نہیں جیتی جا سکتی۔ داعش عراق جنگ کی پروڈکٹ ہے اور عراق پر جنگ مغرب کی مسلط کردہ تھی۔ انسانیت کے لئے اس خطرناک صورتحال کو پیدا کرنے میں مغربی اقوام کا اپنا ایک کردار ہے جسکی وہ ذمہ دار ہے۔ مغرب اپنی چند لاشوں پر جتنا مرضی ماتم کرلے مگراپنے اس حرکت سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا جس کا وہ ذمہ دار ہے. مغرب کو آج تیسری دنیا کے لوگوں لوگوں کے اس الزام کا جواب دینا ہی ہے کہمغرب نے عالمہ سطح پر ایک ایسی درجہ بندی قائم کر رکھی ہے جس میں کچھ انسانی جانوں کو قیمتی اور کچھ کو بے وقعت سمجھا جاتا ہے۔

یہ ترجمہ و تلخیص مشہور مصنفہ کیرن آرمسٹرانگ کے ایک مضمون کا ہے جو 26 نومبر 2015 کو Statesman New نامی جریدے میں شائع ہوا۔ (لفظی ترجمے کی نسبت مضمون کا مرکزی خیال پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے)

داعش اور مغرب” پر ایک تبصرہ

  • دسمبر 1, 2015 at 9:39 PM
    Permalink

    کیرن آرمسڑونگ اپنے متوازن، غیر جذباتی اور منطقی طرز تحریر کے لئے جانی جاتی ہیں۔ بہت خوبصورت تحریر ہے اور ترجمہ بھی خوب ہے۔ کیرن کی کتاب Jerusalem: One City, Three Faiths نے مجھ پہ انمٹ نقوش چھوڑے

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *