قومی شناخت بمقابلہ مذہبی شناخت

Najam Sethiپی ایم ایل (ن) کے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے بڑے جذباتی انداز میں کہا ہے کہ وہ پاکستانی شہریت سے زیادہ اپنی ’’اسلامی شناخت‘‘ کو اہمیت دیتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے خود کو ’’مسلمان پہلے اور محب ِ وطن پاکستانی بعد میں‘‘ قرار دیا۔ وزیرداخلہ دراصل بنگلہ دیش میں حسینہ واجد حکومت کی طرف سے ’’1971ء کی جنگ کے دوران پاکستان کے جنگی جرائم‘‘ کی پاداش میں بنگلہ دیش کی جماعت ِ اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملّا کو پھانسی دینے کی مذمت کررہے تھے۔ چوہدری نثار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا اُنھوں نے اپنی کابینہ کے وزراء کو قائل کرنے کی پوری کوشش کی ہے کہ وہ بنگلہ دیشی حکومت کو سرکاری طور پر اپنے ’’اسلامی جذبات‘‘ سے آگاہ کریں لیکن افسوس، اُن کو مطلوبہ تعاون نہ مل سکا اور دفترخارجہ نے اسے ’’بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ‘‘ قرار دے کر بات ٹال دی۔ اُنھوں نے شیخ رشید احمد اور جاوید ہاشمی، جو پہلے ان کے ساتھ نواز لیگ میں تھے لیکن اب وہ اپوزیشن کے رہنما ہیں، کی پارلیمینٹ میں کی جانے والی تقاریر کے ذریعے ہیجان برپا کرنے کی کوشش کی اور عبدالقادر ملّا کی پھانسی کی مذمت میں ایک قرارداد لے آئے تاہم پی پی پی اور ایم کیو ایم کا شکریہ کہ اُنھوں نے اس کی مخالفت کی۔
اس معاملے کو بادی النظر میں دیکھا جائے تو بہت سے پاکستانی چوہدری نثار سے اتفاق کریں گے کہ اُن کی اسلامی شناخت پہلے آتی ہے اور پاکستانی شناخت بعد میں۔ کئے گئے ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستانی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سے جب یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ وہ کون ہیں تو ان کا جواب یہ نہیں ہوتا کہ ’’میں ایک پاکستانی ہوں‘‘ بلکہ وہ کہتے ہیں ’’میں ایک مسلمان ہوں‘‘تاہم دنیا کے دیگر خطوں میں رہنے والے مسلمانوں کی سوچ قدرے مختلف ہے، وہ اپنے مذہب پر اپنی قومی شناخت کو ترجیح دیتے ہیں۔ سعودی عرب، عرب امارات، کویت، ایران، عراق، فلسطین، ملائیشیا وغیرہ میں رہنے والے مسلمان پہلے اپنی قومی شناخت کا اظہار کریں گے اور اُنہیں اس پر ناز بھی ہو گا۔ غیر مسلم ممالک، جیسا کہ چین، میں رہنے والے مسلمان خود کو پہلے اُس ملک کے شہری ظاہر کریں گے اور مسلمان بعد میں۔ بھارت میں رہنے والا ایک مسلمان خود کو ’’انڈین‘‘ پہلے کہے گا اور مسلمان بعد میں...پوری دنیا میں ایسا ہی ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم پاکستانیوں کی سوچ دیگر ممالک میں رہنے والے مسلمانوں سے مختلف کیوں ہے اور یہ کہ اس سوچ کے ہماری ریاست اور سوسائٹی پر کیسے اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
اس مسئلے کی جڑیں دراصل تقسیم ِ ہند اور اس سے پہلے چلنے والی تحریک ِ پاکستان کے نظریات میں گڑی ہوئی ہیں۔ تحریک ِ پاکستان کے رہنمائوں جن مین محمد علی جناح بھی شامل تھے، نے جان بوجھ کر اسلامی جذبات کو ابھارا اور مسلمانوں کو اس بات پر قائل کیا کہ ہندو اکثریت کے ملک ہندوستان، میں ان کے مذہبی تصورات، ثقافت، سیاسی شناخت اور معاشی مفادات خطرے میں ہیں۔ برصغیر کے اُن معروضی حالات میں یہ نعرہ کام دے گیا اور مسلمان مسلم لیگ کے پرچم تلے ایک الگ ریاست کے حصول کیلئے کمر بستہ ہوگئے۔ بدقسمتی سے قیام ِ پاکستان کے بعد بھی اس نئی ریاست کے سیاسی رہنمائوں نے سیاسی مقاصد کے لئے اسی ’’اسلامی شناخت‘‘ کا سہارا استعمال کرنا روا رکھا۔ اُنہوں نے اپنے ذاتی مقاصد کی بجا آوری کے لئے سیکولر جمہوری اقدار کے بجائے ’’اسلامی نظرئیے‘‘ کی آبیاری کی اور اُس کو اس طرح پروان چڑھایا کہ پاکستانیت نظروں سے اوجھل ہوتی گئی چنانچہ قوم کو باور کرایا گیا کہ ’’ہندو انڈیا‘‘ پاکستان کا دشمن ہے اور وہ اسے تباہ کرنا چاہتا ہے ۔ مذہب کی بنیاد پر جنم لینے والی اس قوم پر فرقہ واریت اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کے دروازے کھلتے چلے گئے چنانچہ آج یہ قوم داخلی انتشار کا شکار ہے۔
قوم سازی کے عمل کا یہی کھوکھلا پن تھا جس کی وجہ سے جمہوری حقوق کی بات کرنے والے بنگالیوں نے اپنی راہیں جدا کرلیں اور پھر 1971ء میں بنگلہ دیش وجود میں آگیا تاہم اس کے بعد بھی باقی ماندہ پاکستان علاقائی اور نسلی چپقلش کا شکار رہا۔ سقوط ِ ڈھاکہ کے دو سال بعد بلوچستان میں بھی ویسے ہی حالات پیدا ہوگئے اور پختونستان کی بازگشت بھی سنائی دینے لگی۔ دیگر اسلامی دنیا کے برعکس پاکستان میں مذہبی شناخت کو قومی شناخت پر ترجیح دینے کا دوسرا نقصان یہ ہوا کہ ریاستی اور غیرریاستی عناصر کی طرف سے تشدد کے لئے مختلف نظریاتی جواز تراشے جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مذہبی عقائد جذباتی شدت پیدا کرتے ہوئے افہام و تفہیم کا راستہ بند کردیتے ہیں جبکہ اس کے برعکس، سیاسی تصورات لچک دار ہوتے ہیں اور وہ اقوام کو وسیع تر منظر نامہ تشکیل دینے کے قابل بناتے ہیں چنانچہ معاشرے کی تمام تر اکائیاں سیاسی لچک کے حامل دھارے میں شامل ہوجاتی ہیں۔ اس کے برعکس مذہبی قدروں پر مفاہمت کی گنجائش نہیں ہوتی ہے۔ اس غیر لچک دار سوچ کی وجہ سے جہاں مذہبی بنیادوں پر دہشت گردی اور تشدد کی راہ ہموار ہوئی، وہیں نسلی اور لسانی گروہوں کی طرف سے مرکز سے علیحدگی اختیار کرنے کی روش بھی زور پکڑنے لگی۔ شناخت کو اسلامائز کرنے کا تیسرا نقصان یہ ہوا کہ ریاست ِ پاکستان کو ہمیشہ کے لئے انڈیا کے خلاف سمجھا گیا حالانکہ انڈیا مذہبی شناخت نہیں ہے۔ انڈیا میں رہنے والے مسلمان بھی خود کو انڈین کہتے ہیں۔ اس دائرے کو وسیع تر کرتے ہوئے ہم پوری دنیا، جو مسلمان نہیں تھی، کو اپنا دشمن سمجھنے لگے۔ یہ بات ہونے لگی کہ تمام طاقتیں پاکستان، جو کہ اسلامی نظریاتی ملک ہے، کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ اس خوف کی وجہ سے یہ ریاست ایک سیاسی اور فلاحی مملکت بننے کے بجائے ایک سیکورٹی ریاست بن گئی چنانچہ دفاعی اداروں کے سول اداروں پر تسلط اور بالادستی کو روا سمجھا گیا اور گاہے بگاہے اس کا جواز بھی نکلنا شروع ہو گیا کہ... اسلام خطرے میں ہے۔
اس پس منظر میں چوہدری نثار علی خان کے جذبات قطعی طور پر غیر ضروری بلکہ پاکستان کے مفادات کے لئے خطرناک ہیں۔ درحقیقت وہ نظریاتی طور پر فوج کے ’’غیر سرکاری ترجمانوں‘‘ شیخ رشید اور جاوید ہاشمی، کے ہم خیال ہیں۔ وہ تاریخ کے اس دور میں مذہبی جذبات کو ابھارنے کی کوشش کررہے ہیں جب ان کے لیڈر نواز شریف مذہب کو سیاست سے الگ کرتے ہوئے اپنے ہمسایوں ،خاص طور پر بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کی سعی کررہے ہیں۔اس طرح وہ ’’نظریاتی قوتوں‘‘ کے مقابلے میں جمہوری قوتوں کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بنگلہ دیش کی حکمران جماعت محض سیاسی مفاد کے لئے قوم پرستی کے جذبات کو ہوا دے رہی ہے تاہم یہ ان کا داخلی مسئلۂ ہے۔ چوہدری نثاراور ان کے ’’ہم خیال‘‘ گروہ سیاسی اور اخلاقی بنیادوں پر غلطی کا ارتکاب کررہے ہیں کیونکہ وہ 1971ء کے دور کی مذہبی عصبیت کو اجاگر کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ یقیناً اس وقت پاکستان سے بہت سے غلطیاں ہوئی تھیں اور اب ان کا اعادہ کرنا دانشمندی نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *