ملٹری پولیس پر حملے کے شک میں دو افراد گرفتار

miltaryتبت سینٹر کے ملٹری پولیس کی جیپ پر حملے میں تفتیش میں پیش رفت ، حساس اداروں نے دو افراد کو حراست میں لے لیا ، پریڈی تھانے میں عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کرلئے گئے۔ ڈی آئی جی ساﺅتھ کا کہنا ہے کہ حملے میں بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم اور مقامی تنظیموں کے عسکری ونگ ملوث ہوسکتے ہیں۔ کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر تبت سینٹر کے قریب ملٹری پولیس کی جیپ پر فائرنگ کی تفتیش میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ حساس اداروں نے کینٹ سٹیشن کے قریب چھاپہ مار کر دو افراد کو حراست میں لے لیا۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق ایم اے جناح روڈ پر 17 سو سموں کی جیو فینسنگ کرائی گئی ہے۔ دہشت گردوں کو گروپ اندرون سندھ سے آپریٹ کر رہا ہے۔ فوجیوں پر حملے بی ایل اے اور کالعدم ٹی ٹی پی کی کارروائی ہے۔ ڈی آئی جی ساﺅتھ ڈاکٹر جمیل کی پریڈی تھانے میں موجودگی میں عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کرلئے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ عینی شاہدین کی مدد سے ملزمان کے آنے اور جانے کے راستوں کا تعین کرلیا گیا ہے۔ حملے میں بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم اور مقامی تنظیموں کے عسکری ونگ ملوث ہوسکتے ہیں۔ پولیس اور رینجرز نے گزشتہ رات متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔ جائے وقوعہ کے اطراف سرچ آپریشن بھی کیا گیا ہے۔ حراست میں لئے گئے افراد سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ پڑتال جاری ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *