خوف میں مبتلا نئی شامی نسل

SP Ruerterبچوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے فنڈ یونیسیف کے تخمینے کے مطابق شام میں تقریباً پانچ سال قبل شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے کم از کم 20 لاکھ شامی بچوں کو تعلیم کا سلسلہ منقطع کرنا پڑا ہے۔ یونیسیف کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک میں جاری تشدد کی لہر مزید 40 ہزار بچوں کو سکول چھوڑنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ بیرل بموں، فضائی حملوں اور عام تشدد نے لاکھوں کی تعداد میں شامی باشندوں کو اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا ہے اور زیادہ تر شامی لبنان، ترکی اور مغربی یورپ میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں اور اس عمل میں روز بروز تیزی آ رہی ہے۔ ایک شوقیہ کیمرہ مین نے دمشق کے نواحی علاقے دوما میں ایک بیرل بم سے مچنے والی تباہی کے مناظر فلمائے۔ اس فلم بندی کے دوران انھوں نے 50 کے لگ بھگ عمر کے ایک شخص کا پیچھا کیا جو ٹوٹی ہوئی عمارت کو دیکھتے ہوئے صدمے سے چلا رہا تھا۔ انھوں نےکہا ’میری بیٹی یہاں تھی۔ وہ یہاں پڑھ رہی تھی۔ میرے بچے یہاں تھے۔‘

Syrian EPAپھر اُسی علاقے میں ایک اور فضائی حملہ ہوتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ جس کے بعد نہ ہم اُس شخص کو دیکھ سکے اور نہ ہی اُن کی آواز مزید سُنائی دی۔ وہ بھی حملے میں ہلاک ہونے والے اپنے بچوں میں شامل ہوگئے تھے۔ اسی نواحی علاقے میں کچھ روز قبل ایک بازار پر، جہاں بہت سے مقامی افراد کھانے کا سامان خریدتے ہیں، بیرل بم پھینکا گیا۔ فوٹیج میں ہمیں وقوعے کے بعد کے مناظر دکھائی دے رہے ہیں۔ کیمرہ ہمیں ایک ہسپتال میں لے جاتا ہے جہاں ایک بچی دکھائی دیتی ہے جس کے کپڑوں پر سفید دُھول کے ساتھ سُرخ لکیریں بھی نظر آرہی ہیں جو اُس کے چہرے سے ٹپکتے خون کے باعث بن رہی ہیں۔ اُس کی عمر سات سال کے لگ بھگ ہے لیکن اپنے بہن بھائیوں کی فکر کرنے کے لیے وہ کافی بڑی ہے۔ اُس نے کہا ’میں ٹھیک ہوں، میں ٹھیک ہوں، میرے بھائیوں اور بہنوں کو باہر نکالو، وہ اب بھی ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں۔‘

syrian1یہ وہ مناظر ہیں جو شام میں عام نظر آتے رہتے ہیں جہاں موت معمول کی بات ہے اور اسی وجہ سے یہاں کے لوگ فرار ہوکر یورپ پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو سمندر میں ڈوبنے کے خطرے سے اس لیے دوچار کررہے ہیں کیوں کہ اُن کے لیے پانی اُس زمین سے زیادہ محفوظ ہے جہاں سے وہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ ان بچوں کے بہتر مستقبل کی اُمید میں وہ یورپ کا انتخاب کر رہے ہیں اور یہ اُن کے لیے خوف سے آزاد دنیا میں زندگی گزارنے کا ایک موقع ہے۔ اور سب سے اہم یہ کہ وہ اپنے بچوں کو دوبارہ سکول بھیجنا چاہتے ہیں۔ جنگ کی وجہ سے اپنے سکولوں کو چھوڑنے والے 20 لاکھ بچوں کا تعلق ایک ایسی نسل سے ہے جو خوف و ہراس میں مبتلا ہے۔ یورپ پہنچنے والے شامی پناہ گزین اُس حیرت انگیز تعداد کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہیں جو وہاں جنگ سے متاثر ہوئے ہیں۔

تصور کریں اگر لندن میں موجود تمام لوگوں کو اپنے گھر گنوانا پڑتے۔ تقریباً اتنی ہی تعداد میں شامی باشندے ہیں جو بے گھر ہوئے اور حکومتی بمباری کی وجہ سے انھیں اپنے گھر چھوڑنا پڑے۔ اُن میں سے زیادہ تر اب بھی اردن، لبنان اور ترکی کے خیموں اور پناہ گزین کیمپوں میں زندگیاں گزار رہے ہیں۔ اِن میں سے آدھی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ اُنھیں شاید تب تک یہاں رہنا پڑے جب تک اُن کے پاس اُس سمگلر کو دینے کے لیے ہزاروں ڈالر کی رقم نہیں جمع ہو پاتی جو انھیں یورپ پہنچنے میں مدد کر سکے۔ زیادہ تر شامی باشندے حکومتی سفاکی کے باعث فرار ہورہے ہیں جبکہ مغرب کی توجہ بالخصوص حال ہی میں ہونے والے پیرس حملوں کے بعد سے نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو نشانہ بنانے پر مرکوز ہے۔ لیکن حقوقِ انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومتی فوج اور اُن کے روسی اتحادیوں کے بیرل بموں اور فضائی حملوں کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اُن کا اصرار ہے کہ دولتِ اسلامیہ کی نسبت حکومتی حملوں کے باعث زیادہ بڑی تعداد میں عام افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

syrianتقریباً پانچ سال قبل شام میں حکومتی فوجوں نے سڑکوں پر تبدیلی، آزادی اور جمہوریت کے حق میں نکلنے والے پُرامن مظاہرین پر گولیاں برسانا شروع کردیں تھیں جس کی وجہ سے شام میں صورتحال خراب ہوکر خانہ جنگی میں تبدیل ہوگئی۔ آج شام کے حالات بہت سے لوگوں کی سوچ سے بڑھ کر خراب ہیں۔ باشندے چاہے وہ یورپ پہنچ چکے ہوں یا ابھی بھی یہیں موجود ہوں سب میں مایوسی اور کرب کا احساس شدت کے ساتھ موجود ہے۔ کافی لوگوں کا خیال ہے کہ شامی لوگوں اور بچوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک پُرامن زندگی گزاریں اور اُنھیں تعلیم تک رسائی دی جائے اور اُن کے نزدیک انھیں یورپ آنے سے روکنے اور اپنے گھروں میں رہنے کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ جنگ کا خاتمہ ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *