اردگان کی دولت اسلامیہ کے ساتھ تیل کی تجارت کے سیٹلائٹ ثبوت

Russia reutersروس کی وزارت دفاع نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے خاندان پر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ساتھ تجارت میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ روسی نائب وزیردفاع انتولی انتونوف نے کہا ہے کہ ترکی شام اور عراق سے ’چوری شدہ‘ تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ ترک صدر اردوغان نے سمگلنگ کا دعویٰ ثابت ہونے پر عہدے سے مستعفی ہونے کا وعدہ کیا تھا۔ خیال رہے کہ گذشتہ ماہ ترکی کی جانب سے روسی جنگی جہاز کو مار گرانے جانے کے بعد سے دونوں ممالک میں شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ روسی صدر ولادی میر پوتن اس سے قبل انقرہ پر تیل کی فراہمی کے راستوں کے تحفظ کے لیے روسی جہاز مار گرانے کا الزام عائد کر چکے ہیں۔ بدھ کو ماسکو میں انتولی انتونوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ’دستیاب اطلاعات کے مطابق ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی قیادت، صدر اردوغان اور ان کا خاندان اس مجرمانہ کاروبار میں شامل ہیں۔‘ انھوں نے کہا: ’ترک قیادت نے انتہائی مایوسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ دیکھیں وہ کیا کر رہے ہیں۔‘ ’انھوں نے ایک دوسرے ملک کی زمین پر حملہ کیا اور دیدہ دلیری سے اسے لوٹ رہے ہیں۔‘ روسی وزارت دفاع نے سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ان سے دکھائی دیتا ہے کہ تیل کے ٹینکر ’دولت اسلامیہ‘ کے علاقے سے ترکی کی جانب جا رہے ہیں۔

Erodgan AFPاس کا کہنا ہے کہ ٹرک ترکی میں ریفائنریوں سمیت تین مقامات کی جانب سفر کر رہے تھے اور پھر وہ ایک تیسرے ملک کی جانب چلے گئے۔ روس کا کہنا ہے کہ ابھی وہ صرف ’ثبوت کا کچھ حصہ‘ فراہم کر رہا ہے اور صدر اردوغان اور خاندان کے بارے میں دعوے کے براہ راست ثبوت فراہم نہیں کیے۔ اس سے قبل پیر کو صدر اردوغان نے روسی صدر کو کہا تھا کہ وہ اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے ثبوت فراہم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ سچ ثابت ہوا تو وہ عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *