امریکا ہمارے سامنے سرنڈر کردے!

jamil khanکل امریکا میں ہوئے حملے کے حوالے سے بہت سے دوستوں نے برقیاتی پیغامات ارسال فرمائے کہ آپ نے اس پر تاحال کچھ تحریر نہیں کیا۔ ہم نے ان سے عرض کیا کہ بھائیو اور عمران خان کی بہنو! ذرا دو گھڑی دم تو لینے دو، کچھ تفصیلات وغیرہ سامنے آجائیں تو پھر اس پر بات کی جائے گی۔
سچ پوچھیے تو امریکا کا توجمن چھابڑی والے کی طرح ہمیشہ سے ہی یہی کام رہا ہے کہ اپنا نقصان کرکے دوسروں کے سر ڈال دیتا ہے۔ جمن چھابڑی والے کی بھی اب کیا کہیں! اب تو چہار دانگ عالم میں ان کے ڈنکے گونج رہے ہیں۔
وہ سر شام کلفٹن کے کسی بھی سگنل پر کسی آڑ میں چھپ کر کھڑے تاڑتے رہتے ہیں اور سگنل پر آکر رکنے والی کسی موٹرسائیکل یا کار سے انتہائی مہارت کے ساتھ یوں ٹکرا جاتے ہیں، کہ ان کی چھابڑی میں رکھے فالسے،بیر یا پھر ابلے ہوئے کالے چنے سڑک پر بکھر جاتے ہیں۔ اس حادثے کے ساتھ ہی وہ کار یا موٹرسائیکل سوار کو دہائیاں دینے لگتے ہیں کہ ان کے درجن بھر بچے کل سے بھوکے ہیں، (اب ٹریفک کی بھیڑ میں کس کے پاس فرصت ہے کہ جمن کے بچوں کی بھوک کی نوعیت کی تحقیق کرے؟ اس لیے کہ شہر کے بہت سے ہوٹلوں پر جہاں غریبوں کو مفت کھانا کھلایا جاتا ہے، وہاں جمن اور اس کی قبیل کے بہت سے لوگوں کا پورا کا پورا کنبہ روزانہ ایسے مرغن کھانے کھاتا ہے جن کے اشتہا انگیز ذائقے سے محنت کش مزدوروں کی بھاری اکثریت محروم ہی رہتی ہے۔ جمن کے بچوں کی بھوک کس قسم کی ہے؟ اس بارے میں ہمارے ہمدمِ دیرینہ نون کا کہنا ہے کہ اس کے بڑے لڑکے کے موبائل پر جمن کے باقی لڑکے گلی کے نکڑ پر گھیرا بنا کر پورن وڈیوز دیکھتے ہیں).... قصہ مختصر، جمن کی دہائیاں، مسکین صورت اور پھٹے پرانے لباس کو دیکھ کر اکثر کار والے پانچ سو تو بعض بائیک والے سو پچاس روپے تک دے جاتے ہیں۔
لیکن ہر مرتبہ ایسا نہیں ہوتا، دنیا کا اصول بھی ہے کہ پاک پروردگار سخت جانفشانی کے بعد رزق عطا کرتا ہے، کئی کار والے دھتکار دیتے ہیں اور بہت سے موٹرسائیکل سوار تھپڑ بھی جڑ دیتے ہیں، پھر بھی مختلف سگنلز سے اس طرح مجموعی طور پر تین چار ہزار روپے اکھٹے ہو ہی جاتے ہیں۔
ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا کے مصداق فالسے، بیر یا چنے ایک مرتبہ خرید لیے جاتے ہیں اور ہفتوں کام آتے ہیں، بس ایک قباحت ہے کہ جمن ایک عام انسان ہیں اور نسیان کی بنا پر کبھی بے موسم کے بیر یا فالسے چھابڑی سے سڑک پر بکھرنے پر پٹ پٹا بھی جاتے ہیں، لیکن امریکا کے بارے میں تمام علما و مشائخ کی متفقہ رائے یہی ہے کہ وہ دجال ہے، اس لیے اپنی کمزوریوں پر باآسانی پردے ڈال لیتا ہے۔ چنانچہ اب اس میں دو رائے نہیں ہونی چاہیے کہ امریکا جمن چھابڑی والے کی تزویراتی گہرائی پر ہی عمل پیرا ہے۔
اس حملے سے قطع نظر ہمارے ہاں عمومی طور پر یہی رائے پائی جاتی ہے کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ نیچی نظریں کیے اور ادھر ادھر کھجائے بغیر آنکھوں میں آنکھیں وغیرہ ڈال کر دلیری کے ساتھ امریکا کو یہ باور کرادیا جائے کہ اب اسے چاہیے کہ وہ ہمارے سامنے ازخود ہی ہتھیار وغیرہ ڈال دے۔
اس لیے کہ ہم تو باز نہیں آئیں گے اور امریکا کو فتح کرکے ہی دَم وغیرہ لیں گے۔ چنانچہ انسانیت کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ ضد نہ کرے اور اپنا سارا انتظام و انصرام بشمول ہالی وڈ کی ہیروئنز کے ہمارے حوالے کردے۔
دیکھیے ناں کہ ہمارے ہاں تو لڑنے مرنے کا جذبہ اس قدر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے کہ خواتین تک اس میں آگے آگے ہیں، ان کی تربیت گھروں میں کوسنے دینے سے شروع ہوتی ہے، اور گلی محلے کی لڑائیوں سے اس جذبے کی آبیاری کی جاتی ہے۔
اور کیلی فورنیا کے اس تازہ ترین حملے کی بات کی جائے تو اس دشنام طرازی پر حیرت ہے کہ معذوروں کے مرکز پر حملہ کیوں کیا گیا؟ممکن ہے کہ اس مرکز کو پارلیمنٹ یا فوجی مستقر سمجھ لیا گیا ہو، ہمارے ہاں تو اس ذہنی سطح کے لوگ ایسی ہی جگہوں پر پائے جاتے ہیں۔
خیر اب بھی وقت نہیں گزرا ہے، پانی سر سے اونچا نہیں ہوا ہے، ابھی قیامت میں کچھ وقت ہے، یہ الگ بات ہے کہ ہمیں اس کی بہت جلدی ہے، ہمارے بس میں ہوتی تو کب کی برپا ہوچکی ہوتی۔ لیکن الحمدللہ ہمارے جذبے پر کوئی شک نہیں کرسکتا۔ لہٰذا امریکا کو ہمارے سامنے مزاحمت نہیں کرنی چاہیے۔
ویسے بھی امریکا جو دنیا کی واحد سپرپاور بن کر اتراتا پھرتا ہے، دنیا بھر کے لوگ اس کی ترقی و کامرانی کی وجہ سائنس و ٹیکنالوجی میں نت نئی ریسرچ کو قرار دیتے ہیں، یہ ان لوگوں کی خام خیالی ہے۔ دراصل ستر کی دہائی میں بالخصوص جماعت اسلامی اور بالعموم دیگر مذہبی جماعتوں کے عقابی نگاہ رکھنے والے بزرگوں نے امریکا کی ترقی و کامرانی کے لیے ایک ٹانگ پر کھڑے ہوکر چلے کاٹے تھے، اور وردو وظائف کیے تھے، یہ انہی کا اثر تھا کہ امریکا آج دنیا کی واحد سپرپاور کے مقام پر فائز ہے۔
بہت سے بزرگ تو امریکی حکمرانوں کو نظرِبد سے محفوظ رکھنے کے لیے دَم کرنے امریکا بھی تشریف لے جایا کرتے تھے، بعد میں دشمنوں نے اڑا دی تھی کہ وہ امریکا سے رقم وصول کرتے ہیں۔ عجیب نامعقول لوگ ہیں کہ ہدیہ شکرانہ کو رقم اینٹھنا قرار دیتے ہیں۔
امریکا نے اگر سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کرلی ہے تو یہ ایسا کوئی کمال نہیں، ہمارے ہاں بھی ہر مرض کا علاج دریافت کرلیا گیا ہے، بلکہ ٹی وی اشتہارات پر دن رات یہ چیلنج کیا جاتا ہے کہ آپ حکیم صاحب کو کچھ نہ بتائیں حکیم صاحب نبض دیکھ کر بتائیں گے کہ کس قسم کا کیڑا ہے، معاف کیجیے گا کس قسم کا مرض لاحق ہے۔
ہمارے ہاں علم غیب میں اس قدر ترقی ہوگئی ہے کہ ہمارے بہت سے غیبی ماہرین کا تعارف امریکی اخبارات میں شایع ہوتا ہے، شادی سے پہلے ہم سے مشورہ کیجیے، ہم ہر عمل کی کاٹ کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ....بعض عاقبت نا اندیش لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ امریکا و یورپ کے اردو اخبارات ہیں جن میں اس قسم کے اشتہارات شایع ہوتے ہیں، اور دوسرے یہ بھی کہ ایسے ماہرین کے والدین کو اپنی شادیوں سے پہلے مشورہ کرلینا چاہیے تھا۔ خیر جلن اور حسد کرنے والے تو کچھ بھی کہتے رہتے ہیں۔
امریکا خلائی سائنس میں ترقی کے دعوے کرتا ہے، یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں، ہمارے ہاں بھی علم ہیئت اور سیارگان میں کافی ترقی ہوگئی ہے، اب تو تمام ٹی وی چینلز کے مارننگ شوز میں ان علوم کے ماہرین لوگوں میں علم بانٹ رہے ہوتے ہیں۔
امریکا ہالی وڈ پر اکڑتا ہے کہ اس کی فلمیں دنیا بھر میں دیکھی جاتی ہیں، جبکہ ہمارے ہاں ٹیلنٹ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، لیکن اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ہم نے کبھی امریکا کی طرح غرور نہیں کیا۔ دیکھیے ناں ہمارے اداکار جان ریمبو کی نقل کرتے کرتے سلویسٹر اسٹیلون کو عالمی شہرت مل گئی.... اور پڑوسی ملک کے ہیرو شاہ رخ خان کو دیکھ کر تو ہمارا کوئی بچہ بھی کہہ دے گا کہ ....اونہہ ! یہ تو ہمارے ساحر لودھی کی کاپی کرتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *