نظریاتی سیاست اور انسانوں کا خواب

wajahatنظریاتی سیاست نے جان ضیق میں کر رکھی ہے ۔ جسے دیکھئے نظریاتی سیاست کا جھنڈا اٹھا رکھا ہے۔ دیکھئے اب ایک نظریاتی گروپ جمعیت علمائے اسلام کا بھی ہے۔ سنا ہے کہ تحریک انصاف میں بھی ایک نظریاتی گروپ بن رہا ہے۔ عمران خان صاحب نے کچھ مہینے قبل فرمایا کہ ”مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا کہ نظریاتی کارکن کون ہے اور کون نہیں“۔ یقینا عمران خان صاحب اپنے کارکنوں کا نظریاتی تشخص بہتر جانتے ہیں ۔ مشکل یہ ہے کہ خود انہوں نے کبھی یہ صراحت نہیں کی کہ ان کا نظریہ کیا ہے۔ ہماری سیاست کے لگے بندھے چند ڈھب تھے۔ ایک سیاست تو یونینسٹ پارٹی کی تھی ۔شہری اور دیہاتی ، ہندو اور مسلم نیز راجپوت اور گجر کی سیاست تھی۔یونینسٹ پارٹی سے موجودہ پاکستان کے خطے میں مسلم لیگ کا اکھوا پھوٹا۔ قیام پاکستان کے بعد نظریاتی سیاست کا پرچم دو گروہوں کے ہاتھ آیا۔ ایک تو تھی جماعت اسلامی ۔ جماعت اسلامی جدید دور کے معاشی اور معاشرتی تقاضوں سے جنم لینے والے سیاسی بندوبست سے منکر تھی۔حکومت الٰہیہ کی داعی تھی۔ نظریاتی سیاست کا دوسرا پرچم کمیونسٹوں کے ہاتھ میں تھا۔ وہ بھی معیشت اور معاشرت کے موجودہ بندوبست سے نالاں تھے اور سیاسی نظام بدلنا چاہتے تھے۔ پچاس کی دہائی میں سرد جنگ کی لہریں ہمارے ساحلوں تک پہنچیں تو جماعت اسلامی اپنی موعودہ الٰہیہ حکومت کے تصور کے ساتھ سرمایہ داروں کے ساتھ جا بیٹھی۔ زرعی اصلاحات کی مخالفت، صنفی مساوات کی مخالفت ، شخصی آزادی کی مخالفت، جمہوریت کی مخالفت ، آجر اور جاگیردار کی حمایت اور تس پر انسانیت کی اصلاح کا دعویٰ۔ اشتراکی بھائیوں نے بھی اپنے دستر خوان پر کچھ ایسی ہی نعمتیں چن رکھی تھیں۔ فرق یہ ہے کہ وہ زرعی اصلاحات کی حمایت کرتے تھے ، محنت کش کے حقوق کی بات کرتے تھے۔ جمہوریت سے وہ بھی سخت برگشتہ تھے۔ اشتراکی سوچ میں ایک گروہ ماسکو نواز تھا او ر دوسرا پیکنگ نواز تھا۔ امریکا بہادر کو جنگ کا علمبردار کہتے تھے۔ ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ او رکرہ¿ ارض کے مختلف منطقوں میں انسانوں کی محکومیت کے لیے کریملن کے دربار میں جو ریشہ دوانیاں ہوتی تھیں اس سے چشم پوشی کرنا اشتراکی بھائیوں کے لیے جزو ایمان تھا۔ اب بزرگوں کا نام کیا لینا ۔1956 ءمیں ہنگری میں ٹینک بھیجے گئے ۔ ہمارے محترم شاعر سے پوچھا گیا کہ حضور اس زور آوری پر رائے دیجئے ۔ فرمایا۔ ’اٹلی کے ایک کامریڈ سے بات ہوئی تھی ۔ان سے معلوم ہوا کہ مقامی حالات ہی کچھ ایسے ہو گئے تھے کہ وہاں فوج کشی ناگزیر ہو گئی تھی‘۔ لدھیانہ کے دل نواز انشا پرداز نے ساٹھ کی دہائی میں چین کا دورہ کیا تو ایک مزے کا سفرنامہ لکھا۔ دو باب لانگ مارچ اور ثقافتی انقلاب پر بھی ارزاں کئے۔ بہت برس گزرنے کے بعد معلوم ہوا کہ لانگ مارچ والا باب تو ایڈگرسنو کی کتاب ’چین پر سرخ ستارہ‘ سے قریب قریب لفظ بہ لفظ ترجمہ کیا ہے۔ خط تنصیف کی دوسری طرف بھی حالات کچھ ایسے ہی تھے۔ مال روڈ سے انار کلی کی طرف مڑتے تو بائیں ہاتھ بائبل سوسائٹی کی تختی لگی تھی اور داہنی طرف یونائٹیڈ پبلشرز کا ادارہ تھا۔ مکتبہ فرینکلن کی کتب یہیں سے شائع ہوتی تھیں اور پھر قریب ہی فٹ پاتھ پر آدھے داموں فروخت ہوتی تھیں۔ امریکا کے یو ایس آئی ایس کا دفتر اگر حافظہ غلطی نہیں کرتا تو ٹمپل روڈ کے قریب تھا۔ سرمایہ داری کے ’نظریاتی ساتھیوں‘ کو اچھی شرح پر ترجمے کے لیے کچھ مواد مل جاتاتھا۔ نظریاتی ساتھی پیپلز پبلشنگ ہاﺅس سے مراد پاتے یا ’چین باتصویر‘ کے لیے ترجمہ کرتے یا یو ایس آئی ایس کے دفتر میں حامد علی خاں صاحب سے رہنمائی لیتے، ہمیں ہر ایک رنگ میں خسارہ بہار تھا۔ نظریاتی سیاست ایک ایسی حویلی تھی جہاں صدر دروازے پر قربانیاں مانگنے والے مجاور کھڑے تھے۔ اگر عقیدت مند قربانی کا بکرا بن گیا تو وہیں صدقہ کر دیا جاتا تھا۔ کامریڈ ایف ڈی منصور بنتا تھا یا مستری صدیق کی طرح پوٹھوہار کی پہاڑیوں میں جان دیتا تھا۔ اگر ضبط سے کام لے کر نظریے کی ڈیوڑھی پار کر جاتا توپو بارہ ہو جاتے۔ حرم سرا کی نعمتوں سے لطف اٹھاتا۔ اشتراکی نصاب کے مطابق جو افسانہ لکھا جاتا وہ اچانک اٹھارہ یا بیس زبانوں میں ترجمہ ہونے کی نوید پاتا تھا۔ ترجموں کی اس نعمت کا معاشی بندوبست دلچسپ تھا مگر سادہ دل نوجوانوں کی عقیدت کے مندر ڈھانا مناسب نہیں۔ امریکا بہادر کی منشا کے مطابق مسودہ تیار کرنے کی شرح معاوضہ بھی پرکشش تھی۔ نسیم حجازی کو بھاری معاوضے پر عربی میں ترجمہ کیا گیا۔ اب تو برادر اسلامی ملک میں سید مودودی کی تصانیف بھی معتوب ٹھہری ہیں۔
ملک عزیز کے مطلع تاباں پر یحییٰ خان صاحب کا نور ظہور ہوا تو سرمایہ دار ی اور اسلام پسندی کی نظریاتی سیاست کو ایک نیا خیمہ مل گیا۔ اسے نظریہ پاکستان کہتے تھے۔ دوسری طرف طالب علموں کی تحریک اور قوم پرست آمریتوں کے ملغوبے سے ایک تنبو کھڑا کیا گیا۔ اشتراکی انقلاب کی سیاست کو پیپلز پارٹی مل گئی۔ ایک فریق کا ہدف مقتدر قوتوں کے ٹینک پر سوار ہو کر جمہوریت کی فصیل مسمار کرنا تھا اور اسے اسلامی انقلاب کہا جا رہا تھا۔ دوسری طرف جمہوریت کے ٹینک پر سوار ہو کر جمہوریت کا مورچہ روندنا تھا اور نظریاتی دعویٰ یہ تھا کہ اشتراکی نظام قائم کرنا ہے۔ دس برس نہیں گزرے تھے کہ دنیا بدل گئی۔ اسلام پسندوں کو ضیاالحق مل گئے ۔ افغان جہاد مل گیا۔ برادر اسلامی ملک نے دست شفقت رکھ دیا۔ مذہب کی نظریاتی سیاست کو اپنی منزل ہاتھ بھر کے فاصلے پر نظر آئی۔ لکیر کے دوسری طرف والوں کی نظریاتی سیاست کا روزہ لمبا ہو گیا۔ ضیاالحق کی آمریت سے ٹکرائے تو سخت گرمی میں جمہوریت کا فرغل پہننا پڑا اور پھر اشتراکی مرکز کے تاروپود بکھرنے لگے۔ سرد جنگ اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی۔سرمایہ دار جیت گئے۔ اشتراکی نظام اپنے گھر ہی میں لاوارث ہو گیا۔ لے پالک کو کون پوچھتا ؟اب تو یہ قصے بھی پرانے ہو گئے ۔ اقبال تیرے عشق نے سب بل دیے نکال۔ بھانت بھانت کے مجاہدین اترے ۔ طالبان آئے ۔القاعدہ آئی۔ ہمیں گاہے گاہے پیغام ملتا رہا کہ اب عشق کے امتحاں ختم ہونے کو ہیں۔ حقیقت یہ تھی کہ ایک دریا کے پار اترے تو ایک اور دریا کا سامنا تھا۔ اس بیچ میں نظریاتی سیاست کو ایک اور نام بھی دیا گیا۔ مشن اسکول تو قومیائے جا چکے تھے۔ اب احسان الٰہی ظہیر کے پیروکاروں کو ان کا مشن مکمل کرنا تھا اور عارف حسینی کے چاہنے والے بھی ایک مشن کا دعویٰ رکھتے تھے۔ ایک مشن جھنگ سے آیا تھا اورضیاالحق کا مشن پورا کرنے کا دعویٰ تو، یادش بخیر، میاں نواز شریف صاحب کو بھی تھا۔ کابل کی مسجد میں نماز پڑھنے کا خواب آسان نہیں۔ اس میں وحید کاکڑ آتے ہیں اور پرویز مشرف سے رسہ کشی کرنا پڑتی ہے۔ ایک میجر مست گل ہوتے ہیں ۔ ایک گل بدین حکمت یار ہوتے ہیں ۔ اب تو گل حمید بھی نہیں رہے۔ تھا میں گلدستہ احباب کی بندش کی گیاہ....
آپ کو تاریخ کے پردے پر نظریاتی سیاست کے عالمی کردار بھی دکھا دیے اور ان کی خانہ ساز صورتیں بھی دکھا دیں۔ بات یہ ہے کہ آئیڈیالوجی کا فلسفہ انیسویں صدی میں پیدا ہوا تھا۔ بنیادی مفروضہ یہ تھا کہ اب تک جو ہوا، وہ سب غلط تھا ۔صدیوں کے ارتقا میں انسانوں نے جو اچھا برا کیا ہے، اسے مٹا دیں گے اور ایک نئی دنیا بنائیں گے۔ نظریے کی سیاست انسانی اجتماع کے نامیاتی ارتقا سے انحراف کا اعلان تھا۔ لمحہ موجود کی ناانصافیوں کو بیک جنبش قلم ختم کر دینے کے تصور میں بہت کشش ہوتی ہے۔ اس لڑائی میں کچھ پیدل سپاہی ہوتے ہیں جو میدان میں کھیت رہتے ہیں اور کچھ رسالے کے سوار ہوتے ہیں۔ منزلوں پر منزلیں مارتے ہیں۔ خواب کا بیوپار کرتے ہیں۔ ناگزیر کو سمجھتے ہیں اور ناگزیر سے انکار کا اعلان کرتے ہیں۔ درویش سوچتا ہے کہ اٹھائیس برس کا لڑکا اور ستائیس برس کی لڑکی کیلی فورنیا کی سڑک پر گولیاں چلاتے ہوئے کیا سوچ رہے تھے۔ چھ ماہ کی ایک بچی کو دادی کے پاس چھوڑ گئے ہیں۔ اگر دادی دس برس اور زندہ رہی تو اس یتیم کو کس نظریے کی وراثت سونپے گی۔ نظریے کے معبد پر دو صدیوں میں ان گنت زندگیوں کی بھینٹ دی جا چکی ہے۔ یہ برندرا بن کے گھنے جنگل ہیں۔یہاں زمین پر سورج کی کرن نہیں پہنچتی۔ انسانوں کے گلے سے ناانصافی اور استحصال کا طوق اتارنے کا دعویٰ کرنے والوں کو نظریے کے سلاسل بھی توڑنا ہوں گے۔ پگڈنڈی شاہراہ نہیں ہوتی اور سیلابی نالہ دریا نہیں ہوتا۔ انسانوں کو امن کی شاہراہ چاہیے اور انصاف کا دریا چاہیے۔ نظریاتی سیاست کا وقت گزر چکا ہے۔

نظریاتی سیاست اور انسانوں کا خواب” پر بصرے

  • دسمبر 7, 2015 at 3:26 PM
    Permalink

    great kaalm .

    Reply
  • دسمبر 7, 2015 at 4:38 PM
    Permalink

    وجاہت مسعود ۔ آپ نے نظریاتی سیاست کے سراب کو نہایت مدلل انداز سے بے نقاب کردیا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم مستعار نظریات کی بھول بھلیوں میں کھوئے ہوئے ہیں جس سی چھٹکارہ ملات نظر نہیں آتا۔ آصف

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *