ہیپی برتھ ڈے قائد!

Yasir Pirzadaآج کل فیشن صرف ظاہری چال ڈھال تک محدود نہیں رہا ،اب ہر وہ شخص فیشن ایبل اور ماڈرن کہلاتا ہے جو قائد اعظم اورعلامہ اقبال کے بارے میں استہزائیہ انداز میں گفتگو کرے اورانہیں ان کے ناموں سے یوں پکارے جیسے وہ بچپن میں ان کے ساتھ گلی ڈنڈا کھیلتے رہے ہوں۔ فیشن ایبل لوگوں کی یہ قسم آج کل مارکیٹ میں بہت ’’اِن‘‘ ہے ،وجہ اس کی یہ ہے کہ قائد کے افکار کے بارے میں جو سوالات یہ لوگ اٹھاتے ہیں ان کا جواب ہماری نصابی کتب دینے سے قاصر ہیںکیونکہ ہماری نصابی کتب ہمیں بتاتی ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھااوراس کا مقصد مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ ملک حاصل کرنا تھا جہاں مسلمان اپنے عقائد کے مطابق زندگیوں کو اسلامی سانچے میں ڈھال سکیں ۔ ایسا سانچا تو اس ملک میں ایجاد نہ ہو سکا جس میں ڈھل کر مسلمان کندن بن سکیںالبتہ ’’کافر وں‘‘ کی کئی قسموں کے سانچے با آسانی اس مملکت خداد اد میں دستیاب ہیں جن میںایک اچھے خاصے مسلمان کوڈھال کر ’’کافر‘‘ بنایا جا سکتا ہے ۔ ان حالات میں جب یہ فیشن ایبل دانشور قائدپر انگلیاں اٹھاتے ہیں تو بہت سے اعتراضات میں ایک یہ بھی کرتے ہیں کہ یہ سب ’’جناح کا کیا دھرا ہے ،اس نے یہ ملک مذہب کی بنیاد پر حاصل کیا ،اب مذہب ہی اس ملک میں تفریق کا سبب ہے، لہٰذا بھگتو۔‘‘ٹھیک ہے جناب ،بھگت لیتے ہیں !
پہلی بات یہ ہے کہ پاکستان کسی مذہبی جنون کی وجہ سے نہیں بلکہ جمہوریت کے ’’خوف‘‘ کی وجہ سے وجود میں آیا۔مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے ایک ہزار سال تک بر صغیر پر حکومت کی (اب بھی ہمیں یہی خوش فہمی ہے حالانکہ حکومت غیر ملکی حملہ آوروں نے کی)اسی لئے مسلمان اپنے آپ کو ان بادشاہوں کے ساتھ نتھی کرکے خوشی محسوس کرتے تھے۔آج ہمیں ان ’’مسلمان ‘‘ بادشاہوں کی بہادری اور جنگ بازی کے قصے پڑھائے جاتے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ محمود غزنوی نے سومنات کا مندر توڑا ،بھئی کیوں توڑا ،کیا ضرورت پیش آ گئی تھی ،کس نے اسے یہ حق دیا تھا،اور پھر اس میںاتنے فخر کی کیا بات؟انہی حرکتوں کی وجہ سے ہندو اپنے آپ کو ان بادشاہوں کی غلام رعایاسمجھتے تھے چنانچہ اس عرصے میں انہوںنے اپنے آپ کو محفوظ بنانے کی غرض سے کاروبار کا ذریعہ اپنایا جس سے وہ ایک mercantile classمیں تبدیل ہوگئے جو مسلمانوں کی فیوڈل کلاس سے ایک قدم آگے تھی۔1857ء کے بعد مسلمانوں میں تین گروہ ابھر کر سامنے آئے ،پہلا وہ جس کی خواہش تھی کہ بر صغیر میں مسلمانوں کا ’’عظیم الشان‘‘ ماضی کسی طریقے سے واپس آ جائے ،دوسرا وہ جنہوں نے انگریز کا بھرپور ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور بدلے میں جاگیریں پائیں ،اور تیسرا گروہ سرسید ،قائد اعظم اور علامہ اقبال جیسے لوگوں پر مشتمل تھا جن کا خیال تھا کہ آنے والا دور جمہوریت کا ہوگا جس میں ہر کسی کو برابری کی بنیاد پر حقوق ملتے ہیں اور چونکہ مسلمان اس تمام عرصے میں اپنی کارناموں کی وجہ سے ہندوئوں سے بے حد پیچھے رہ گئے ہیں اس لئے اگر انہوں نے اپنے حق کے لئے جدو جہد نہ کی تو جمہوریت انہیں کھا جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے ایک پسماندہ اقلیت ہونے کی بنیاد پر انگریزوں سے مطالبات کئے تو وہ مراعات کی شکل میں منظور کر لئے گئے جس پر کانگریس نے سخت اعتراض کیا۔ بعد ازاںیہی مطالبات پاکستان کی بنیاد بنے اور یوں پاکستان جمہوریت کے خوف کی وجہ سے وجود میں آیا نہ کہ مذہبی منافرت کی وجہ سے ۔سیکولر ازم کے نام پر مذہبی منافرت کا شاندار مظاہرہ تو کانگریس نے ان سات صوبوں میں کیا جہاں 1937سے 1939تک اس کی حکومت رہی ،ان کانگریسی وزارتوں نے تو ہندو سیکولرازم کا سارا بھانڈا ہی پھوڑ کر رکھ دیا ،ان صوبوں میں گائے کے ذبح کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ،اسکولوں میں ہندوئوں کی مذہبی دعائیں اور بندے ماترم لازمی قرار پایا اور دفاتر میں ہندی اسکرپٹ نافذ کر دیا گیا۔اس کے بعد بھی یہ الزام کہ قائد نے مذہبی جذبات بھڑکا کر الگ ملک حاصل کیا، ایک خاصی نا معقول دلیل لگتی ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ یہ ملک فقط مسلمانوں کے لئے نہیں بنا تھا ،یہ قرارداد لاہور کے اس مطالبے کی روشنی میں وجود میں آیا جس میں کہا گیا تھا کہ جن علاقوں میں مسلم اکثریت ہے وہاں مسلمانوں کی حکومت ہونی چاہئے ،اس قرارداد میں کہیں بھی کسی مذہبی ریاست کے قیام کا مطالبہ نہیں ۔قرارداد کے مطابق ایسی کئی ریاستیں بن سکتی تھیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی،ان ریاستوں کی کوئی بھی صورت ہو سکتی تھی جیسے کہ کنفیڈریشن،مکمل آزادی ،خود مختار صوبے وغیرہ وغیرہ۔1946ء میں توقائد نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر انہیں صوبائی خود مختاری دے دی جائے جس میں مرکز کے پاس دفاع ،کرنسی اور خارجہ امور کے سوا کوئی محکمہ نہ ہو تو وہ علیحدہ ریاست کے مطالبے سے دستبردار ہو تے ہیں مگر نہرو اینڈ کمپنی نہیں مانی۔اس کی دو وجوہات تھیں ،ایک، کانگریس کو بخوبی اندازہ تھا کہ اگر مسلم لیگ کی مسلم اکثریتی صوبوں میںحکمرانی والی بات مان لی گئی تو گیارہ میں سے پانچ صوبے اس کے ہاتھ سے نکل جائیں گے ،دوسری، ہندوستان کی لیڈر شپ ان دنوں سوشلزم سے بے حد متاثر تھی ،اور سوشلزم میں صوبائی خود مختاری کا کوئی تصور نہیں ،لہٰذا قائد کی یہ بات بھی انہیں ہضم نہیں ہوئی۔ مختصراً یہ کہ قرارداد پاکستان میں کہیں بھی مذہبی ریاست یا زندگیوں کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی بات نہیں کی گئی،جو لوگ یہ بات کرتے ہیں کہ پاکستان مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کے طور پر حاصل کیا گیا تھا وہ اس وقت بھارت کے کروڑوں مسلمانوں کوبھول جاتے ہیں ،کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر برصغیر کے تمام مسلمانوں کا ایک ملک ہوتا مگر ایسا کوئی مطالبہ قائد اعظم کا تھا اور نہ ہی قرار داد لاہور میں اس کا ذکر۔تیسری بات یہ کہ گیارہ اگست کو قائد اعظم نے قانون ساز اسمبلی میں جو تقریر کی اس میں انہوں نے نو زائیدہ ریاست کے بارے میں اپنا ویژن دو ٹوک انداز میں بیان کر دیا ،واضح رہے کہ اس آئین ساز اسمبلی کی صدارت قائد نے ہندو سپیکر جوگندر ناتھ منڈل سے کروائی جبکہ پاکستان کی پہلی کابینہ جو فقط چھ ممبران پر مشتمل تھی،اس میں منڈل صاحب وزیر قانون اور سر ظفر اللہ خان جو ایک اقلیتی فرقے تھے ،وزیر خارجہ مقرر ہوئے ۔یہ کیسی مذہبی ریاست تھی جس کے چھ کابینہ ممبران میں سے دو غیر مسلم تھے ؟جو لوگ قائد اعظم کی دیگر تقاریر کا حوالہ دیتے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیںکہ ایک نوزائیدہ مملکت کی قانون ساز اسمبلی میں بابائے قوم کی تقریر اور باقی مقامات پر کی جانے والی تقاریر کا آپس میں کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔چوتھی بات یہ کہ پاکستانی ریاست میں مذہب کی بنیاد قرارداد مقاصد نے رکھی جسے قائد کے انتقال کے بعد منظور کرایا گیا ،واضح رہے کہ اس وقت ریاست کو وجود میں آئے دو برس گذر چکے تھے ،یہ کیسی ریاست تھی جس کے مقاصد اس کے وجود میں آنے کے بعد بیان کئے جا رہے تھے ؟ جبکہ ریاست تو اس مطالبے کی روشنی میں وجود میں آئی تھی جو قائد اعظم اور ان کے ساتھیوں نے 1940میں لاہور کے مینار پاکستان میں کیا تھا!
پانچویں اور آخری بات یہ کہ پاکستان ایک جمہوری جدو جہد کے نتیجے میں وجود میں آیا ،خود قائد اعظم سے بڑا جمہوریت پسند اور قانون پسند کوئی نہیں گذرا ،سو اگر آج پاکستان کے عوام اس ملک کو ووٹ کی طاقت سے مذہبی ریاست بنانا چاہتے ہیں توسو بسم اللہ ،گھوڑا بھی حاضر اور میدان بھی ،لیکن اگر پاکستان کے عوام وہ چاہتے ہیں جو قائد نے11اگست کی تقریر میں فرمایا تو بھی ووٹ ہی کے ذریعے اسے نافذ کیا جانا چاہئے ،کوئی لبرل طالع آزما یا مسلح مذہبی گروہ ہمیں نہ بتائے کہ پاکستان کا مطلب کیا ہے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *