عوام کا حق رائے دہی اور ’اس کی رضا ‘

razi uddin raziکچھ دن خوب رونق رہی گلی محلوں میں ۔ کہیں عمران کے گیت تھے تو کہیں میاں کے نعرے وج رہے تھے ۔ آج بلدیاتی الیکشن کے آخری مرحلے میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں ۔ بے چارے ووٹر نا حق اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے ۔ دن بھر خوب میلہ لگے گا ۔ تبصرے ہوں گے لال بجھکڑ چینلوں پر بھانت بھانت کی بولیاںبولیں گے ۔ قرائن تو یہی بتاتے ہیں کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن اپنی کامیابیوں کی ہیٹ ٹرک مکمل کر لے گی اور کہنے والے کہتے ہیں کہ نواز شریف بلدیاتی الیکشن جیتنے کے بعد مزید مضبوط ہو جائیں گے لیکن ہمارے ہاں کوئی سیاسی جماعت اور حکمران بھلا کتنا مضبوط ہوتا ہے یا مضبوط ہو سکتا ہے اس بارے میں کم از کم ہمیں تو کوئی خوش فہمی نہیں ۔ کسی اور کے لئے ایسا کوئی دعویٰ یا خوش فہمی تو اس کی فہم و فراست کا معاملہ ہو گا ۔ اصل حکمرانوں کی موجودگی میںمنتخب نمائندوں کی کیا حیثیت ہے؟ اس کی تازہ مثال شرجیل میمن کی سبکدوشی ہے ۔ شرجیل میمن کا قصور تو بس اتنا تھا کہ انہوں نے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں اصل حکمرانوں کے روبرو گستاخی کی تھی ۔بس یہی کہا تھا ناں کہ حضور امن و امان کی صورت حال پر غور کے لئے بلائے گئے اجلاس میں کرپشن کی کہانیاں زیر بحث نہ لائیں ان معاملات سے منتخب حکومت خود نمٹ لے گی ۔ بھری بزم میں ایسی بات مناسب بھی کب تھی۔ سو ناگوار گزری اور ایسی ناگوار گزری کہ اگلے ہی اجلاس میں شرجیل میمن کو وزارت سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا گیا۔ سندھ حکومت نے کچھ مزاحمت بھی کی لیکن انجام وہی ہوا جو اس گستاخی کا ہونا چاہئے تھا۔
شرجیل میمن پہلے تو ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور پھر وزارت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ منتخب حکمرانوں کو ان کی اوقات یاد دلا دی گئی ۔آج کے انتخابات میں نواز شریف کی پارٹی کامیاب بھی ہو گئی تو اس سے بھلا کیا فرق پڑے گا ´ ۔ ہونا تو وہی ہے ’جو اس کی رضا، جو وہ چاہے‘۔ ہونا تو وہی ہے جو انہوں نے سوچ رکھا ہے جوسوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ایسے میں اگر کچھ حلقوں میں چودھری نثار علی خان کو نواز شریف کا متبادل قرار دیا جا رہا ہے تو اس پر بھی حیران ہونے کی ضرورت نہیں یہاں کوئی بھی کسی کا متبادل قرار دیا جا سکتا ہے ۔ کیا فرق پڑتا ہے بھلا عوام کے ووٹوں سے ۔ سو ہم تو یہی کہیں گے کہ لوگ آج بھی اپنا حق رائے دہی ’نا حق‘ استعمال کریں گے۔ ہونا وہی ہے جو سوچنے والوں نے پہلے سوچ رکھا ہے کہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت وہی رکھتے ہیں ۔ اور پھر اپنے کہے پر عمل درآمد کرانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *