اللہ سب کو صحت کاملہ عطا کرے، آمین!

tariqدوپہر کو جو کھانا پکتا وہ عموماً دوپہر کو ہی ختم ہو جایا کرتا، ہم چھ بہن بھائی تھے اور اس کے علاوہ ایک دو افراد گاﺅں سے آئے ہی رہتے۔ ایک چچا مستقل ہمارے ساتھ تھے۔ امی عموماً دو سبزیاں ملا کر پکاتیں۔ بینگن اور گھیا، آلو مٹر .... کبھی ان میں تیسری سبزی کا اضافہ بھی ہو جاتا جیسے آلو مٹر گاجریں .... آلو میتھی .... آلو کی بھرجی .... خاص خاص سبزیاں الگ سے پکائی جاتیں۔ چنانچہ بھنڈی یا کریلے .... ہفتے میں ایک دو بار عیاشی ہو جاتی۔ جب آلو قیمہ یا آلو مٹر پک جائے۔ چھوٹے گوشت کی باری بھی آجاتی۔ چنانچہ عموماً آلو گوشت یا پھر شلغم گوشت یا بینگن گوشت .... ہر سبزی میں کبھی نہ کبھی گوشت کی باری آجاتی۔ لیکن ہمیں کھانے کو صرف ایک بوٹی ملتی۔ شوربہ البتہ اتنا ضرور مل جاتا جس سے ہم تین بھائی تین تین چار چار روٹیاں کھا جاتے۔ بھوک زیادہ ہوتی تو روٹیوں کی تعداد بڑھ کر پانچ پر بھی چلی جاتی۔
ماں گرم گرم روٹیاں توے سے اتارتی اور ہم روٹی کو آپس میں بانٹ لیتے اور دوبارہ توے کی جانب دیکھنے لگتے۔ دوسری بوٹی تو خیر کیا ملنا تھی کئی بار شوربہ بھی مشکل سے ملتا۔ ہم نے کچھ دیر بعد پلیٹ آگے کر دینی، ماں نے جھڑکنا اور تھوڑی سی سبزی یا شوربہ مزید ڈال دینا۔ چھوٹے بھائی نے اکثر ضد کر کے ایک اور بوٹی لے ہی لینی جبکہ ہم نے اپنی ایک بوٹی کو توڑ توڑ کر ہر نوالے کے ساتھ یوں کھانا کہ تین چار روٹیاں کھائی ہی جائیں۔ آخر وہ نوبت آجاتی کہ جس چمٹے سے امی روٹیاں سینک رہی ہوتیں، اسی چمٹے سے ہمارا ہاتھ یا کندھا سینک کر باورچی خانے سے باہر کا راستہ دکھاتیں ۔ ہم سارے بہن بھائی تقریباً ایک جیسے ہی تھے۔ مل کر باورچی خانے میں ہی بیٹھ کر کھانا کھاتے اور گپیں لگاتے۔
جیسے میں نے پہلے کہا، دوپہر کا کھانا عموماً دوپہر کو ہی ختم ہو جاتا، رات کا کھانا اس سے بھی زیادہ سادہ ہوتا۔ دال چاول یا پھر کھچڑی.... کھچڑی کے ساتھ کبھی دہی اور کبھی دودھ .... ہم یہ دودھ کھچڑی پر ڈالتے اور چمچ سے کھاتے۔ دال چاول ہاتھ سے کھایا کرتے .... کبھی کبھی رات کے کھانے میں بھی گوشت پک جاتا۔ سری پائے اور چاول کی باری مہینے میں ایک بار آجاتی اور کبھی کبھار پلاﺅ وغیرہ بھی بن جاتا۔ ہم سب بہن بھائی یوں تو لاہور میں پیدا ہوئے، وہیں پل بڑھ کر جوان ہوئے اور تعلیم بھی لاہور میں ہی حاصل کی لیکن ہمارے گھر کا ماحول دیہاتی تھا۔ میرے ددھیال گاﺅں کے تھے جبکہ ننھیال اندرون لاہور کے تھے۔ کھلا ڈلا پنجابی ماحول.... آٹا اور چاول گاﺅں سے آجاتا۔ امی گندم صاف کر کے واپس بوریوں میں ڈال دیتیں اور ہم میں سے کوئی ایک بھائی یہ گندم پسوا لاتا۔ عموماً ایسے کام مجھے ہی کرنے پڑتے۔ میں درمیان والا بھائی تھا۔ چنانچہ چھوٹا بھائی انکار کر دیتا اور بڑے بھائی کا احترام ہوتا۔ آٹے اور چاول کی فراوانی تھی سو ہمارے کھانے پر کوئی پابندی نہ تھی چنانچہ گندم کا آٹا اور چاول ہی کھا کر بڑے ہوئے۔
رات کو جو سالن اور چاول بچ جاتے ان پر سب کی نظر ہوتی، جو صبح پہلے اٹھتا، وہ کھا پی جاتا۔ امی پراٹھے بناتیں اور ہم کبھی رات کے بچے ہوئے سالن اور کبھی چائے میں ڈبو کر کھاتے۔ گھر میں مرغیاں پال رکھی تھیں چنانچہ انڈوں کی کوئی کمی نہ تھی۔ جب پتہ چلا، انڈے بلڈ پریشر کرتے ہیں، تب جا کر ہاتھ کو ہلکا کیا ۔ کئی بار تو ایسا ہوا کہ کچا انڈہ ہی توڑ کر پی گئے۔ البتہ مرغی ہمارے گھر تب پکتی جب کوئی مرغی بیمار ہوتی اور یا پھر ہم سے کوئی بیمار ہوتا، مرغی کو ذبح کرنا بھی میری ذمہ داری تھی اور گوشت بنانا بھی۔ البتہ بوٹی حصے میں پھر بھی ایک ہی آتی، یہ نہیں تھا کہ ہم غریب تھے، والد صاحب سرکاری افسر تھے لیکن پڑھنے والے اور کھانے والے چھ سے آٹھ ہوتے۔ اوپر سے مکان بنا بیٹھے تھے۔ یہ مکان آخر تک زیر تعمیر ہی رہا اور ہم نے اسی گھر میں ہی اپنی زندگی کے تیس تیس چالیس چالیس سال گزار دیے۔ لیکن اس میں لکڑی کا کام کبھی مکمل نہ ہو سکا۔
گرمیوں میں رات کو چھت پر سوتے، زیادہ گرمی ہوتی تو بستر کی چادر کو گیلا کر لیتے اور زیادہ گرمی ہوتی تو اپنے کرتوں کو بھی بھگو لیتے اور گھومنے والا پنکھا لگا لیتے جیسے ایئر کنڈیشنڈ لگ گیا ہو، جب تک چادر سوکھتی، ہم سو چکے ہوتے۔ گرمیوں کی ان فسوں بھری راتوں میں چاند تاروں سے پکی دوستی تھی اور ہم نے آسمان پر مختلف مقامات پر تاروں کی پوزیشن کو دیکھ رکھا تھا۔ رات کو کبھی آنکھ کھلتی تو ستاروں کی پوزیشن ہمیں بتا دیتی، یہ رات کا کون سا پہر ہے۔ رات کو سونے سے پہلے عموماً کہیں دور سے ریڈیو رنگون پر چلتے مدھر بھرے اداس گانوں کی آواز آتی اور ہم بہن بھائی یہ گانے سنتے، باتیں کرتے نیند کی آغوش میں چلے جاتے۔
ہمارے مرحوم والد نے اے سی ایم اے کر رکھا تھا لیکن وہ انتہائی سادہ اور درویش صفت انسان تھے۔ گھر میں عموماً دھوتی پہن کر رکھتے اور اوپر بنیان .... ہم بھائیوں نے دھوتی تو کبھی نہیں باندھی البتہ پاجامے یا شلوار کے اوپر صرف بنیان ہی پہنتے۔ آخر خاندانی پرم پرا بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ جب بڑی بہن کی شادی کی تو ہمارے ڈاکٹر بہنوئی نے ہم پر بنیان پہننے پر پابندی لگا دی اور قمیض کا اضافہ کر دیا۔ وہ الگ بات کہ ایک سال کے اندر اندر ہی کنگ ایڈورڈ کا یہ گریجویٹ بھی ہمارے ساتھ صرف بنیان میں بیٹھا فالودہ کھا پی رہا تھا اور دل کھول کر قہقہے لگا رہا تھا۔
دونوں چھوٹی بہنیں ڈاکٹر بن گئیں اور وہ بھی اپنے اپنے گھروں کو سدھار گئیں۔ سب سے چھوٹی بہن بیاہ کر انگلستان آگئی جہاں اس کے میاں بھی ڈاکٹر تھے۔ ہماری یہ بہن بڑی پیاری، سادہ اور محبت کرنے والی تھی۔ سب سے چھوٹی اور سب سے زیادہ دل والی اور محبت کی بڑی.... گھر کے کام بچپن میں ہی سیکھ لیے تھے اور چپاتیاں بڑے مزے کی پکاتی۔ بڑی باجی نے ہم پر بہت پابندیاں لگا رکھی تھیں۔ خاص طور پر جب گھر کی صفائی ہو جاتی تو پھر کچھ دیر کے لیے ہمارا اندر جانا منع ہو جاتا۔ البتہ چھوٹی بہن ان باتوں سے مبرا تھی۔ اسے گود میں اٹھا کر میں نے بڑا کیا۔ انگلی پکڑ کر سکول لے کر گیا اور موٹر سائیکل پر میڈیکل کالج چھوڑنے اور لانے کا بلاناغہ پانچ سال فرض ادا کیا۔ منجھلی بہن کے ساتھ بھی محبت کا یہی رشتہ رہا۔ پندرہ سال قبل جب والدین فوت ہوئے تو ہم چھ بہن بھائیوں کا آپس میں اور گہرا تعلق بن گیا اور پچھلے دس سالوںسے میں برطانیہ میں ہوں اور ہم دونوں بہن بھائی قریب قریب ہی رہتے ہیں۔ دکھ سکھ، غمی خوشی اور پیار محبت کے رشتے .... ایک ہی ماں کے جائے۔
چند مہینوں سے طبیعت بہت بوجھل ہے، دل پر گھبراہٹ چھائی رہتی ہے، پریشانی اور فکر مندی نے ذہن کو دھندلا دیا ہے، ایک انجانا سا خوف دل و دماغ سے چمٹا رہتا ہے۔ میں بنیادی طور پر ایک پرامید اور خوش مزاج آدمی ہوں۔
رات کو نیند نہیں آتی تو اپنی پوری زندگی ایک فلم کی مانند چلنا شروع ہو جاتی ہے، پتہ نہیں کہاں شروع .... کہاں ختم ....!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *