کراچی کے شہریوں کا  رینجرز کے خلاف ووٹ

 jamil khan  پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں اس وقت جشن منایا جارہا ہے۔ آج فضا میں نمی کا تناسب بہت زیادہ تھا، اور دن میں گرمی بھی محسوس ہوتی رہی، لیکن سیاسی گرماگرمی کی حدت کہیں زیادہ تھی۔ بلدیاتی انتخابات کے کیمپوں میں ہی نہیں گلی گلی نوجوان پُرجوش دکھائی دیتے تھے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق شہر کے بیشتر حصوں میں  ایم کیو ایم کو جبکہ ضلع ملیر میں پیپلزپارٹی کو برتری حاصل ہے۔ یہ شاید انتخابی گرماگرمی تھی کہ اس وقت رات گئے بھی یہاں کمرے کا پنکھا اپنی پوری رفتار سے چل رہا ہے، حالانکہ پورا ملک سردی کی لپیٹ میں ہے۔

کراچی کو استنبول بنانے کے دعوے دار باریش و بے ریش بزرگوں نے اس شہر کے عوام کو نصیحت کی تھی  کہ وہ بھتہ خوروں اور دہشت گردوں کو ووٹ نہ دیں، لیکن کراچی کے باسیوں نے ان کی نصیحتوں پر کان نہیں دھرے، اب کھسیانی بلی کھمبا وغیرہ نوچے کے مصداق کہا جارہا ہے کہ جس نے ایم کیو ایم کو ووٹ دیا، اس کو شرم آنی چاہیے۔ یہاں یہ حقیقت ذہن نشین رہے کہ کراچی میں رینجرز کی نگرانی میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے۔ صاف دکھائی دے رہا تھا کہ ایم کیو ایم کو سیاسی میدان میں پیچھے دھکیلنے کے لیے جانبداری سے کام لیا جارہا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو مانا جاسکتا تھا کہ ایم کیو ایم کو کامیابی دلوانے کے لیے دھاندلی سے کام لیا گیا۔ یہ درست ہے کہ ایم کیو ایم کا ریکارڈ صاف نہیں ہے، لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کس جماعت کا ریکارڈ صاف ہے؟ خود ریاستی اداروں کی بدمعاشیوں سے ہم آئے دن پریشان رہتے ہیں۔ لیکن انصاف کا تقاضہ تو یہی ہے کہ ملزم پر لگائے گئے الزامات کو جب تک عدالت میں ثابت نہیں کردیا جاتا اس کو قانونی طور پر مجرم نہیں لکھا جاسکتا۔ پچھلے کئی مہینوں سے کراچی کے شہریوں کو وجہ بتائے بغیر اٹھایا گیا ہے، اور ان کے اہلخانہ کو اب تک علم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں؟ کس حال میں ہیں؟ اور زندہ بھی ہیں کہ نہیں؟ میرے اپنے ایک بہت ہی مہربان دوست کے قریبی عزیز عیدالاضحیٰ سے قبل لاپتہ ہیں۔ یہ اور ان جیسے بہت سے لوگ ہیں، جنہیں ایم کیو ایم سے تعلق یا پھر محض ہمدردی رکھنے پر اغوا کرکے غائب کردیا گیا۔ ان تمام کارروائیوں کا مقصد یہی تھا کہ ایم کیو ایم کی کمر توڑ دی جائے۔ علاوہ ازیں مذہبی جماعتوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی کہ وہ جو چاہے کرتی پھریں۔ بحیثیت لکھاری میرا فرض ہے کہ میں غیرجانبدار رہوں، اور میں کوشش بھی کرتا ہوں۔ یہاں میں یہ بھی واضح کردوں کہ مجھے ایم کیو ایم کی پالیسیوں سے شدید اختلاف ہے۔ لیکن پچھلے ایک مہینے سے میں یہ بھی دیکھ رہا تھا کہ ایم کیو ایم کے انتخابی دفاتر پر چھاپے مارے جارہے ہیں، کبھی دفتر کھلا ہے تو کبھی بند ہے۔ جبکہ جماعت اسلامی اور اس کی بغل بچہ تنظیم حقیقی کے کارکن بلاروک ٹوک کام کرتے دکھائی دیے۔

تاہم آج پولنگ کے دن ایسےلوگ ایم کیو ایم کے لیے کام کرتے نظر آئے جو اس کے کارکن نہیں تھے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں پنجابی، کشمیری، پٹھان اور بلوچ بھی شامل تھے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ کراچی کے شہریوں نے ایم کیو ایم کے حق میں ووٹ نہیں دیا، بلکہ رینجرز کی مخالفت میں  ووٹ کاسٹ کیے  ہیں۔ دراصل اس شہر کے لوگ 90 کی دہائی میں ہونے والی رینجرز گردی کو فراموش نہیں کرسکے ہیں۔  وہ دور بھی عجیب دور تھا کہ جب اس شہر میں متوسط طبقے کے نوجوانوں پر پابندی تھی کہ وہ کاٹن کے کلف لگے ہوئے شلوار قمیض اور  جینز کی پینٹ نہیں پہن کر گھر سے باہر نہیں نکل سکتے۔ آئے دن کسی بھی علاقے کو محاصرے میں لے لیا جاتا تھا۔ پھر اس علاقے کے تمام گھروں میں موجود مردوں کو اکھٹا کرکے کسی بڑے میدان میں لے جایا جاتا۔ وہاں ان کی شناختی پریڈ کرائی جاتی۔ سخت گرمی کے دنوں میں سارا سارا دن دھوپ میں کھڑے رہنے کی اذیت کو کون بھلاسکتا ہے۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ شناختی پریڈ کے لیے مجرموں کی طرح پکڑ ے جانے والوں میں سارے ہی دودھ کے دھلے ہوتے تھے، ہوسکتا ہے کہ ان میں کوئی ایک مجرم بھی ہو، لیکن اکثریت پڑھے لکھے شریف لوگوں کی ہوا کرتی تھی۔ یہی نہیں رینجرز کے سپاہی گھروں کی تلاشی لیتے ہوئے بستر، گدے اور کپڑے تک اُدھیڑ دیا کرتے تھے۔ بلڈنگوں پر تعینات سپاہی دوربینوں کے ذریعے گھروں کی پرائیویسی کو پامال کیا کرتے تھے۔ چوکیوں پر تعینات رینجرز کے سپاہی آج بھی آنے جانے والی خواتین کے متعلق آپس میں جس طرح کے جملوں کا تبادلہ کرتے ہیں، وہ ان کی اجڈ ذہنیت کی واضح عکاسی کرتے ہیں، اور اس سے یہ بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ ان کے ذہنوں میں شہر کے لوگوں کے بارے میں کس قسم کے تصورات پائے جاتے ہیں، یا کس قسم کے تصورات نقش کیے گئے ہیں۔ کراچی میں فوجی آپریشن میں جب سے شدت آئی ہے، ڈکیتیوں، لوٹ مار کے واقعات اور قتل و غارتگری میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ کہا یہ جاتا ہے کہ یہ آپریشن جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی اور دہشت گردی کے واقعات پر قابو پانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ سب ہی جانتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے جسد میں ایک فوجی آمر پرویز مشرف نے نئی روح پھونکی تھی، آج پھر فوجی نابغوں اور ان نابغوں کے تسمے باندھنے والوں نے اس کو نئے سرے سے زندہ کردیا ہے۔

آج میں نے خود دیکھا ہے کہ ایسے نوجوان اور ادھیڑ عمر کے افراد جو نہ تو ایم کیو ایم کے رکن رہے تھے اور نہ وہ کبھی چاہیں گے کہ ان کے گھر یا خاندان کا کوئی فرد ایم کیو ایم کی تنظیمی رکنیت حاصل کرے، لیکن ان لوگوں نے ایم کیو ایم کے لیے انتخابی کیمپ قائم کیے، ان کا سارا انتظام و انصرام سنبھالا، اور دوپہر سے ہی جشن منانے کی تیاری شروع کردی، جب رات کو علاقے کے پولنگ اسٹیشنوں سے جیت کی تصدیق ہونے لگی تو بڑے بڑے اسپیکرز پر پُرجوش نغمے بجاکر رقص بھی کیا۔ یاد رہے کہ میں نے جو دیکھا، وہ بیان کر رہا ہوں، اور میں نے جن لوگوں کا تذکرہ کیا ہے،  وہ کوئی آزاد خیال لوگ نہیں ہیں۔ یہ بھی سخت اور کٹر قسم کے مذہبی افراد ہیں۔ ان میں اکثر باریش اور پنج وقتہ نمازی ہیں۔ دراصل یہ لوگ اس مذہبی بیانیے کے خلاف ہیں، جس کی جماعت اسلامی علمبردار ہے، اور جس کی غلاظت پر پی ٹی آئی ڈھکن لگاتی آئی ہے۔ یہ وہی بیانیہ ہے جس کی سرپرستی ریاستی ادارے فوجی آمر ضیاءالحق کے دور سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ اسی مذہبی بیانیے کے زیرِ سایہ ہی طالبان کے عفریت کی تشکیل ہوئی اور دہشت و وحشت کی اس  مہیب آندھی نے دیکھتے ہی دیکھتے تقریباً پوری دنیا کو ہی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

کراچی کے شہریوں کا  رینجرز کے خلاف ووٹ” پر بصرے

  • دسمبر 6, 2015 at 5:00 PM
    Permalink

    آنکھیں کھول دینے والی حقائق پر مبنی تحریر کا یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ اور اس کے حواریوں کے لیے یہ آخری موقع ہے کہ ہوش کے ناخن لیتے ہوئے سیاست دانوں کو بدنام کرنے اور دیوار سے لگانے کی کوششیں ترک کر دیں۔ ورنہ اسٹبلشمنٹ کی نالائقیوں کے نتئجے میں بگڑنے والے حالات کو سنبھالنا شاید کسی کے بس میں نہ رہے۔

    Reply
  • دسمبر 6, 2015 at 7:39 PM
    Permalink

    mujhy to bus itna kehna hy k MQM ne he operation operation pukara tha aur Ab Mazlom bhi wohe

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *