خود پسندی اور تعصب

بابر ستارbabar sattar

ہماری قومی اسمبلی نے عبدالقادر ملاء کی پھانسی کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کر لیا جو کہ بنگلا دیشی شہری تھے جن پر بنگلہ دیشی قانون کے تحت مقدمہ چلایا گیا اوروہاں کے سپریم کورٹ سے نظر ثانی کی اپیل مسترد ہونے کے بعد ان کو سزا دی گئی۔ اس قرار داد میں بنگلہ دیش کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ 1971ء کے مسئلے کو پھر سے زندہ کرنے کے بجائے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے کارکنان اور رہنماؤں پر دائر کیے گئے تمام مقدمات ختم کیے جائیں۔
اس سے ہم نے یہ ظاہر کر دیا کہ ہم خود پسندی اور تعصب کا شکار ہیں اور کسی بھی صورت مشرقی پاکستان کے ساتھ کیے گئے زیادتیوں پر معافی مانگنے کے لیے تیار نہیں۔تین تاریخی سچائیاں اب سامنے آگئی ہیں ۔ایک یہ کہ ہم نے آزادی سے لیکر بنگلہ دیش کی علیحدگی تک وہاں کے لوگوں کے ساتھ بہت برا سلوک روا رکھاجس کی وجہ سے اکثریتی آبادی اقلیت سے آزادی لینے پر مجبور ہو گئی۔دوسرا،چاہے وہ عوامی لیگ کے کارکن ہوں یا بھارتی حمایت یافتہ مکتی باہنی، فوج میں شامل بنگالی ہوں یاوہ نیم فوجی دستے اور پولیس فورس جو بغاوت میں حصہ لیا، سب نے بہاریوں اور غیر بنگالیوں خصوصاََ پاکستان فوج اور ان کے خاندان کا وحشیانہ انداز میں قتل عام کیا۔تیسری بات یہ کہ پاکستانی فوج اور غیر سرکاری مسلح گروہ جو بنگال میں حکومت کی رٹ قائم کرنے میں مصروف تھے،نے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا۔
اگر ہم غور کریں کہ مشرقی پاکستان میں قتل عام پاک فوج اور مکتی باہنی میں سے پہلے کس نے شروع کیا تو ہم اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ وہ متعصبانہ ذہنیت جو اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے 56فیصد آبادی کو ملک سے علیحدگی لینے پر مجبور کیا ، ابھی تک فروغ پذیرہے۔یہ ہمارے ملک کے لیے ایک المیہ ہے اس لیے نہیں کہ اسمبلی میں قرار داد منظور ہونے سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے سفارتی تعلقات متاثر ہونگے بلکہ اس لیے کہ وہی لوگ اب بلوچستان میں آگ لگانے اور وہاں کے نوجوانوں کو غائب کرنے میں ملوث ہیں۔
اگر کسی ملک کے شہری حکومت کے خلاف یا اسی ملک کے کسی دوسرے شہری کے خلاف تشدد پر اتر آئے تو کیا حکومت کو بھی اس طرح کے رد عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے جیسا وہ لوگ کر رہے ہوتے ہیں۔1971ء میں مشرقی پاکستان میں لوٹ مار کا ذکر کرتے ہوئے حمود الرحمن کمیشن میں لکھا گیا ہے کہ جنرل اے اے کے نیازی نے مشرقی پاکستان کا کمانڈ سنبھالنے کے بعد فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ فوجیوں کو راشن کی قلت کا سامنا ہے ۔ کیا اس ملک میں کوئی گائے یا بکری نہیں ملتی ؟ یہ دشمن کا علاقہ ہے یہاں آپ جو چاہیں لے سکتے ہیں ۔
جنرل نیازی ( جو مشرقی پاکستان کے قصاب کے نام سے مشہور ہے) نے حمود الرحمان کمیشن کے سامنے اس بات کا اعتراف کیا کہ بنگالیوں کے خلاف شدید جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کمانڈ سنبھالنے کے چوتھے روز ہی حکم دیا تھا کہ لوٹ مار،قتل عام اور تشدد بند کیا جائے۔
ایک اور گواہ لفٹیننٹ منصورالحق نے کمیشن کو بتایا کہ جس کسی پر بھی مکتی باہنی یا عوامی لیگ کے کارکن ہونے کا شک ہوتا تھا تو بنا کسی عدالتی کاروائی اور تحریری حکم نامے کے اس کو مار دینے کا حکم دیاجاتا تھا۔
بریگیڈیئر کرار علی آغا نے بہت اچھے انداز میں وہ واقعات قلمند کیے ہیں جو بنگلہ دیش بننے کے موجب بنے جس میں بنگالی علیحدگی پسند اور پاک فوج دونوں کے جرائم کو افشا کیا گیا ہے۔بنگالیوں کی طرف سے کی گئی کاروائیوں کے بعد پاکسانی فوج کی انتقامی کاروائیوں کی کہانیاں دل دہلا دینے والی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ کئی آفیسرزکو اس کام پر تعینات کیا گیا تھا کہ وہ رات کو کسی بھی گھر میں چھاپہ ماریں اور کوئی خوبصورت لڑکی مل جائے تو اٹھا کرلے آئیں۔اس طرح کا ایک رپورٹ ایسٹ پاکستان رائفلز کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کرنل فضل حمید کے کانوں تک پہنچی توانہوں نے صرف اتنا کہا کہ اس قسم کے حالات میں زنا بالجبر تو سمجھ آنے والی بات ہے لیکن غیر فطری تعلق قائم کرنا شرمناک ہے۔آغا ایک فوجی میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ 30دسمبر 1970ء کو ایک میٹنگ کے دوران جب انہوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان میں فوجی کاروائی کی صورت میں (ای پی آر) میں شامل بنگالی نوجوانوں کی بغاوت کو خطرہ ہے تو بریگیڈیئر غلام جیلانی خان( بعد میں گورنر پنجاب ) خالص پنجابی میں ان کو ماں بہن کی گالی دینے لگے ۔اگر بنگالیوں نے ریاست کے خلاف بغاوت کی تھی تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ ان کے وقار اور بنیادی حقوق کو پامال کیا جائے؟
بنگالیوں کے اشتعال انگیزی کے مقابلے میں میں پاکستان نے اپنے مشرقی صوبے کے ساتھ جو کچھ کیا وہ ناقابل معافی ہے۔ ملاء کی پھانسی کے خلاف پاکستان کا موقف غلط ہے کیونکہ ہم اخلاقی طور پر اتنے صاف اور معصوم نہیں ہیں کہ ہم ملاء قادر کے سزا پر اپنی رائے دے سکیں۔ ملاء کو پاکستان کے ساتھ محبت کے جرم میں پھانسی نہیں دی گئی بلکہ اپنے بنگالیوں کے قتل عام اور زِنا کے جرم کی سزا دی گئی ۔ہماری قومی غیرت اور انصاف پسندی اس وقت کہاں تھا جب 1971ء میں اپنے شہریوں کا ہی قتل عام کیا گیا۔
بنگالیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہاتھوں کو لیکر ہم کس منہ سے بنگلہ دیش کو نیلسن منڈیلہ کی پیروی کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔بنگلہ دیش نے کسی پاکستانی کو پھانسی نہیں دی جبکہ اپنے ہی شہری کو سزا دی ۔آیا ملاء نے کوئی جرم کیا تھا یا ان سے بدلہ لیا گیا یہ بنگلہ دیش اور وہاں کے لوگوں کا معاملہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ کسی اور خودمختار ملک کے نظام انصاف کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے اپنے ملک میں ماورائے عدالت قتل اور لوگوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانے پر توجہ دیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *