کراچی میں رینجرز کو توسیع نہ دینا تشویش ناک معاملہ ہے: چودھری نثار

ch nisarوزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ سندھ میں رینجرز کو قانونی کور نہ دینے کا معاملہ تشویش ناک ہے ، اگر صوبائی حکومت نے رینجرز کی تعیناتی میں توسیع نہ کی تو انہیں واپس بلا لیں گے ، صوبہ میں رینجرز کی تعیناتی میں توسیع کا معاملہ پیر کو وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت کراچی میں اجلاس میں اٹھائیں گے ، عمران فاروق قتل کیس سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں، یہ ریاستی معاملہ ہے اور مجرموں کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے آخری حد تک جائیں گے ، پاکستان کیلی فورنیا واقعہ کی تحقیقات میں ہر ممکنہ قانونی معاونت کرے گا۔ انہوں نے یہ باتیں پنجاب ہاﺅس میں پریس کانفرنس اور بعد ازاں صحافیوں کے ایک گروپ سے غیر رسمی گفتگو میں کہیں۔ وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ سندھ میں رینجرز اچھا کام کر رہی ہے ، رینجرز کی تعیناتی کی مدت کے حوالے سے 2 بار سندھ حکومت کو آگاہ کیا گیا، لیکن صوبائی حکومت نے آمادگی نہیں دکھائی،سندھ میں رینجرز کے قیام میں توسیع کرنا ہو گی، ہم لیگل کور کے بغیر رینجرز کو سندھ حکومت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔ چوہدری نثار نے کہا کہ عمران فاروق قتل کیس پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں پاکستان میں ایف آئی آر درج کی گئی، کیس آئین اور قانون کے مطابق چلے گا اور اس حوالے سے نئی جے آئی ٹی بھی بنائی جائے گی، جو کیس کی مزید تحقیقات کرے گی، کسی بھی مقدمے کی مدعی حکومت نہیں ریاست ہوتی ہے ، اس لیے اس کیس کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے ، عمران فاروق قتل کیس کے کئی مراحل سے وزیر اعظم بھی لاعلم تھے اور اب تک میں نے بھی جے آئی ٹی رپورٹ نہیں پڑھی، اگر جے آئی ٹی نے مقدمہ درج کرنے کی تجویز دی ہے ، تو نامزد ملزمان مجرم نہیں ہو گئے ، بلکہ ابھی اس کی تفتیش ہونا باقی ہے اور فیصلہ عدالت کو کرنا ہے ، جبکہ ایف آئی آر درج کرنے کا وقت ایف آئی اے نے خود طے کیا، کہا گیا کہ انتخابات کے موقع پر ایف آئی آر درج کر کے ایم کیو ایم کو نقصان پہنچایا گیا، اگر الیکشن سے 2 دن قبل ایف آئی آر درج ہوتی تو شور کیا جاتا کہ کراچی میں ایم کیو ایم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، اگر الیکشن قریب قریب ختم ہوتے وقت خبر لیک ہو گئی تو اس میں بد نیتی کہاں سے آگئی؟ تاہم مقدمہ درج کرنے کی ٹائمنگ ایف آئی اے نے خود طے کی، ہم نے باقاعدہ برطانیہ کے ادارے کو اعتماد میں لیا اور بتایا کہ گرفتار ملزموں کے دوسرے ریمانڈ کا وقت ختم ہو رہا ہے اور ہمیں کوئی فیصلہ لینا ہے اور پھر آخر کار یہ فیصلہ کیا گیا، ڈاکٹر عمران فاروق بین الاقوامی قتل کیس کے علاوہ انوکھا کیس ہے ، جس کے ملزم پاکستان سے پکڑے گئے اور اس کی سازش یہاں تیار ہوئی، جبکہ پاکستان سے ہی مالی معاونت ہوئی، لیکن واقعہ لندن میں رونما ہوا، اس کیس میں پاکستانی سیکیورٹی اداروں اور اسکاٹ لینڈ یارڈ کے درمیان تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا، جبکہ کسی نے ممبئی حملہ کیس پر اعتراض نہیں اٹھایا کہ وہ کیس یہاں کیوں چل رہا ہے ؟ وزیر داخلہ نے کہا کہ دنیا بھر میں اسلام فوبیا پھیلایا جا رہا ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جو کچھ دہشت گرد کرتے ہیں شاید یہی اسلام ہے ، مذہب کا نام استعمال کر کے اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، پاکستان کیلی فورنیا واقعہ کے مذمت کرتا ہے ، حملے میں ملوث خاتون تاشفین ملک 23 سال قبل پاکستان کے علاقے ڈیرہ غازی خان سے سعودی عرب منتقل ہو گئی تھی، جہاں اس نے سکونت اختیار کی اور پھر وہیں شادی کی، جس کے بعد وہ امریکا چلی گئی، کسی ایک شخص کی غلطی یا زیادتی کی وجہ سے نہ تو خاص قومیت، مذہب اور ملک کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے اور نہ اس کا الزام ڈیڑھ ارب مسلمانوں پر لگایا جا سکتا ہے ، تاہم امریکی انتظامیہ نے اس پر ذمہ دارانہ رویہ اپنایا ہے ، کیلی فورنیا واقعہ سے متعلق امریکی حکام کو مکمل تعاون کی یقین دہائی کرائی ہے ، اگر کسی قسم کی مدد کو کہا گیا تو وہ فراہم کریں گے۔ چوہدری نثار نے کیلی فورنیا واقعہ کے بعد وزیر اعظم نواز شریف یا وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے امریکی وفد کی ملاقات کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور برطانوی میڈیا کی یہ بے بنیاد خبر ہے ، وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملنے کا کوئی جواز ہے اور نہ کوئی منطق، اس قسم کی خبریں نشر کرنے کے پیچھے ایک مقصد ہے ، اس لیے میڈیا اس قسم کی خبریں نشر کرنے سے پہلے تصدیق کر لیا کرے۔ تاشفین کی لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کیساتھ ملاقاتوں کی رپورٹس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ مولانا عبدالعزیز کیساتھ خاتون کی تصاویر جعلی ہیں، اس معاملے پر ہمارے بعض پڑوسی ممالک سے ہمارے خلاف پراپیگنڈا مہم چلائی جا رہی ہے ، تاکہ ہمیں بدنام کیا جا سکے ، لیکن ہم ایسی کوئی مہم کامیاب نہیں ہونے دیں گے ، تاشفین ملک کے حوالے سے پاکستان میں کچھ ہے ہی نہیں، اس کا شوہر کبھی پاکستان آیا ہی نہیں، اس معاملے میں ہمارے پاس کچھ چھپانے یا بتانے کیلئے نہیں ہے ، تاشفین آخری مرتبہ 2013 میں پاکستان آئی، اسے امریکی ویزا کہاں سے جاری ہوا؟ یہ معلومات تو امریکی سفارتخانہ ہی بتا سکتا ہے کہ آیا ویزا اسلام آباد سے ، ریاض سے یا پھر واشنگٹن سے جاری ہوا؟ ان کا کہنا تھا کہ تارکین وطن کے معاملے پر یورپی یونین کے بیان سے اتفاق نہیں، پاکستانیوں کو بے دخل کرنے کیلئے دہشت گردی کا الزام لگایا جاتا ہے ، یونان سے بے دخل کئے گئے ان افراد کو لے لیا گیا، جو اپنی شناخت کرانے میں کامیاب رہے اور دیگر لوگوں کو واپس بھیج دیا اور آئندہ بھی بغیر ثبوت کے بے دخل کیے گئے افراد کو قبول نہیں کریں گے ،انسانی سمگلرز کیخلاف بھی کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور کوئی جتنا مرضی بااثر سمگلر ہو اسے نہیں چھوڑا جائیگا، جبکہ ہیومن ٹریفکرز کی فہرستیں میڈیا کے ذریعے عام کی جائیں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *