جن لوگوں نے ٹربیونل کے احکامات نہیں مانے وہ اگلے پارٹی الیکشن کے لیے نا اہل ہیں، جسٹس ر وجیہہ الدین

اکستان تjustice wajihحریکِ انصاف کے الیکشن ٹربیونل کے ہیڈ جسٹس ر وجیہہ الدین احمد نے عمراں خان کو ایک خط لکھا اور اُن کو یاد دہانی کروائی کہ ٹربیونل کے فیصلے پر ابھی تک عملدرامد نہیں ہو سکا۔ وجیہہ الدین کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے احکامات کے باوجود 18 مارچ 2015 کے بعد اپنے دفاتر بند نہیں کیے وہ تمام عہداداران اگلے پارٹی الیکشن کے لیے نا اہل ہو چکے ہیں۔ نا اہل قرار دیے جانے والوں میں علیم خان، علی امین گنڈاپور، علی اصغر خان، علی محمد، علی زیدی، امیر محمود کیانی، امین اسلم ، عندلیب عباس، اسد قیصر، اسد عمر، عاطف خان، اعظم سواتی، چودھری سرور، عارف علوی، شیریں مزاری، اعجاز چودھری، فیصل جاوید خان، فوزیہ قصوری، غلام سرور خان ، حفیظ الدین، حامد خان، خورشید محمود قصوری، ہمایوں جوگزئی، عمران اسماعیل، عمران خان نیازی، اسحاق خاکوانی، جہانگیر ترین، خالد مسعود، منصور سرور، میاں محمود الرشید، مفتی سعید ، منّظا حسن، مراد سعید، نادر لغاری، نیمل حق، نیک محمد، نجیب ہارون، نور خان بابا، پرویز خٹک، قاسم خان سوری، رائے حسن نواز، سیف اللہ نیازی، ثمر علی خان، سردار اظہر طارق، شفقت محمود، شاہ فرمان، شاہ محمود قریشی، شہزاد وسیم، سہیل کمریال، سید فردوس شمیم نقوی، سیدہ سلونی بخاری، طارق شفیع، واجد بخاری، یعقوب اظہار اور یاسمین راشد شامل ہیں۔
جسٹس وجیہ الدین نے بھ پارٹی قیادت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ پارٹی نے اپنا نظریہ چھوڑ دیا ہے اور اجنبی پارٹی کلچر اپنا لیا ہے جس کی وجہ دوسری پارٹی کے ٹھکرائے لوگوں کو اپنی پارٹی میں جگہ دینا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *